عبدالقادر،عمران خان اورضیاالحق

آصف باجوہ صاحب نے مجھے یاد کروایا کہ شیخ صاحب 1987ء کے ورلڈکپ ہارنے کے بعدآپ نے عمران خان کا خصوصی انٹرویو کیا تھا جو بہت زیادہ مشہور ہوا تھا وہ واقعہ بھی لکھیں۔ میں نے ان سے وعدہ کیا کہ میں اس کے بارے میں ضرور لکھوں گا۔1987ء کا ورلڈکپ کرکٹ ٹورنامنٹ کہاں ہوگا؟اس کے بارے میں پوری دنیا میں قیاس آرائیاں جاری تھیں۔ کیونکہ اس سے قبل تین ٹورنامنٹ مسلسل انگلینڈ میں ہو چکے تھے۔ 1975, 1979, 1983ء کا ورلڈکپ، اب باری تھی 1987ء کے ورلڈکپ کی۔پورے پاکستان میں ورلڈکپ کے ساتھ ہلا گلا مچا ہوا تھا۔ میں نے اسی ہلے گلے میں شرکت کرتے ہوئے اپنے اخبار میں جتنے بھی نجومی تھی، طوطا فال نکالے والے تھے، پیش گوئیاں کرنے والے تھے سب کو میں نے جنگ فور م میں جمع کرلیا۔ وہ سب جنگ فورم میں آئے۔ ان سے کئی سوالات ہوئے۔ ان میں سے بیشتر کی رائے یہ تھی کہ پاکستان فائنل کھیل رہا ہے۔ کچھ کہہ رہے تھے کہ سیمی فائنل کھیل رہا ہے۔ کوئی کہہ رہا تھا کہ پاکستان کی بلند پرواز ہے۔ کوئی بھی نجومی فائنل سے کم رکنے پر آمادہ نہیں تھا۔ وہ پاکستانی ٹیم کو بھارت سے سرخرو کرکے پاکستان لا رہا تھا۔ایک نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ میں دیکھ رہا ہوں کہ صدر پاکستان کا خصوصی طیارہ بھارت جائے گا اور پاکستان کی فاتح ٹیم کو خصوصی طیارے میں اسلام آباد میں لایا جائے گا اور اسی وقت تمام کھلاڑیوں کو خصوصی تقریب میں نشان پاکستان بھی دیا جائے گا اور پانچ پانچ کروڑ روپے بھی دیئے جائیں گے۔ واضح رہے کہ نشان پاکستان سب سے بڑا سول ایوارڈ ہے اور یہ آج تک ایک ہی سویلین سپورٹس مین شہباز سینئر کو دیا گیا۔ ان کو مسلسل دس سال مین آف دی ٹورنامنٹ کو ایوارڈ حاصل کرنے پر دیا گیا تھا۔ سب نجومیوں نے ساری پاکستانی ٹیم کو اسلام آباد کی خاص تقریب میں نشان پاکستان دلوادیا تھا لیکن وہ ٹائیں ٹائیں فش ہوگیا۔

پاکستان اور بھارت کے کرکٹ بورڈ 1985ء کے ایک انٹرنیشنل کونسل کی ایگزیکٹو کمیٹی کے اجلاس منعقدہ لندن میں پوری تیاری کے ساتھ شریک ہوئے اور انہوں نے بھارت کے ساتھ مل کر ورلڈکپ ٹورنامنٹ کو انگلینڈ سے نکالنے کا منصوبہ بنایا۔ 1975, 1979,1983ء کے ورلڈکپ انگلینڈ میں ہوئے تھے اور انگلینڈکا خیال تھا کہ ورلڈکپ پر ان کی اجارہ داری تھی اور اس کو کوئی دوسرا ملک توڑ نہیں سکے گا۔پاکستان اور بھارت کرکٹ کے آرگنائزر نے مل کر۔ پاکستان کی نمائندگی کرنل رفیع نسیم اور لیفٹیننٹ جنرل غلام صفدر بٹ نے کی ظاہر ہے ان کے نیچے ورکنگ کمیٹی بہت سارے ٹیکنیکل لوگوں پر مشتمل تھی۔ انہوں نے آکر تو ورکنگ شروع کردی جب ورکنگ مکمل ہوگئی تو میں نے کرنل رفیع نسیم ریٹائرڈ کو جنگ فور م میں بلایا اور تمام تفصیلات حاصل کیں کہ کونسی ٹیم کو کیا ملے گا۔ بھارت کو کیا ملے گا اور پاکستان کا کیا حصہ ہے۔ اسی وقت ایک اور پس پردہ بات کا انکشاف ہوا کہ بھارت کی ایک بہت بڑی کمپنی ہندوجا انشورنس نے سب سے زیادہ کوشش کرکے یہ ٹورنامنٹ کی سپانسر شپ اس کا نام ہندوجاورلڈکپ رکھنا چاہتی تھی لیکن پاکستان کی نمائندگی کرنے والے ڈٹ گئے کہ اس کا نام ہندوجا ہے اور یہ نام کسی صورت قبول نہیں ہوگا۔ پاکستانی اور مسلمان اس ٹورنامنٹ کا بائیکاٹ کردیں گے۔ اس طرح 1987ء میں ہندوجا کمپنی سے اس ٹورنامنٹ کو بچایا گیا۔

بہرحال جنگ فورم میں یہ سب کچھ چھپ گیا اور پوری دنیا کو پتہ چل گیا۔ ایک غیرملکی نیوز ایجسی نے یہ تمام نوٹس لیے یعنی پاکستان اور بھارت کے تخمینے وغیرہ اور وہ ریلیز کردیئے۔ ٹورنامنٹ شروع ہوگیا پاکستان کی اڑان اچھی تھی مگر پٹرول کم تھا۔ تیاری کم تھی۔عمران خان نے ٹورنامنٹ شروع ہونے سے پہلے یہ کہنا شروع کردیا تھا کہ فلاں ٹیم کے خلاف ہم اپنی وکٹوں کو دیکھ کر یہ حکمت عملی بنائیں گے۔ فلاں کے خلاف ہم یہ حکمت عملی بنائیں گے۔ویسٹ انڈیز کے خلاف یہ حکمت عملی بنائیں گے۔آسٹریلیا کو ہم اس طرح کھیلیں گے۔ سری لنکا کو ہم اس طرح کھیلیں گے۔ عمران اس طرح کی باتیں کر رہے تھے کہ میں یہ کردوں گا یہ کردوں گا لیکن جب اصلی چیمپئن آسٹریلیا کی باری آئی تو اس نے عمران خان کی ٹیم کا باجابجا دیا اور عمران خان کے منصوبے دھرے کے دھر ے رہ گئے۔ ہمارے سارے نجیومیوں کی پیشن گوئیاں دھری کی دھری رہ گئی اور آسٹریلوی ٹیم پاکستان کے پہلوانوں کو لیٹے ہوئے چھوڑ کر دہلی پرواز کرگئی جہاں سے انہیں بمبئی جانا تھا۔ قذافی سٹیڈیم میں باجا بج گیا پاکستانی کھلاڑی سارے تتر بتر ہوگئے۔ عمران خان اپنے گھر میں جا کر چھپ گیا بلکہ اپنے دوستوں کے گھرو ں میں آتا جاتا رہا اور وہ نہ پاکستانی اخبار نویس کو نہ غیرملکی کو کوئی انٹرویو بھی نہیں دے رہا تھا۔

ٹورنامنٹ ختم ہونے سے چند دن قبل میں نے اپنا کلر پیج تیار کروا رہا تھا کہ تو میں نے ایک اخبار نویس سے پوچھا کہ عمران خان کہاں ہے۔ تو مجھے پتہ چلا کہ وہ کسی سے نہیں ملتا۔ گالیاں نکالتا ہے اگر کوئی تنگ کرے تو اس پر کتا چھوڑ دیتا ہے۔ بہرحال جی میں نے فون کیا۔ حسب معمول اکرام اللہ نیازی نے فون اٹھایا۔ میں نے کہا کہ میں شاہد شیخ بول رہا ہوں۔عمران خان سے ملنا ہے۔ عمران خان کا پیار سے نام ایمی ہے میں نے کہا ایمی سے ملنا ہے انہوں نے کہاآجاؤ۔میں چلا گیا اور مجھے ڈرائنگ روم میں بٹھایا گیا۔ 15 منٹ بعد عمران خان آیا۔ میں نے اپنا سونی کا کیسٹ ریکارڈ ہاف سپیڈ پر چلا دیا۔ تاکہ وہ ایک گھنٹے کی بجائے دو گھنٹے کی ریکارڈنگ کر سکے۔عمران خان نے کرکٹ میں جوئے پر گفتگو کے حوالے سے فلاں کرکٹر کا کردار، فلاں کرکٹر کا کردار تقریباً پونا گھنٹے آف دی ریکارڈ گفتگو کی۔ میں نے کہا عمران یہ تو گفتگو ریکارڈ ہو رہی ہے یہ ساری آپ نے آف دی ریکارڈ ڈیکلیئر کردی ہے۔ چلیں اس کے علم میں آگیا کہ گفتگو ریکارڈ ہو رہی ہے۔ اس کے بعد سوا گھنٹے کی گفتگو ریکارڈ پر آئی میں نے انٹرویو کیا اور ایڈیٹر سے آکر بات کی۔ ایڈیٹر نے اسی وقت ایمرجنسی لگا دی دو تین ڈیپارٹمنٹ میں تاکہ کام جلدی ہو سکے۔ کمپویٹر سیکشن، کاپی پیسٹنگ سیکشن، فوٹو گرافر ہر طرف ایمرجنسی۔ میں دو دو صفحے لکھ کر کمپیوٹر میں بھیجتا تھا۔ پروف ریڈر پروف ریڈینگ کرتا تھا۔ قصہ مختصر میں نے دو تین گھنٹے میں 45 صفحے کا ایک آرٹیکل مکمل کرلیا۔ میں نے ایک نظر دیکھا اس کے لیے تصاویر کا انتخاب کیا اور پورے صفحے کا کلر پیج سپیشل چھاپ دیا۔ پہلے سے بنا ہوا کلر پیج ضائع کردیا گیا۔ جس اگلے دن ہفتے والے دن وہ مارکیٹ گیا توآسٹریلیا کے خلاف ہارنے اور ورلڈکپ سے آؤٹ ہونے کے بعد عمران خان کا وہ پہلا کوئی اخباری انٹرویو تھا۔ وہ پرچا ہاتھوں ہاتھ بکا لوگ جنگ کے دفتر سے مشین سے پیپر اٹھا کر لے گئے ہاکر تمام اخبار لے گئے۔

انٹرنیشنل نیوز ایجنسیوں، بی بی سی،سی این این، وی او اے وغیرہ نے میرے اخبار سے عمران خان کی تمام باتیں نقل کی اور ان کو ترجمہ کرکے پوری دنیا میں پھیلا دیا۔ اس کے علاوہ جرمن ریڈیو ڈوئشے ویلے کے شہناز شیخ حسین نے میرا نام لے کر اس انٹرویو کے اقتباسات شائع کیا۔۔ میرے لیے بہت بڑا اعزاز تھا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ہمارے گروپ ممبر آصف باجوہ اخبار میں ایمرجنسی کا مطلب جانتے ہیں۔جنگ کا کلر ایڈیشن جو ہفتے کی صبح جو روزنامہ جنگ لاہور کے ساتھ شائع ہوا اس میں سے عمران خان سے انٹرویو کی کاپی پورے پاکستان کے اخبارات نے نقل کی اور اگلے دن پورے پاکستان کے اخبارات نے شائع کی۔ جنگ میں ہی شائع ہونے والے انٹرویوکے اقتباسات کو انٹرویو کی شکل دے کر ایک بار پھر جنگ کے ہی فرنٹ پیج پر تین کالم کے ساتھ شائع کیا گیا جو کہ میرے لیے ایک بہت بڑا اعزاز ت…

عمران خان کے بلند وبانگ دعوؤں کے بعدآسٹریلیا سے ہارنے کے بعد عبدالقادر اور عمران خان کے چہرے لٹکے ہوئے ہیں۔ عمران خان کے چہرے پر ایک شرمندہ سی مسکراہٹ ہے اور ضیاء الحق عمران خان کو تسلی دے رہے ہیں۔ انہی تھپکیوں نے عمران خان کا دماغ خراب کردیا تھا۔ عبدالقادر کو مین آف دی ٹورنامنٹ کا ایوارڈ دیا گیا عبدالقادر نے صدر ضیاء الحق کو خصوصی فرمائش کی کہ ان کا ایوارڈ عمران خان کو دے دیا جائے۔
it was best performance award in group B matches