اسلام آباد (نامہ نگار/ایجنسیاں) عمران خان کی نجی اسپتال منتقلی کے معاملے پر ان کی بہن عظمیٰ خان کی جانب سے دائر توہینِ عدالت کی درخواست سپریم کورٹ میں 16 ستمبر کو سماعت کیلئےمقرر کر دی گئی۔
سپریم کورٹ نے 14 ستمبر سے شروع ہونے والے عدالتی ہفتے کا روسٹر جاری کر دیا ہے۔ 16 ستمبر کے روسٹر کے مطابق درخواست کی سماعت بینچ نمبر 5 کرے گا، جس میں جسٹس شاہد وحید، جسٹس نعیم اختر افغان اور جسٹس اشتیاق ابراہیم شامل ہیں۔
ذرائع کے مطابق عظمیٰ خان کی جانب سے درخواست کی جلد سماعت کی استدعا بھی کی گئی تھی، تاہم سپریم کورٹ نے یہ استدعا مسترد کرتے ہوئے درخواست کو 16 ستمبر کو مرکزی مقدمے کے ساتھ سماعت کیلئے مقرر کر دیا۔
یہ توہینِ عدالت کی درخواست سپریم کورٹ کے 18 اگست 2026 کے حکم کی مبینہ خلاف ورزی پر دائر کی گئی ہے۔ عدالت نے 18 اگست کو بانی پی ٹی آئی کو علاج کیلئےشفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کرنے اور وہاں طبی نگرانی کی ہدایت کی تھی۔
تاہم بانی پی ٹی آئی کو شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کرنے کے بجائے پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) لے جایا گیا، جہاں مختصر طبی معائنے کے بعد انہیں دوبارہ اڈیالہ جیل منتقل کر دیا گیا۔ تحریک انصاف نے مؤقف اختیار کیا کہ یہ اقدام سپریم کورٹ کے حکم کی خلاف ورزی ہے، جس پر توہینِ عدالت کی کارروائی کی استدعا کی گئی۔
درخواست عزیر بھنڈاری اور سلمان اکرم راجا کے ذریعے دائر کی گئی، جس میں متعلقہ حکام کے خلاف توہینِ عدالت کی کارروائی، شوکاز نوٹس جاری کرنے اور عدالت کے حکم پر عمل درآمد یقینی بنانے کی استدعا کی گئی۔
بعد ازاں سپریم کورٹ کے رجسٹرار آفس نے درخواست پر اعتراضات عائد کیے تھے۔ پی ٹی آئی کی جانب سے اعتراضات دور کرکے درخواست دوبارہ دائر کی گئی، جس کے بعد اسے نمبر الاٹ کر دیا گیا۔
دوسری جانب وفاقی حکومت نے بھی بانی پی ٹی آئی کو نجی اسپتال منتقل کرنے کے سپریم کورٹ کے 18 اگست کے حکم کے خلاف نظرِثانی کی درخواست دائر کی ہے اور مؤقف اختیار کیا ہے کہ ان کا طبی معائنہ سرکاری اسپتال میں کرایا جانا چاہیے۔
یوں بانی پی ٹی آئی کی اسپتال منتقلی، عدالتی حکم پر عمل درآمد اور حکومت کی نظرِثانی درخواست سے متعلق معاملات بھی 16 ستمبر کی سماعت میں اہمیت اختیار کر گئے ہیں۔

