پیرس(فرانسیسی حکومت، غیر ملکی میڈیا)فرانس نے ملک میں مسلسل کم ہوتی شرحِ پیدائش کے پیشِ نظر والدین کیلئےتنخواہ سمیت اضافی چھٹی کا نیا قانون نافذ کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔صدر ایمانوئل میکرون کی حکومت کی جانب سے متعارف کرائے گئے نئے قانون کے تحت ماں اور باپ دونوں کو موجودہ چھٹیوں کے علاوہ ایک یا دو ماہ کی اضافی والدینی چھٹی مشترکہ طور پر استعمال کرنے کی اجازت ہوگی۔
قانون کے مطابق اضافی چھٹی کے پہلے ماہ کے دوران والدین کو ان کی مجموعی تنخواہ کا 70 فیصد جبکہ دوسرے ماہ میں 60 فیصد ادا کیا جائے گا۔یہ سہولت یکم جنوری 2026ء یا اس کے بعد پیدا ہونے والے بچوں کے والدین کے لیے دستیاب ہوگی، جبکہ بچوں کو گود لینے والے والدین بھی اس اسکیم سے فائدہ اٹھا سکیں گے۔
اس سے قبل فرانس میں پہلے بچے کی پیدائش پر ماؤں کو تقریباً چار ماہ کی تنخواہ سمیت زچگی کی چھٹی جبکہ والد کو 28 روز کی تنخواہ سمیت چھٹی دی جاتی تھی۔صدر ایمانوئل میکرون نے 2024ء میں شرحِ پیدائش میں مسلسل کمی اور بانجھ پن کے بڑھتے مسائل سے نمٹنے کے لیے ایک جامع منصوبے کا اعلان کیا تھا، جس کا مقصد ملک میں آبادی کے توازن کو بہتر بنانا ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ سال دوسری جنگِ عظیم کے بعد پہلی مرتبہ فرانس میں پیدا ہونے والے بچوں کی تعداد ملک میں ہونے والی اموات سے کم رہی۔دوسری جانب خواتین کے حقوق کیلئےکام کرنے والی بعض تنظیموں نے ان اصلاحات کو ناکافی قرار دیتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ ان اقدامات سے صنفی مساوات میں نمایاں بہتری آنے کا امکان نہیں۔

