لاہور،کلکتہ اورتقسیمِ ہند کی سرحدوں کا حیران کن باب

برصغیر کی تقسیم 1947ء کے ان تاریخی واقعات میں شامل ہے جن کے اثرات آج بھی پاکستان اور بھارت کی سیاست، جغرافیہ اور معاشرت پر نمایاں ہیں۔ تقسیم کے دوران کھینچی جانے والی سرحد نے نہ صرف دو نئی ریاستوں کو جنم دیا بلکہ لاہور، کلکتہ، گورداسپور، فیروزپور اور دیگر کئی اہم علاقوں کے مستقبل کا بھی فیصلہ کردیا۔

اس پورے عمل میں سب سے اہم کردار برطانوی قانون دان سر سیریل ریڈکلف کا تھا، جنہیں پنجاب اور بنگال کی تقسیمکیلئے قائم باؤنڈری کمیشن کا سربراہ مقرر کیا گیا۔ ریڈکلف اس سے قبل برطانیہ میں ممتاز قانونی منصب پر فائز رہ چکے تھے، تاہم انہیں ہندوستان کے بارے میں عملی جغرافیائی اور سیاسی تجربہ حاصل نہیں تھا۔

تقسیمِ ہند کے وقت ان کے سامنے ایک ایسا کام تھا جس کے نتائج کروڑوں انسانوں کی زندگیوں پر مرتب ہونے تھے، مگر انہیں یہ کام مکمل کرنے کیلئے انتہائی مختصر وقت دیا گیا۔

لاہور کا معاملہ تقسیمِ ہند کی تاریخ کا ایک انتہائی دلچسپ اور متنازع باب ہے۔1971ء میں معروف بھارتی صحافی کلدیپ نائر نے لندن میں سر سیریل ریڈکلف سے ملاقات کی۔ بعد میں اپنی کتاب اور تحریروں میں کلدیپ نائر نے ریڈکلف سے منسوب کرتے ہوئے بتایا کہ ریڈکلف نے ابتدا میں لاہور کو بھارت کے حوالے کرنے پر غور کیا تھا۔

ریڈکلف کے مطابق مسئلہ یہ تھا کہ اگر لاہور بھی بھارت کو دے دیا جاتا تو پاکستان کے مغربی حصے کے پاس کوئی بڑا اور ترقی یافتہ شہری مرکز باقی نہیں رہتا۔ کلکتہ پہلے ہی بھارت کے حصے میں جا رہا تھا اور لاہور بھی بھارت کو دینے کی صورت میں پاکستان ایک بڑے شہری اور معاشی مرکز سے محروم ہوجاتا۔

یہاں یہ بات واضح رہنی چاہیے کہ لاہور کو بھارت دینے کا کوئی باقاعدہ ابتدائی سرکاری فیصلہ سامنے نہیں آیا جسے بعد میں تبدیل کیا گیا ہو۔ یہ تفصیل بنیادی طور پر 1971ء میں کلدیپ نائر کے ساتھ ریڈکلف کی گفتگو سے سامنے آتی ہے۔

1941ء کی مردم شماری کے مطابق لاہور ضلع میں مسلمانوں کو مجموعی آبادی میں اکثریت حاصل تھی، اگرچہ لاہور شہر میں ہندو اور سکھ برادریاں کاروبار، تجارت اور جائیداد کے اعتبار سے خاصی مضبوط تھیں۔

لاہور اس وقت بھی پنجاب کا ایک اہم انتظامی، تعلیمی، تجارتی اور ثقافتی مرکز تھا۔ اگر یہ شہر بھارت میں شامل کردیا جاتا تو مغربی پاکستان ایک ایک بڑے شہری مرکز کا خلا پیدا ہوجاتا۔اسی تناظر میں ریڈکلف کے بعد کے بیان کو دیکھا جاتا ہے کہ پاکستان کیلئے لاہور کی اہمیت ان کے فیصلے میں ایک اہم عنصر بنی۔

کلکتہ کا معاملہ بھی لاہور سے کسی حد تک مختلف مگر اتنا ہی اہم تھا۔کلکتہ برطانوی ہندوستان کے بڑے صنعتی، تجارتی اور بندرگاہی مراکز میں شمار ہوتا تھا۔ 1947ء میں بنگال کی تقسیم کے وقت یہ سوال انتہائی اہم تھا کہ کلکتہ کس ریاست کے حصے میں جائے گا۔

کلکتہ شہر میں ہندو آبادی واضح اکثریت میں تھی، جبکہ شہر کی صنعتی اور تجارتی سرگرمیاں بھی مغربی بنگال کے وسیع علاقے سے گہرا تعلق رکھتی تھیں۔ چنانچہ کلکتہ بھارت کے حصے میں چلا گیا۔اس فیصلے کے نتیجے میں مشرقی بنگال اپنے سب سے بڑے معاشی مرکز سے محروم ہوگیا۔ مشرقی بنگال، جو بعد میں مشرقی پاکستان بنا، کیلئے ڈھاکہ کو دارالحکومت بنایا گیا۔

عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ تقسیمِ ہند میں جہاں مسلمانوں کی اکثریت تھی وہ علاقہ پاکستان اور جہاں ہندو اکثریت تھی وہ بھارت کو دے دیا گیا، لیکن حقیقت اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ تھی۔سر سیریل ریڈکلف کو مذہبی اکثریتی علاقوں کے ساتھ ساتھ دیگر جغرافیائی، انتظامی، معاشی اور مواصلاتی عوامل کو بھی مدنظر رکھنا تھا۔پنجاب کی تقسیم میں نہری نظام، ریلوے لائنیں، سڑکیں، بجلی کے نظام اور انتظامی روابط بھی اہم مسائل تھے۔

خاص طور پر پنجاب کا نہری نظام دونوں جانب پھیلا ہوا تھا۔ ایک علاقے کا پانی دوسرے علاقے کی زمینوں کیلئے ضروری تھا۔ ریڈکلف نے بھی اپنے ایوارڈ میں اس مسئلے کی اہمیت کو تسلیم کیا اور مستقبل میں دونوں ممالک کے درمیان معاہدوں کی ضرورت کی نشاندہی کی۔

گورداسپور بھی ان علاقوں میں شامل تھا جن کے فیصلے نے بعد کی تاریخ پر گہرے اثرات مرتب کیے۔ ریڈکلف ایوارڈ کے مطابق گورداسپور ضلع کی شکرگڑھ تحصیل پاکستان میں شامل ہوئی جبکہ گورداسپور، بٹالہ اور پٹھان کوٹ تحصیلیں بھارت کے حصے میں آئیں۔گورداسپور کے فیصلے کی اہمیت اسلئےبھی زیادہ تھی کہ بھارت کو کشمیر کی جانب زمینی رابطہ حاصل ہوگیا۔اسی وجہ سے گورداسپور آج بھی تقسیمِ ہند کے متنازع فیصلوں پر ہونے والی بحث میں خاص مقام رکھتا ہے۔

پنجاب میں فیروزپور بھی ایک اہم متنازع علاقہ تھا۔ سرحدی فیصلوں کے دوران ایسے کئی علاقے زیر بحث آئے جہاں آبادی کا مذہبی تناسب، نہری نظام، ریلوے اور انتظامی روابط ایک دوسرے سے جڑے ہوئے تھے۔یہی وجہ تھی کہ ریڈکلف لائن کئی مقامات پر ایسی لکیر بن گئی جس نے صرف مذہبی اکثریت کے بجائے جغرافیائی اور انتظامی حقائق کو بھی سامنے رکھا۔

بنگال میں چٹاگانگ ہل ٹریکٹس بھی ایک غیر معمولی مثال ہے۔اس علاقے میں غیر مسلم قبائلی آبادی نمایاں تھی، اس کے باوجود یہ علاقہ مشرقی پاکستان میں شامل کیا گیا۔ اس فیصلے میں علاقے کے جغرافیائی اور معاشی روابط، خصوصاً چٹاگانگ بندرگاہ سے تعلق کو بھی اہمیت حاصل تھی۔یہ مثال اس بات کو مزید واضح کرتی ہے کہ تقسیم کے فیصلے محض مردم شماری کے مذہبی اعداد و شمار پر منحصر نہیں تھے۔

سر سیریل ریڈکلف جولائی 1947ء میں ہندوستان پہنچے اور انہیں پنجاب اور بنگال کی سرحد متعین کرنے کا کام سونپا گیا۔وقت انتہائی کم تھا۔ انہیں ایسے علاقوں کے بارے میں فیصلے کرنے تھے جہاں صدیوں سے آباد بستیاں، مشترکہ نہری نظام، ریلوے، سڑکیں، کاروباری مراکز اور مذہبی اعتبار سے ملی جلی آبادی موجود تھی۔بعد میں ریڈکلف نے کلدیپ نائر سے گفتگو میں وقت کی شدید کمی کا ذکر کیا۔ ان کے مطابق اگر انہیں زیادہ وقت دیا جاتا تو وہ شاید مختلف انداز میں کام کرسکتے تھے۔یوں ایک ایسے شخص کو، جس نے اس سے پہلے ہندوستان میں عملی طور پر کام نہیں کیا تھا، چند ہفتوں کے اندر کروڑوں لوگوں کے مستقبل سے متعلق فیصلے کرنا پڑے۔

ایک اور حیران کن حقیقت یہ ہے کہ پاکستان 14 اگست 1947ء اور بھارت 15 اگست 1947ء کو آزاد ہوئے، لیکن دونوں ممالک کے درمیان پنجاب اور بنگال کی حتمی سرحد کا باضابطہ اعلان 17 اگست 1947ء کو کیا گیا۔اس کا مطلب یہ تھا کہ آزادی کے وقت بہت سے لوگوں کو یہ معلوم ہی نہیں تھا کہ ان کا شہر، گاؤں یا ضلع کس ملک کا حصہ بنے گا۔جب سرحد کا اعلان ہوا تو کئی علاقوں کے لوگوں کو اچانک معلوم ہوا کہ وہ جس ملک میں رہ رہے تھے، وہ دراصل دوسرے ملک کا حصہ بن چکا ہے۔اس کے بعد بڑے پیمانے پر ہجرت شروع ہوئی اور پنجاب و بنگال انسانی تاریخ کی سب سے بڑی جبری نقل مکانیوں میں شامل ہوگئے۔

سر سیریل ریڈکلف بعد میں اس کام کے انسانی نتائج سے شدید متاثر دکھائی دیے۔ تاریخی روایات کے مطابق وہ ہندوستان سے روانہ ہوتے وقت اپنے بیشتر ذاتی کام کے کاغذات ساتھ نہیں لے گئے اور انہیں ضائع کردیا۔یہ بھی کہا جاتا ہے کہ وہ اس بات سے پریشان تھے کہ ان کے کھینچے ہوئے نقشے نے لاکھوں لوگوں کی زندگیوں کو متاثر کیا۔تاہم ان کے ذاتی احساسات اور کاغذات کے بارے میں بعد میں سامنے آنے والی روایات کو سرکاری ریکارڈ سے الگ رکھنا ضروری ہے۔

لاہور پاکستان کیلئے محض ایک شہر نہیں تھا۔ یہ تاریخی پنجاب کا ثقافتی، تعلیمی، سیاسی اور انتظامی مرکز تھا۔قیامِ پاکستان کے بعد لاہور نے مغربی پاکستان اور بعد میں پاکستان کی سیاسی و ثقافتی زندگی میں مرکزی کردار ادا کیا۔ پنجاب کا دارالحکومت ہونے کے ساتھ ساتھ یہ شہر ادب، صحافت، تعلیم، فنون اور سیاست کا بھی بڑا مرکز بن گیا۔اگر لاہور بھارت میں شامل ہوجاتا تو پاکستان کا جغرافیائی اور شہری نقشہ یقیناً بہت مختلف ہوتا۔اسی لئے ریڈکلف کا لاہور سے متعلق بعد کا بیان آج بھی تاریخ کے طالب علموں کیلئے غیر معمولی دلچسپی رکھتا ہے۔

1947ء میں سر سیریل ریڈکلف نے جو لکیر کھینچی، وہ صرف کاغذ پر ایک سرحد نہیں تھی۔ اس نے خاندانوں، بازاروں، کھیتوں، شہروں، ریلوے لائنوں، نہروں اور صدیوں پرانے سماجی روابط کو دو حصوں میں تقسیم کردیا۔لاہور اور کلکتہ کی کہانی اس تقسیم کی پیچیدگی کو سمجھنے کیلئے خاص اہمیت رکھتی ہے۔کلکتہ بھارت کے پاس گیا اور مشرقی بنگال کو اپنا نیا معاشی و انتظامی مرکز تلاش کرنا پڑا، جبکہ لاہور پاکستان کے پاس رہا اور نئی ریاست کے مغربی حصے کا سب سے اہم شہری مرکز بن گیا۔

سر سیریل ریڈکلف کے بعد کے بیان سے یہ ضرور معلوم ہوتا ہے کہ لاہور کے بارے میں فیصلہ ان کیلئے ایک مشکل مرحلہ تھا، تاہم تاریخ کا حتمی ریکارڈ یہ بتاتا ہے کہ سرحدیں صرف ایک شہر کے ’’شہری توازن‘‘ کو دیکھ کر نہیں بلکہ آبادی، جغرافیہ، مواصلات، آبپاشی، انتظامی اور معاشی عوامل کے مجموعے کو سامنے رکھ کر طے کی گئیں اور شاید یہی 1947ء کی تقسیم کا سب سے بڑا سبق ہے کہ نقشے پر کھینچی جانے والی ایک لکیر کبھی صرف نقشے کو تقسیم نہیں کرتی، وہ لوگوں کی زندگیاں بھی بدل دیتی ہے۔