متحدہ عرب امارات پر مسلسل دوسرے روز حملے، ایران کی تردید

ابوظہبی / تہران ( اماراتی وزارت دفاع، ایرانی میڈیا، بین الاقوامی خبر ایجنسیاں)متحدہ عرب امارات کی وزارت دفاع نے دعویٰ کیا ہے کہ ملک پر ایرانی میزائلوں اور ڈرونز سے مسلسل دوسرے روز حملے کیے گئے ہیں، تاہم ایران نے ان الزامات کی سختی سے تردید کی ہے۔

ایران کے پاسدارانِ انقلاب نے کہا ہے کہ ایران کی جانب سے متحدہ عرب امارات پر کوئی میزائل یا ڈرون حملہ نہیں کیا گیا۔ IRGC کے مطابق اگر کوئی کارروائی کی گئی ہوتی تو اسے واضح طور پر تسلیم کیا جاتا۔

اماراتی حکام کے مطابق یہ کشیدگی ایک روز قبل ہونے والے حملوں کے بعد مزید بڑھی، جن میں ایک ڈرون حملے کے باعث فجیرہ کے ایک اہم آئل فیسلٹی میں آگ بھڑک اٹھی تھی جبکہ کچھ افراد زخمی بھی ہوئے تھے۔
رپورٹس کے مطابق تازہ حملے کے نتائج فوری طور پر واضح نہیں ہو سکے۔

متحدہ عرب امارات کی وزارت دفاع نے کہا ہے کہ ایران کی جانب سے میزائل اور ڈرون حملے جاری ہیں، جنہیں روکنے کیلئےملک کا فضائی دفاعی نظام مکمل طور پر فعال کر دیا گیا ہے۔

اماراتی حکام کے مطابق دفاعی نظام بیلسٹک میزائلوں، کروز میزائلوں اور ڈرونز کو مؤثر انداز میں روک رہا ہے اور ممکنہ خطرات کا فوری جواب دیا جا رہا ہے۔بیان میں کہا گیا ہے کہ مختلف علاقوں میں سنی جانے والی دھماکوں کی آوازیں دراصل دفاعی نظام کی کارروائیوں کا نتیجہ ہیں۔

یہ صورتحال ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکا نے آبنائے ہرمز سے بحری جہازوں کی حفاظت کیلئے “پروجیکٹ فریڈم” نام سے نیا اقدام شروع کیا ہے،اس اہم آبی گزرگاہ سے عالمی توانائی کا بڑا حصہ گزرتا ہے۔

امریکی اور اتحادی حکام کے مطابق خطے میں کشیدگی کے دوران ایران اور امریکی فورسز کے درمیان سمندری محاذ پر بھی تناؤ بڑھا ہے، جبکہ امریکا نے ایرانی چھوٹی کشتیوں اور ڈرونز کو نشانہ بنانے کے دعوے کیے ہیں۔ماہرین کے مطابق اگر موجودہ صورتحال برقرار رہی تو خلیجی خطے میں توانائی کی ترسیل اور عالمی منڈیوں پر اس کے اثرات مزید بڑھ سکتے ہیں۔