مجھے تقریر ہمیشہ بڑی مہنگی پڑتی ہے:جسٹس (ر) شوکت عزیز صدیقی

اسلام آباد(نامہ نگار)جسٹس (ر) شوکت عزیز صدیقی نے کہا ہے کہ مجھے تقریر ہمیشہ بڑی مہنگی پڑتی ہے، فیصلے اپنے دل سے کرتا ہوں، دماغ سے نہیں۔ اسلام آباد میں الوداعی ریفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ وزیر قانون نے نومبر 2024ء میں ان سے رابطہ کر کے چیئرمین این آئی آر سی کی ذمہ داری سنبھالنے کی پیشکش کی تھی۔

شوکت عزیز صدیقی کے مطابق اس وقت این آئی آر سی کو بند کرنے کا دباؤ بڑھ رہا تھا، انہوں نے دو مرتبہ اس ذمہ داری سے انکار کیا، تاہم بعد ازاں اسے ایک چیلنج سمجھتے ہوئے عہدہ قبول کیا۔ انہوں نے کہا کہ لوگوں کے ذہن میں یہ سوال ہے کہ شوکت صدیقی نے اچانک استعفیٰ کیوں دے دیا، میں اپنے فیصلے دل سے کرتا ہوں، دماغ سے نہیں۔

جسٹس (ر) شوکت عزیز صدیقی نے مزید کہا کہ جب انہیں یہ باور کرایا گیا کہ این آئی آر سی کی چیئرمین شپ انہیں بطور ہرجانہ دی گئی ہے تو اسی لمحے انہوں نے استعفیٰ دے دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ جھوٹے الزامات لگانے والوں کا معاملہ وہ اللہ پر چھوڑتے ہیں کیونکہ اللہ سے بہتر انصاف کرنے والا کوئی نہیں۔