مسی ساگا(اشرف خان لودھی سے)جامعہ اسلامیہ کے زیر اہتمام جمعۃ المبارک کے بابرکت موقع پر ایک پروقار اجتماع منعقد ہوا، جس میں شیخ المکرم حضرت امیر عبد القدیر اعوان مدظلہ العالی نے خصوصی خطاب کیا۔اجتماع میں مرد و خواتین نے بڑی تعداد میں شرکت کی اور علمِ دین سے فیض حاصل کیا۔
حضرت امیر عبد القدیر اعوان نے اپنے خطاب میں مختلف موضوعات پر روشنی ڈالی۔ حاضرین نے روحانی اجتماع کو سراہا۔اجتماع کے اختتام پر امتِ مسلمہ کی ترقی، امن و سلامتی اور خیر و عافیت کیلئےخصوصی دعا کی گئی۔
الحمد للہ۔ الحمد للہ رب العالمین۔ والصلوٰۃ والسلام علی حبیبہ محمد و آلہ و اصحابہ اجمعین۔ اما بعد! فأعوذ باللہ من الشیطان الرجیم، بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ وَلِلَّهِ مُلْكُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۗ وَاللَّهُ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ،اللَّهُمَّ سُبْحَانَكَ لَا عِلْمَ لَنَا إِلَّا مَا عَلَّمْتَنَا إِنَّكَ أَنْتَ الْعَلِيمُ الْحَكِيمُ،مَوْلَايَ صَلِّ وَسَلِّمْ دَائِمًا أَبَدًا عَلَى حَبِيبِكَ مَنْ خَيْرِ الْخَلْقِ كُلِّهِمِ.

قابلِ صد احترام حضرت مولانا، آپ کے رفقا، خواتین و حضرات! السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ الحمد للہ، اللہ کریم کا احسان ہے، اللہ جل شانہ نے یہاں اس خانِ خدا میں بار دیگر حاضری کی توفیق عطا فرمائی۔ جمعۃ المبارک کی مبارک ساعاتیں ہیں، ربِ کائنات ان مبارک ساعاتوں کو شرفِ قبولیت عطا فرمائے۔ قرآن کریم سے مختصر حصہ تلاوت کرنے کی سعادت حاصل کی ہے، جس میں ربِ کائنات نے ارشاد فرمایا ہے: وَلِلَّهِ مُلْكُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ اور آسمانوں اور زمین کی بادشاہت اللہ کے لیے ہے اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔
مزاجِ انسانی: اللہ رب العالمین نے انسان کو تخلیق فرمایا، اس کا مزاج تخلیق فرمایا۔ وہ غفور و رحیم اس کے حدود و قیود سے خوب واقف ہے، جہاں حق ہوتا ہے، وہاں حق سے متعلق جو امور ہیں، نہ صرف ان کا اقرار ہوتا ہے، بلکہ اس اقرار کے ساتھ اعمال میں وہ اقرار عملی طور تک پہنچتا اور نظر آتا ہے۔
انسانی مزاج کو اقوامِ عالم میں دیکھیں، تاریخی انسانی میں دیکھیں، آج اپنی زندگی کے حالات اور آج کی یہ جو کونیكٹیویٹی ہے جس نے ایک گلوبلائزیشن کریٹ کر دی ہے، اس میں دیکھیں جہاں انسان کا اختیار کلی طور پر آتا ہے، وہاں اس کے مزاج پر بہت سارا ایسا اثر مرتب ہوتا ہے کہ جس میں وہ یہ خیال کرتا ہے کہ ویسا ہو جیسا میں چاہتا ہوں۔
اور اس کو صرف کہنے سننے کی بات نہیں ہے، اسے آپ عملی طور پر دیکھیے گا، یہ آپ کو سمجھ آئے گی۔ اس کی عام سی مثال ایک میں آپ کو دیتا ہوں کہ جہاں کہیں لاء آف لینڈ اور اس کی امپلیمنٹیشن سٹرانگ ہوتی ہے، وہاں پر آپ دیکھیے گا کہ ہر کوئی کتنے حدود و قیود میں رہتا ہے، کتنی پاسداری کرتا ہے، بھلے وہ باہم معاملات کی بات آئے یا راستے سے گزرنے کی بات آئے، اور جہاں قانون کی پاسداری کمزور ہوتی ہے، وہی انسان جو ہیں، وہ اپنی خواہشات اور مرضی کی پیروی کرتے ہیں۔
اللہ رب العالمین نے جو مخلوق پیدا فرمائی ہے، اس سے متعلق قرآن کریم ارشاد فرماتا ہے: «سَبَّحَ لِلَّهِ مَا فِي السَّمَاوَاتِ» زمین و آسمان کی ہر شے اس کی تسبیح کرتی ہے، اس کا ذکر کرتی ہے، اس کی عبادت کرتی ہے۔ لیکن جن و انس وہ مخلوق جسے اس نے مکلف پیدا فرمایا ہے، جسے چوائس دی ہے، کہ دس از دی وے کہ آپ اس کے مطابق کیسے زندگی بسر کرتے ہو، شکر گزار ہوتے ہو یا انکار کرتے ہو۔
قرآنِ کریم میں ربِ کائنات فرما رہا ہے کہ اللہ آسمانوں، زمین اور ان کے درمیان ہر شے کا مالک ہے۔ جب ہم اس انداز سے سوچتے ہیں کہ میں چاہتا ہوں کہ سب کچھ ویسا ہو جیسا میں چاہتا ہوں، تو ہم نے دنیا کو ایک تصوراتی انداز میں، ایک خیال میں تعمیر کر لیا ہوتا ہے، جس میں ہماری پسند ہماری ترجیح ہوتی ہے۔ لیکن جب ہم عملی زندگی میں آتے ہیں تو وہ ویسا ہوتا ہے جیسا اللہ چاہتا ہے، نہ کہ ویسا جیسا ہم چاہتے ہیں۔
چنانچہ کئی مرتبہ مایوسی اور جارحیت کی کیفیت کا اظہار ہوتا ہے اور ہم اسے دیکھتے ہیں۔ اس کی وجہ کیا ہے؟ وجہ یہ ہے کہ ہم سمجھتے ہیں کہ ہر چیز ہماری ہے اور ویسی ہی ہونی چاہیے جیسا میں چاہتا ہوں۔ حالانکہ ربِ کائنات اللہ ہے، کائنات کا مالک اللہ ہے۔

دنیا ایک نظامِ حیات ہے۔ یہ اتفاق نہیں ہے کہ دنیا محض اتفاق سے چل رہی ہے۔ اگر یہ اتفاق ہوتا تو صدیوں سے سورج اور چاند موجود ہیں، اگر ایک لمحے کے لیے بھی کوئی خلل پیدا ہو جاتا تو سب کچھ تباہ ہو جاتا۔
اگر کسی جگہ سے ہوا کا جھونکا گزرتا ہے تو وہ جگہ خالی نہیں رہتی، خالی جگہ کو ہوا بھر دیتی ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ دنیا کا نظام اتفاق کا کھیل ہے۔ اللہ نے دنیا کے نظام کو اتفاق کا کھیل نہیں بنایا۔
اب جب مطلق اختیار کی بات آتی ہے تو ہر چیز اسی کی ہے اور وہی قادرِ مطلق ہے، اس لیے وہی ہوتا ہے جو وہ چاہتا ہے۔ ایمان کی روشنی انسان کو اپنے نفس کی اسیری سے آزاد ہونے کا امکان فراہم کرتی ہے۔
اس کے علاوہ بھی بے شمار گرفتاریاں ہیں۔ بے شمار جگہیں ہیں جہاں انسان جدوجہد کر رہا ہے، کہیں وہ مال کا لالچی ہے، کہیں انا میں گرفتار ہے، کہیں اقتدار کے ظلم میں پھنسا ہوا ہے۔ بے شمار جگہیں ہیں جہاں انسان قید ہے۔

یقیناً وہاں سے بھی آزادی حاصل ہوتی ہے اور اپنے نفس سے بھی آزادی ملتی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ قرآنِ کریم ان لوگوں کے بارے میں فرماتا ہے جو حق کے خلاف چلتے ہیں کہ وہ اپنی خواہشات کی پیروی کرتے ہیں۔ چنانچہ جو لوگ حق کو چھوڑ کر اپنی خواہشات کی پیروی کرتے ہیں، وہ اپنی خواہشات کے پابند ہو جاتے ہیں۔
پس انسان اپنی خواہشات کی پابندیوں سے آزاد ہوتا ہے۔ حقیقت شناسی کا درجہ یہ ہے کہ انسان اپنی زندگی حقیقت کی بنیاد پر بسر کرے۔ جب انسان حقیقت کی بنیاد پر زندگی بسر کرے گا تو وہ حقوق اور فرائض کو بھی ملحوظ رکھے گا۔
انسان اپنی خواہشات دوسروں پر مسلط نہیں کرے گا۔ اسے احساس ہوگا کہ اس کی کچھ حدود ہیں۔ اسے احساس ہوگا کہ اس کی کچھ آزادی بھی ہے۔
اور جہاں اس کی حدود ختم ہوتی ہیں، وہاں دوسرے انسان کی آزادی شروع ہوتی ہے۔ یہ نہیں کہ صرف مجھے وہ کچھ دیا جائے جو میں چاہتا ہوں۔ میری کچھ ذمہ داریاں بھی ہیں، جو مجھ پر فرائض کی صورت میں عائد ہوتی ہیں اور ان کی ادائیگی سے معاشرے میں ایک صورتِ حال پیدا ہوتی ہے۔
انسانیت کی کامیابی کی وجہ مثبت کردار ہے۔
اور بھائی، بڑی بڑی دنیا آئی، بڑے بڑے لوگ آئے، لیکن قرآن فرما رہا ہے: «وَلِلّٰهِ الْأَمْرُ مِنْ قَبْلُ وَمِنْ بَعْدُ»۔ تیرے اختیار میں نہیں، سارا اختیار قادرِ مطلق کا ہے، ہوتا وہی ہے جو اللہ رب العالمین چاہتا ہے۔
تو جب آپ اس سے اگلے حصے میں آتے ہیں، یہاں رکوع کا اختتام ہے، لیکن جب آپ اگلے رکوع کی ابتدا میں آتے ہیں تو ارشاد فرمایا: إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلَافِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ لَآيَاتٍ لِأُولِي الْأَلْبَابِ۔ اب صاحبِ خرد لوگوں کو مخاطب فرمایا گیا۔ عقل کا معیار مقرر فرمایا گیا۔
کیا ہے؟ فرمایا، یقیناً آسمانوں اور زمین کی پیدائش اور رات اور دن کے بدل بدل کر آنے میں عقل والوں کے لیے نشانیاں ہیں۔ قرآنِ کریم میں اور جگہ پر بھی تفکر، توجہ اور دھیان کرنے کا ارشاد فرمایا گیا ہے۔ بلکہ جہاں آسمان کی وسعتوں کا ذکر فرمایا گیا، وہاں ایک گھاس کا جو تنکا ہے، اس کے پھوٹنے، اس سبز کو واپس خاک، چارہ چارہ ہو کر خاک ہونے تک کا بیان فرمایا گیا ہے۔ اسلئےکہ جب آپ غور کرتے ہیں تو آپ کو ایک مربوط نظام ملتا ہے۔ تو کیا نظام خود ہی چلتے ہیں؟
اس مسجد میں ہیں، خانۂ خدا ہے، ایک نظم ہے، یہاں نماز کا اہتمام ہوتا ہے، جمعۃ المبارک کا اہتمام ہوتا ہے۔ بنیادی ضروریات کا نظام ہے، بجلی ہے، پانی ہے، اس کا کھولنا ہے، اس کا بند کرنا ہے۔ اس سارے معاملے میں آپ غور فرمائیں تو منتظمین شامل ہیں کہ نہیں، اللہ کے حکم سے؟
تو اگر ایک عمارت محض بھی ہو، یہ تو خانۂ خدا ہے، ہماری خوش بختی ہے کہ یہاں کی ذمہ داری نصیب ہوئی، اس لیے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک زمانے میں ایک ضعیف خاتون فوت ہوئی تھیں۔ روایات میں ملتا ہے کہ وہ رات میں فوت ہوئیں، ان کا جنازہ کر دیا، دفنا دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب ان کے بارے میں پوچھا تو عرض کیا گیا کہ وہ فوت ہو گئیں۔ تو آپ نے فرمایا کہ اسے مفلس یا کمزور سمجھ کر مجھے اطلاع نہیں دی گئی؟ کیوں نہیں مجھے اطلاع دی؟ آپ نے پسند نہیں فرمایا۔ آپ دوبارہ تشریف لے گئے، اس کی قبر پر جا کر نماز پڑھی، جنازہ پڑھا۔
پھر مختلف روایات میں ان کے عمل کی نسبت سے ایک پہلو ملتا ہے۔ ان کے اعمال میں مسجد کی صفائی تھی، آپ نے فرمایا کہ اس کا ان کیلئے بہت بڑا اجر ہے۔ معیتِ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نصیب ہوئی، صحابیہ ہیں، اور پھر اعمال میں عملی حصے کے طور پر خانۂ خدا کی خدمت نصیب ہوئی تو یہ عام بات نہیں ہے۔
لیکن جو نکتہ عرض کر رہا ہوں کہ ایک منتظمین ہیں جو کام کر رہے ہیں، تو پوری کارگاہِ حیات محض حادثے سے چل رہی ہے؟ صبح بھی حادثے سے ہو جاتی ہے، شام بھی حادثے سے ہو جاتی ہے۔ کتنی مخلوق پیدا ہوئی ہے، آج تک ہم تمام جدت، تمام سائنس اور ٹیکنالوجی کے باوجود شمار نہیں کر سکے کہ حضرت آدم علیہ الصلوٰۃ والسلام سے لے کر آج تک کتنے بندے اس دنیا میں پیدا ہوئے اور ان کے وجود کہاں ہیں؟ خاک ہو کر بھی تو وجود یہیں پر ہیں، غیب تو نہیں ہوئے۔ واپس خاک ہو گئے اور ان سے لے کر آج تک یہی دھرتی ہر ایک کی بھوک بھی مٹا رہی ہے، ہر ایک کی پیاس بھی مٹا رہی ہے، ہر ایک کو رہنے کیلئے جگہ بھی دے رہی ہے۔
کیسی زمین ہے کہ ایک انگلی سے کھودنا شروع کرو تو کھود جاتی ہے اور سینکڑوں منزل کی عمارت اس کے سینے پر کھڑی کر دے تو اسے اٹھائے کھڑی ہے۔ خشکی کو دیکھو تو تری اس سے زیادہ ہے۔ ہر ایک کا اپنا ایک مربوط نظام ہے جو چل رہا ہے۔ کتنی مخلوق ہے جو زمین پر ہمارے ساتھ زندگی بسر کر رہی ہے، کتنی مخلوق ہے کہ زمین کھودو تو نیچے ملتی ہے اور کتنی مخلوق زیرِ آب ہے۔ ہم تو شمار بھی نہیں کر پاتے۔ ہر ایک کا رزق پورا ہو رہا ہے، ہر ایک کی ضرورت پوری ہو رہی ہے۔ ہر ایک اپنی زندگی کے دائرۂ حیات میں سے گزر کر اپنا حصۂ زندگی ادا کرتا ہوا دنیا سے جا رہا ہے۔ نہ یہ گھٹ رہی ہے، نہ یہ بڑھ رہی ہے۔ تو کیا یہ محض حادثہ ہے؟ ایک مربوط نظام ہے اور آسمان کی وسعتوں کے بارے میں قرآن فرماتا ہے کہ تمہاری نگاہ تھک کر لوٹ آئے گی، تجھے کوئی خلل نظر نہیں آئے گا۔
ارشاد فرما رہا ہے تو صاحبِ خرد کون ہے؟ جو محض صبح و شام کرے اور زندگی گزار کر جیسا آیا ویسا چلا گیا، یا وہ جو اس امتحان گاہ میں آیا اور عقل، خرد اور تفکر اسے اس عقل تک پہنچائے کہ حق کو پہچانے اور اس پر عمل کرتا ہوا اللہ کی رضا میں زندگی بسر کرے۔
تو جب آپ یہ دیکھیں گے تو پھر یہ صبح و شام ہماری زندگی میں بھی ہو رہی ہے۔ موسموں کے تغیرات ہیں، گرمیاں ہیں، سردیاں ہیں۔ یہ سورج، یہ چاند، ایک دائرۂ حیات ہے، ایک بہاؤ ہے، زندگی کا بہاؤ ہے، اس میں ہم بھی تو زندگی بسر کر رہے ہیں۔
تو جب آپ ان تمام حصوں کو دیکھو گے تو ربِ کائنات کیا فرماتا ہے؟ عقل والوں کے لیے نشانیاں ہیں۔ اب عقل سے کہاں کوئی پہنچا؟ الَّذِينَ يَذْكُرُونَ اللَّهَ قِيَامًا وَقُعُودًا وَعَلَىٰ جُنُوبِهِمْ وَيَتَفَكَّرُونَ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ۔
اللہ جل شانہٗ ارشاد فرماتے ہیں کہ جو اللہ کا ذکر کرتے ہیں کھڑے، بیٹھے اور لیٹے، یعنی ہر حال میں، اور آسمانوں اور زمین کی پیدائش میں غور کرتے ہیں۔ پیچھے بھی تفکر کا ارشاد فرمایا اور اس حصے میں بھی، اور درمیانی حصے میں وہ پہلو ہیں جو ایمان سے نصیب ہوتے ہیں۔
کھڑے، بیٹھے، لیٹے میں اگر آپ عبادات اور عبادات میں فرض نماز کو لے آئیں تو بھی جہاں صحت یا ایسے مسائل ہوں جو کسی فرد کو پیش آئیں، تو وہ کھڑا ہو کر جو قیام ہے، اسے بیٹھنے میں بھی قیام نصیب ہے۔ بیٹھ نہیں سکتا تو وہ لیٹ کر بھی پڑھ سکتا ہے۔
اور پھر اگر کھڑے، بیٹھے، لیٹے تین صورتوں کو دیکھو تو انسان کی زندگی میں یہ تین ہی صورتیں ہیں، چاہے وہ کھڑا ہے، چاہے وہ بیٹھا ہے، چاہے لیٹا ہے۔ تمام امور کی انجام دہی میں یہ تین پہلو اس کی زندگی میں داخل ہوتے ہیں۔ انہی تین پہلوؤں میں اللہ رب العالمین نے صاحبِ خرد اور عقل والے کے لیے بیان فرمایا کہ وہ اللہ کا ذکر کرتا ہے، اللہ کی یاد میں محو رہتا ہے۔
اب ذکر عمل میں بھی ہے، لسانی بھی ہے، خفی بھی ہے۔ ہر بہر سے جو ذکر ہے، وہ نصیب ہو تو کھڑے، بیٹھے، لیٹے زندگی کا کوئی پہلو نہیں بچتا جو یادِ الٰہی سے وابستہ نہ ہو۔ خالی نہیں رہتا۔
اور جب یہ حصے نصیب ہوں تو پھر زمین و آسمان کی پیدائش ہے، پھر وہ سمجھ آتی ہے، پھر اس غور سے وہ حقائق کو پا لیتا ہے۔ اب بات تو آ گئی نا ایمان کی کہ ہر شے کو دیکھنے سے اس ذات تک رسائی ہوئی۔ ایک ذات ہے جس کے دستِ قدرت میں یہ نظامِ حیات ہے۔ وہ خالق ہے، باقی جو ہے مخلوق ہے، باقی محتاج ہیں اور وہ بے نیاز ہے۔
اس حقیقت تک یہ تفکر پہنچاتا ہے۔ نوری ایمان ہر اس بحر سے کیوں؟ کہ قرآن و سنت کی بات آ جاتی ہے، بعثتِ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات آ جاتی ہے۔ کلامِ ذاتی اور ایمانیات سے اعمال، ہر پہر کی عبادات ہوں یا معاملات، ہر ایک میں رہنمائی نصیب ہو جاتی ہے اور حدود و قیود کا تعین محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے۔
تو پھر وہ پہلو نصیب ہوتے ہیں کہ اس تمام حیات کا تسلسل محض زندگی نہیں۔ یہ اس کا احسان ہے کہ اس نے اپنی عبادت کے لیے پیدا فرمایا۔ کیسی زندگی ہے! ہم اپنی زندگی کے شب و روز میں کتنے گلے کرتے ہیں اور کتنے گلے سنتے ہیں۔ آپ غور کیجیے گا، جہاں دوستوں کی نشست ہوتی ہے، کسی محفل میں ہوتی ہے، جب وہ نشست شروع ہوتی ہے اور ہر ایک گفتگو کر رہا ہوتا ہے، تو ہمارے دو دو، چار چار، چھ چھ لوگ جب بیٹھ کر بات کر رہے ہوتے ہیں، کبھی سوچیے گا کہ کتنے گلے کر رہے ہوتے ہیں۔
کتنی ادھوری خواہشات کا اظہار کر رہے ہوتے ہیں، کتنے مسائل اور کتنی بیماریوں کی باتیں کر رہے ہوتے ہیں۔ ہر شے اللہ کی طرف سے ہے تو اللہ کی طرف سے بھی تو ہے نا، ہے اس کی طرف۔ کس کو کہاں رکھا، کس حال میں رکھا۔ اب یہ ایمان اس درجے پر پہنچاتا ہے، احادیثِ شریفہ میں بندۂ مومن کے لیے جو دو پہلو آتے ہیں، وہ اعلیٰ ہیں۔ حاصل ہو تو شکر کرتا ہے، کامیابی پر شکر گزاری کس کی؟ اللہ کی۔
کہیں کمی بیشی آ گئی، تکلیف ہو گی تو صبر کرتا ہے۔ مدد کس سے مانگتا ہے؟ اپنے اللہ رب العالمین سے۔ یا شاکر ہے یا صابر ہے۔ یہ دونوں کیفیات ایسی ہیں جو اسے اللہ کی رضا اور قرب کی طرف لے کر جاتی ہیں۔
تو جب ایمان پر آتا ہے تو پھر ہر شے کے حقائق اس طرح سامنے آتے ہیں۔ اس پہلو کو اللہ رب العالمین نے «يَا أُولِي الْأَلْبَابِ» کہہ کر بیان فرمایا کہ اے صاحبِ خرد لوگو، عقل و فہم یہی ہے۔
پھر فرمایا: رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ هَذَا بَاطِلًا۔ اے ہمارے پروردگار! آپ نے یہ سب بے فائدہ نہیں بنایا۔
کیا مقصد ہے؟ یہ کائنات، نظم، حیات، بے حد و حساب وسعتیں، کیا یہ محض کھیل تماشا ہے؟ ایمان سمجھاتا ہے کہ نہیں۔ یہ محض کھیل تماشا نہیں۔ پھر سمجھ آتی ہے کہ ایمان بالآخرت کیا ہے؟ ہمیشہ کی زندگی کیا ہے؟ جزا و سزا کے جو فیصلے ہیں، وہ کیا ہیں؟
پھر وہ بنیادیں جو نوری ایمان کی ہیں، ان کا ماننا محض ماننے تک نہیں رہتا، ادراک نصیب ہوتا ہے اور اس پر بندہ زندگی بسر کرتا ہے کہ میں نے کلام کا بھی، نگاہ کے اٹھانے کا بھی، کان سے سماعت کا بھی، ایک ایک حرکت کا، جو کچھ دیا ہوا ہے، وہ اسی کا ہے، اس کی امانت ہے۔ میں نے اس کا استعمال کیسے کیا، اس کا حساب دینے کے لیے مجھے جانا ہے۔ تو قرآن بیان نہیں فرماتا؟ ہر شے قیامت کے روز اس کے حضور حاضر کر دی جائے گی۔
ہر شے، کوئی شے نہیں بچے گی، کوئی معاملہ نہیں بچے گا۔ ہر شے اس کے حضور حاضر کر دی جائے گی اور وہ گفتگو جس کا اختتام ہم سے نہیں ہوتا، وہ فرماتا ہے کہ یہ جو باہم بحث کرتے ہو، ان کا فیصلہ بھی کر دیا جائے گا۔ تو جب آخرت کی بات آئے گی تو پھر زندگی کے طریقِ کار کو ہم نہیں دیکھیں گے تو روزِ قیامت کے جواب کا ادراک کیسے پائیں گے؟
تو یہ جو دنیا ہے، عقل سمجھاتی ہے کہ یہ محض کھیل تماشا نہیں۔ پھر اگر کوئی کہہ دے کہ ہاں، وقت گزر رہا ہے، اچھا گزر رہا ہے، گزر گیا، تو یہ وقت گزارنے کے لیے تو نہ تھا۔ چونکہ دنیا میں مال و دولت، ہیرے جواہرات، پیسے اور پیسے کی جو جو شکل ہے، وہ بڑی قیمتی ہوتی ہے۔ قرآن فرماتا ہے کہ دنیا کی ہر شے دے دو، آخرت میں نجات نہ ہوگی۔
تو پھر قیمتی کیا ہوا؟ زندگی کی فرصت۔ زندگی کے لمحے قیمتی ہوئے کہ ایک گزرا ہوا لمحہ، ساری دنیا کی دولت صرف کر دو تو پلٹ کر نہیں آتا۔ تو پھر فیصلہ کرو نا، قیمتی شے کیا ہے؟ زندگی کی فرصت قیمتی ہے۔ تو جو زندگی کی فرصت ہم گزار رہے ہیں، اس سے حاصل کیا کر رہے ہیں؟
کہیں ہماری قبریں آگ سے تو نہیں بھری جا رہیں؟ ایسا ہو کہ ہمارے اعمال سے جنت کے باغوں میں سے ایک باغ بنتی چلی جائے۔ تو یہ سارا کچھ ربِ کائنات نے بے فائدہ نہیں پیدا فرمایا: «سُبْحَانَكَ فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ»۔ اے اللہ! تو پاک ہے، پس ہمیں آگ کے عذاب سے بچا لے۔
اب سمجھ آئی کہ صاحبِ خرد ان حقائق کو نہ صرف سمجھا، جانا، مانا بلکہ ان پر عمل کرتے ہوئے پھر عرض کر رہا ہے: باری تعالیٰ! میرے ٹوٹے پھوٹے سجدے ہیں، جو تیری شان ہے، اس لائق تو میری عبادات بھی نہیں۔ اپنی کم مائیگی کا اظہار کرتے ہوئے ربِ کائنات سے پھر بخشش مانگتا ہے کہ باری تعالیٰ! مجھ پر رحمت فرما دے اور مجھے بخش دے۔
رَبَّنَا إِنَّكَ مَنْ تُدْخِلِ النَّارَ فَقَدْ أَخْزَيْتَهُ ۖ وَمَا لِلظَّالِمِينَ مِنْ أَنْصَارٍ۔ اے ہمارے پروردگار! بے شک جس کو آپ نے آگ میں داخل کیا، یقیناً آپ نے اسے رسوا کیا اور ظالموں کا کوئی مددگار نہیں۔ اس جماعت سے بندہ بچ جائے، جو اللہ کے حکم کے مطابق مقابل آ رہی ہو، جو اس کے حکم کے مطابق ہے، اس میں شامل ہو۔
اور ہمارے نزدیک عزت کے پیمانے کیا ہیں؟ لوگ کیا کہیں گے؟ یہ ہمارا اکثر جملہ ہوتا ہے کہ لوگ کیا کہیں گے؟ اصل بات یہ ہے کہ اللہ نے کیا فرمایا ہے؟ پیارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا فرمایا ہے؟ دنیا کی کیسی کیسی تکالیف میں آپ نے مبارک زندگی بسر فرمائی ہے اور مخلوق تک دینِ حق پہنچایا۔
تو جب ساری مخلوق روزِ محشر جمع ہوگی، اس دن یہ صورت نہیں ہوگی کہ مخلوق کیا کہے گی، ایک ہی دھڑکا ہوگا کہ میرا فیصلہ کیا ہوگا؟ آج کی لو اگر حق کے ساتھ ہو تو پھر آخرت جو آنی ہے، اس کے مطابق زندگی بسر کرنے کی بھی توفیق نصیب ہوتی چلی جاتی ہے۔
اللہ رب العالمین یہ مبارک ساعتیں قبول فرمائے۔ دین کی سمجھ اور عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ اللہ ہم پر رحمت فرمائے۔وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ۔

