نئی دہلی ( اے پی، پی ٹی آئی، دی ہندو)بھارتی دارالحکومت نئی دہلی کے ستیہ نکیتن علاقے میں طلبہ کے لیے قائم پانچ منزلہ پیئنگ گیسٹ (پی جی) عمارت اچانک منہدم ہوگئی، جس کے نتیجے میں کم از کم 2 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے جبکہ مقامی افراد کے مطابق 40 سے 50 افراد اب بھی ملبے تلے دبے ہوسکتے ہیں۔
حادثہ اتوار کی دوپہر تقریباً ڈیڑھ بجے دہلی یونیورسٹی کے ساؤتھ کیمپس کے قریب پیش آیا۔ عمارت میں طلبہ کے لیے پیئنگ گیسٹ رہائش گاہ قائم تھی جبکہ اس کے تہہ خانے میں مرمت کا کام جاری تھا۔ پولیس کے مطابق عمارت تقریباً 40 سے 50 سال پرانی تھی۔
ریسکیو حکام کے مطابق ملبے سے متعدد افراد کو نکال لیا گیا ہے، جن میں سے بعض کو تشویشناک حالت میں اسپتال منتقل کیا گیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ملبے تلے دبے یا زخمی افراد کی حتمی تعداد ابھی معلوم نہیں ہوسکی، جبکہ ریسکیو آپریشن مسلسل جاری ہے۔
مقامی رہائشیوں نے بتایا کہ عمارت گرنے سے پہلے اچانک شدید جھٹکا اور زوردار آواز محسوس ہوئی، جس سے انہیں ایسا لگا جیسے زلزلہ آیا ہو۔ عمارت منہدم ہونے کے بعد دھواں اور گرد و غبار پھیل گیا جبکہ ملبے سے مدد کے لیے پکارنے کی آوازیں بھی سنائی دیتی رہیں۔ بعض افراد کے مطابق ملبے تلے موجود لوگوں نے فون کے ذریعے بھی مدد کے لیے رابطہ کیا۔
مقامی افراد کا کہنا ہے کہ بارش کے باعث زیادہ تر طلبہ عمارت کے اندر موجود تھے۔ عینی شاہدین کے مطابق عمارت کے تہہ خانے میں مرمت کا کام جاری تھا اور وہاں پانی جمع ہونے سے بنیاد کمزور ہونے کا خدشہ بھی ظاہر کیا گیا ہے، تاہم حکام نے تاحال عمارت گرنے کی حتمی وجہ نہیں بتائی۔
حادثے کے فوراً بعد دہلی پولیس، فائر سروس، نیشنل ڈیزاسٹر رسپانس فورس (این ڈی آر ایف)، دہلی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی اور دیگر امدادی اداروں کی ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں۔ بھاری مشینری کے ذریعے ملبہ ہٹانے کے ساتھ مقامی افراد بھی امدادی کارروائیوں میں حصہ لے رہے ہیں۔
دہلی کی وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا نے واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ تمام متعلقہ ادارے پھنسے ہوئے افراد کو محفوظ نکالنے کے لیے مشترکہ طور پر کام کررہے ہیں۔ حکام نے احتیاطی طور پر قریبی عمارت بھی خالی کرا لی ہے۔
حادثے کے بعد علاقے میں موجود دیگر پرانی عمارتوں کی حالت اور طلبہ کیلئے قائم پیئنگ گیسٹ رہائش گاہوں کی تعمیر و دیکھ بھال کے حوالے سے بھی سوالات اٹھ گئے ہیں۔ ستیہ نکیتن میں متعدد رہائشی عمارتیں طلبہ کے ہاسٹل اور پی جی کے طور پر استعمال ہوتی ہیں۔

