کراچی (وقائع نگارخصوصی) وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ ملک کو اس وقت نئے صوبوں کے قیام سے زیادہ دہشت گردی کے سنگین مسئلے پر توجہ دینے کی ضرورت ہے، نئے صوبے کا معاملہ اب دفن ہو جانا چاہیے، کیونکہ صوبے بنانے کا ایک آئینی طریقہ کار ہے اور محض کسی کے مطالبہ کرنے سے کچھ نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ سندھ میں نیا صوبہ بنانے کے لیے کوئی اکثریت موجود نہیں۔
کراچی کے علاقے جام چاکرو میں سندھ کے پہلے سائنسی طریقے سے تیار کردہ لینڈ فل منصوبے کے افتتاح کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مراد علی شاہ نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان اختلافات سیاسی مذاکرات کے ذریعے حل کرنے پر زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ قومی سلامتی اور استحکام کے لیے دہشت گردی کے خلاف مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں اور چاروں صوبوں کو اس خطرے سے نمٹنے کے لیے متحد ہونا چاہیے۔
وزیراعلیٰ سندھ نے خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ہنگامی حالت کے خاتمے سے متعلق سوال پر کہا کہ اس مسئلے کا حل جلد مذاکرات کے ذریعے نکالا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر کوئی صوبہ تعاون کرنے سے انکار کر دے تو پھر کیا راستہ باقی رہ جاتا ہے؟ ان کے مطابق گورنر راج آئین کے مطابق ہے، تاہم وفاق اور صوبوں کے درمیان اختلافات دور کرنے کے لیے سیاسی بات چیت ضروری ہے۔
مراد علی شاہ نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں صوبوں کے درمیان تعاون قومی سلامتی کے لیے بنیادی اہمیت رکھتا ہے اور اس معاملے پر سیاسی اختلافات کو مشترکہ کوششوں کی راہ میں رکاوٹ نہیں بننا چاہیے۔
اس موقع پر وزیراعلیٰ سندھ نے جام چاکرو میں سندھ کے پہلے سینیٹری انجینئرڈ لینڈ فل منصوبے کے پہلے مرحلے کا فیتہ کاٹ کر باضابطہ افتتاح کیا اور وہاں کچرا ٹھکانے لگانے کا عمل شروع کرایا۔ تقریب میں وزیر بلدیات سید ناصر حسین شاہ، وزیر محنت سعید غنی، میئر کراچی مرتضیٰ وہاب اور دیگر سینئر حکام بھی موجود تھے۔
وزیراعلیٰ نے بتایا کہ منصوبے کا مقصد کچرا جمع کرنے، اس کی نقل و حمل اور سائنسی طریقے سے تلفی کے لیے جدید اور مربوط نظام قائم کرنا ہے، تاکہ ماحولیاتی آلودگی میں کمی لائی جا سکے اور روایتی طریقوں سے کچرا پھینکنے کے باعث شہریوں کی صحت کو لاحق خطرات کم کیے جا سکیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس منصوبے کا آغاز کراچی میں کچرے کے انتظامی نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔

