خیبر پختونخوا: مفاہمت، امن اور ترقی میں آفتاب شیرپاؤ کا ممکنہ کردار

خیبر پختونخوا پاکستان کا وہ صوبہ ہے جس کی تاریخ قربانیوں، مشکلات، سیاسی کشمکش اور مسلسل جدوجہد سے عبارت ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران یہاں کے عوام نے دہشت گردی، بدامنی، نقل مکانی، معاشی پسماندگی اور سیاسی عدم استحکام کی بھاری قیمت ادا کی ہے۔ بدقسمتی سے ان آزمائشوں کے باوجود صوبے کو وہ امن، استحکام اور ترقی نصیب نہیں ہوسکی جس کا یہاں کے عوام کو حق حاصل ہے۔ آج ضرورت ایسی حکمت عملی کی ہے جس میں سیاسی مفاہمت کو بنیاد، امن کو اولین ترجیح اور معاشی ترقی کو مستقل منزل قرار دیا جائے۔

خیبر پختونخوا میں پاکستان تحریک انصاف کے تقریباً تیرہ سالہ دورِ اقتدار کے حوالے سے یہ بحث اہم ہے کہ اس عرصے میں صوبے کو کیا حاصل ہوا اور کن شعبوں میں ناکامیاں سامنے آئیں۔ مرکز اور صوبے کے درمیان مسلسل سیاسی محاذ آرائی، دہشت گردی کے خلاف پالیسی پر اختلافات اور بڑھتی ہوئی بدامنی نے مسائل کو مزید پیچیدہ بنایا۔ تاہم یہ بھی ایک تاریخی حقیقت ہے کہ دہشت گردی، ادارہ جاتی کمزوریاں، وسائل کی غیرمنصفانہ تقسیم اور قبائلی اضلاع کی محرومیاں کئی دہائیوں سے موجود ہیں۔ ان مسائل کا حل سیاسی وابستگیوں سے بالاتر ایک جامع اور طویل المدتی حکمت عملی کا تقاضا کرتا ہے۔

گورنر راج اور ہنگامی انتظامات کے تحت گیارہ رکنی خصوصی مشاورتی کونسل اور بارہ متاثرہ اضلاع کیلئےاڑتالیس رکنی علاقائی نمائندہ و ترقیاتی کونسل کی تشکیل، اگر واضح لائحۂ عمل کے تحت عمل میں لائی جائے، تو ایک اہم انتظامی تجربہ ثابت ہوسکتی ہے۔خصوصاً باجوڑ، مہمند، خیبر، کرم، اورکزئی، شمالی وزیرستان، بالائی و زیریں جنوبی وزیرستان، بنوں، لکی مروت، ٹانک اور ڈیرہ اسماعیل خان میں مقامی نمائندگی اور ترقیاتی ترجیحات کی درست نشاندہی ضروری ہے۔ ان اداروں میں قبائلی عمائدین، نوجوانوں، خواتین، ماہرینِ تعلیم اور سماجی کارکنوں کی حقیقی شمولیت سے عوام اور انتظامیہ کے درمیان اعتماد کی خلیج کم ہوسکتی ہے۔

لیکن کیا محض نئی کونسلوں کی تشکیل اور نئے چہروں کی شمولیت سے دیرینہ مسائل حل ہوجائیں گے؟ بلاشبہ نئی اور تعلیم یافتہ قیادت کی شمولیت ایک مثبت پیش رفت ہے، تاہم ان کوششوں کی کامیابی کیلئے تجربہ کار سیاسی شخصیات کی رہنمائی اور تعاون بھی اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔ خیبر پختونخوا کی مخصوص سیاسی، سماجی اور قبائلی روایات میں شخصی اعتماد، مقامی تعلقات اور جرگے کی روایت کو خاص اہمیت حاصل ہے۔ اسلئے نئی قیادت اور تجربہ کار شخصیات کے درمیان تعاون ضروری ہے، تاکہ صوبے کی سیاسی نفسیات، انتظامی مشکلات اور علاقائی حساسیتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے مؤثر فیصلے کیے جاسکیں۔

اس حوالے سے ایک نمایاں نام آفتاب احمد خان شیرپاؤ کا ہے، جنہوں نے خیبر پختونخوا کی سیاست میں طویل عرصے تک فعال کردار ادا کیا ہے۔ وہ دو مرتبہ سابق صوبہ سرحد کے وزیراعلیٰ رہنے کے علاوہ وفاقی وزیر داخلہ اور وفاقی وزیر برائے پانی و بجلی کی حیثیت سے بھی خدمات انجام دے چکے ہیں۔

شیرپاؤ پہلی مرتبہ 1988ء اور دوسری مرتبہ 1994ء میں وزیراعلیٰ بنے۔ ان کے ادوارِ حکومت میں صوبے کو محدود مالی وسائل، انتظامی مسائل، افغان جنگ کے اثرات اور بنیادی سہولتوں کی کمی جیسے سنگین چیلنجوں کا سامنا تھا۔ ان حالات میں انہوں نے سیاسی تدبر، انتظامی صلاحیت اور معاملہ فہمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے نہ صرف ترقیاتی سرگرمیوں کو آگے بڑھایا بلکہ مختلف سیاسی جماعتوں، گروہوں اور صوبے کی بااثر شخصیات کو ساتھ لے کر چلنے کی روایت بھی اپنائی۔

ان کی سیاست کا ایک نمایاں پہلو یہ رہا کہ انہوں نے سیاسی اختلافات کے باوجود مختلف حلقوں سے رابطے برقرار رکھے اور مشترکہ معاملات پر تعاون کی راہیں تلاش کیں۔ ان کے ادوار میں مختلف سیاسی قوتوں کو ساتھ لے کر چلنے کی کوششوں نے صوبائی معاملات میں تعاون کو فروغ دینے میں کردار ادا کیا۔ یہی مفاہمانہ انداز موجودہ حالات میں بھی اہمیت رکھتا ہے، جب سیاسی تقسیم اور باہمی عدم اعتماد نے صوبے کے مسائل کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔

صوبائی انتظامیہ چلانے، ترقیاتی منصوبہ بندی، وفاق سے وسائل کے حصول اور عوامی رابطوں میں ان کا تجربہ بھی قابلِ توجہ ہے۔ سول سوسائٹی اور مخالف سیاسی حلقوں میں بھی انہیں قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے، جبکہ قبائلی عمائدین اور بااثر سماجی شخصیات کے ساتھ ان کے دیرینہ روابط موجودہ کشیدہ ماحول میں اہم ثابت ہوسکتے ہیں۔

بطور وفاقی وزیر داخلہ انہوں نے 2004ء سے 2007ء کے دوران دہشت گردی اور داخلی سلامتی کے انتہائی مشکل حالات کا سامنا کیا۔ یہ وہ زمانہ تھا جب ملک میں شدت پسندی بڑھ رہی تھی اور افغانستان کی صورتِ حال کے اثرات سرحدی علاقوں پر مرتب ہورہے تھے۔ خود شیرپاؤ بھی دہشت گرد حملوں کا نشانہ بنے۔ یوں دہشت گردی ان کیلئے محض انتظامی یا سیاسی مسئلہ نہیں بلکہ ایک ذاتی تجربہ بھی بنی۔ قومی سلامتی کے معاملات اور دہشت گردی کیخلاف وہ ہمیشہ سے واضح مؤقف رکھتے آئے ہیں۔

آج خیبر پختونخوا کو درپیش سیاسی اور انتظامی بحران کے تناظر میں شیرپاؤ کو مشاورتی عمل میں مؤثر کردار ادا کرنے کی دعوت دینا قابلِ غور ہے۔ صوبائی سیاست، قبائلی معاشرت اور وفاقی معاملات سے ان کی واقفیت انہیں صوبائی انتظامیہ، وفاقی حکومت، مقامی عمائدین اور مختلف سیاسی حلقوں کے درمیان رابطہ کاری اور اعتماد سازی میں معاونت کا موقع فراہم کرسکتی ہے۔ ان کی شمولیت کا مقصد کسی مخصوص جماعت کو سیاسی فائدہ پہنچانا یا انہیں غیرمعمولی اختیارات دینا نہیں، بلکہ ان کی صلاحیتوں کو صوبے کے اجتماعی مفاد کیلئے بروئے کار لانا ہونا چاہیے۔

تاہم ضروری ہے کہ اس مشاورتی عمل میں اسفندیار ولی خان، امیر حیدر خان ہوتی، بیرسٹر مسعود کوثر، ہمایون خان، سراج الحق اور مولانا فضل الرحمٰن سمیت دیگر مرکزی، صوبائی اور علاقائی سیاسی رہنماؤں کے علاوہ سول سوسائٹی کی بااثر شخصیات کو بھی شامل کیا جائے۔بعض رہنماؤں کو موجودہ انتظامات سے شدید اختلاف ہوسکتا ہے، مگر اختلافِ رائے مشاورت کی راہ میں رکاوٹ نہیں بننا چاہیے۔ سیاسی مفاہمت کا اصل امتحان مخالفانہ مؤقف رکھنے والی قوتوں کو بھی مذاکرات کی میز پر لانا ہے۔اس مشاورت کا بنیادی مقصد سیاسی اختلافات کم کرنا، باہمی اعتماد بحال کرنا اور امن، عوامی مسائل کے حل اور صوبے کی ترقی کیلئےمشترکہ حکمت عملی تشکیل دینا ہونا چاہیے۔ آج مسئلہ محض سیاست کا نہیں بلکہ صوبے کے ساڑھے چار کروڑ غم زدہ عوام کی بقا اور مستقبل کا ہے۔

سیاسی مفاہمت کی حقیقی اہمیت اسی وقت سامنے آئے گی جب وہ امن و امان کی بحالی، عوامی مشکلات کے ازالے اور معاشی ترقی کیلئے عملی اقدامات کی بنیاد بنے۔ سیاسی قیادت اور انتظامیہ کے درمیان اتفاقِ رائے ضروری ہے، مگر اس کے نتائج عام شہری کی زندگی میں بھی نظر آنے چاہییں۔

پائیدار امن کیلئے محض فوجی یا انتظامی اقدامات کافی نہیں ہونگے۔ دہشتگردی کیخلاف واضح پالیسی، مؤثر پولیسنگ، جدید انٹیلی جنس نظام، بہتر سرحدی انتظام اور مقامی آبادی کا تعاون ایک مربوط حکمت عملی کا حصہ ہونا چاہیے۔ قانون نافذ کرنیوالے اداروں کی کارروائیوں کے ساتھ شہریوں کے بنیادی حقوق کا تحفظ بھی ناگزیر ہے، کیونکہ عوامی اعتماد کے بغیر سلامتی کی کوئی حکمت عملی دیرپا کامیابی حاصل نہیں کرسکتی۔

خصوصاً سابق قبائلی اضلاع کے عوام کو یہ احساس دلانا ہوگا کہ وہ پاکستان کے مساوی حقوق رکھنے والے شہری ہیں اور ان کی اہمیت محض سکیورٹی مسائل تک محدود نہیں۔ تباہ شدہ تعلیمی اداروں، ہسپتالوں، سڑکوں اور کاروباری مراکز کی بحالی، بے گھر خاندانوں کی باعزت واپسی، نقصانات کے شفاف ازالے اور نوجوانوں کیلئے روزگار کی فراہمی فوری ترجیحات ہونی چاہییں۔

علاقائی نمائندہ و ترقیاتی کونسل کو محض سفارشات تک محدود رکھنے کے بجائے واضح اہداف، شفاف بجٹ اور عوامی جوابدہی کے نظام سے منسلک کیا جائے۔ ہر ضلع کی ضروریات کے مطابق منصوبوں کی ترجیحات طے کی جائیں اور ان کی تکمیل کی مدت مقرر ہو، تاکہ عوام کو معلوم ہوسکے کہ مختص وسائل کہاں خرچ ہوئے اور ان سے کیا نتائج حاصل ہوئے۔

خیبر پختونخوا میں پن بجلی، سیاحت، زراعت، معدنیات اور وسطی ایشیا کے ساتھ تجارت کے وسیع امکانات موجود ہیں۔ افغانستان کی جانب سے دہشت گرد عناصر کی حمایت کے خاتمے اور باہمی تعلقات میں بہتری سے سرحدی تجارت کے مواقع بھی بڑھ سکتے ہیں۔سوات، چترال، دیر اور ہزارہ میں سیاحت، جنوبی اضلاع میں زراعت اور قبائلی علاقوں میں چھوٹی صنعتوں کو فروغ دیا جائے۔ نوجوانوں کو فنی تعلیم، ڈیجیٹل مہارتیں اور آسان شرائط پر کاروباری قرضے فراہم کیے جائیں۔

صوبے اور وفاق کے درمیان مالی معاملات، ضم شدہ اضلاع کے ترقیاتی فنڈز، پن بجلی کے خالص منافع اور دیگر آئینی حقوق کے حوالے سے مستقل مذاکراتی نظام قائم ہونا چاہیے۔ وسائل کی منصفانہ تقسیم اور ترقیاتی منصوبوں کا تسلسل سیاسی وابستگیوں یا وقتی مفادات کا محتاج نہیں ہونا چاہیے۔

یہ بھی پیش نظر رہے کہ گورنر راج ایک غیرمعمولی آئینی انتظام ہے،مستقل سیاسی حل نہیں۔ اس کی کامیابی کا معیار محض انتظامی کنٹرول یا امن و امان میں عارضی بہتری نہیں، بلکہ منتخب جمہوری اداروں کی مؤثر بحالی کیلئے سازگار حالات پیدا کرنا ہونا چاہیے۔ تمام اہم سیاسی جماعتوں کے عوامی مینڈیٹ اور سیاسی وجود کو تسلیم کرنا ناگزیر ہے۔ سیاسی اختلافات کو ریاستی دشمنی میں تبدیل کرنے سے مسائل مزید گہرے ہوتے ہیں۔

اسی تناظر میں ایک وسیع البنیاد صوبائی امن و ترقی مشاورتی فورم کا قیام قابلِ غور ہے، جس میں آفتاب احمد خان شیرپاؤ سمیت مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں، مقامی نمائندوں، کاروباری حلقوں، خواتین اور نوجوانوں کو شریک کیا جائے۔ یہ فورم انتظامی کونسلوں کے متوازی اقتدار کا مرکز بننے کے بجائے سیاسی مکالمے، پالیسی مشاورت اور عوامی اعتماد کی بحالی میں معاون کردار ادا کرے۔ اس کی سفارشات واضح اور قابلِ عمل ہوں تاکہ مشاورت محض رسمی کارروائی نہ بنے۔

خیبر پختونخوا کو آج سیاسی بالغ نظری اور مشترکہ قومی سوچ کی ضرورت ہے۔ یہاں کے عوام بہت خون بہتا دیکھ چکے ہیں، بہت جنازے اٹھا چکے ہیں اور بہت وعدے سن چکے ہیں۔ اب انہیں سیاسی نعروں اور محاذ آرائی کے بجائے امن، روزگار، تعلیم، علاج اور محفوظ مستقبل چاہیے۔

آفتاب احمد خان شیرپاؤ اور دیگر تجربہ کار سیاسی شخصیات کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھانا اس سمت میں ایک مفید قدم ہوسکتا ہے، بشرطیکہ فیصلوں کا محور شخصیات یا سیاسی وابستگیوں کے بجائے عوامی مفاد، آئینی تقاضے اور شفاف حکمرانی ہوں۔

خیبر پختونخوا کو مزید سیاسی تجربات کی آماجگاہ بنانے کے بجائے مفاہمت، امن اور ترقی کا نمونہ بنانا ہوگا۔ اس صوبے کے زخموں پر مرہم رکھنے کا وقت آچکا ہے۔ دیرپا امن، ترقی اور خوشحالی یہاں کے عوام پر کوئی احسان نہیں، بلکہ ان کا بنیادی حق ہے۔