اسلام آباد (نمائندہ خصوصی) چیئرمین قومی احتساب بیورو لیفٹیننٹ جنرل نذیر احمد نے کہا ہے کہ نیب نے گزشتہ 9 ماہ کے دوران 14 کھرب روپے مالیت کی اراضی واگزار کرائی ہے، جبکہ ادارے نے اپنی ترجیحات تبدیل کرتے ہوئے ادارہ جاتی کرپشن کے خاتمے اور سرکاری اثاثوں کو قبضہ مافیا سے واگزار کرانے پر توجہ مرکوز کر دی ہے۔
چیئرمین نیب نے کہا کہ 50 کروڑ روپے سے کم مالیت کی کرپشن کے مقدمات پر کارروائی کے لیے نیب کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں۔ اس حوالے سے حکومت سے درخواست کی گئی ہے کہ ادارے کو 50 کروڑ روپے سے کم کرپشن کے مقدمات کی تحقیقات اور کارروائی کا اختیار دیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ ادارہ جاتی کرپشن کا خاتمہ نیب کا اہم ترین ہدف ہے اور ماضی کے مقابلے میں ادارے کی ترجیحات تبدیل ہو چکی ہیں۔ اب سرکاری اثاثوں اور قیمتی اراضی کو ناجائز قبضوں سے واگزار کرا کے بہتر طرزِ حکمرانی کو فروغ دینے پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔
چیئرمین نیب کے مطابق دستیاب اعداد و شمار میں کرپشن کے مقدمات میں ملوث افراد میں 60 فیصد سے زیادہ نجی کاروباری شعبے سے تعلق رکھتے ہیں، جبکہ 18 فیصد بیوروکریٹس، 8 فیصد بینک ڈیفالٹرز اور ساڑھے 4 فیصد سیاست دان شامل ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ چاروں صوبوں میں ریلوے، محکمہ جنگلات اور دیگر سرکاری اداروں کی اربوں روپے مالیت کی اراضی ناجائز قابضین سے واگزار کرائی گئی ہے۔ نیب کی آئندہ ترجیحات میں متروکہ وقف املاک بورڈ، محکمہ اوقاف اور دیگر اداروں کی سرکاری زمینوں سے قبضے ختم کرانا بھی شامل ہے، تاکہ یہ اثاثے حکومت کو واپس کیے جا سکیں۔
چیئرمین نیب نے کہا کہ بجلی کے شعبے میں کرپشن بھی ادارے کی ترجیحات میں شامل ہے۔ صنعتی ضروریات کے لیے بجلی پیدا کرنے والے کیپٹو پاور پلانٹس سے متعلق 2 مقدمات پر پہلے ہی کام جاری ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ خیبر پختونخوا، اسلام آباد، راولپنڈی اور گوجرانوالہ میں ریلوے اور دیگر سرکاری اراضی پر ناجائز قبضوں کی تحقیقات اور زمینوں کی واگزاری کو اولین ترجیحات میں شامل کیا گیا ہے۔
چیئرمین نیب نے بعض ممالک کے عدم تعاون پر بھی تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جمہوریت اور انسانی حقوق کے علمبردار بعض ممالک کرپشن اور منی لانڈرنگ کے خاتمے کے لیے پاکستان کے ساتھ تعاون نہیں کر رہے۔ان کا کہنا تھا کہ چیلنجز ضرور بڑھے ہیں، لیکن نظام کمزور نہیں ہوا اور ہر گزرتا دن بہتری کی جانب پیش رفت کا اشارہ دے رہا ہے۔ نیب کی کوششوں سے بہتر پاکستان کا مستقبل یقینی بنانے کے لیے ادارہ جاتی کرپشن کے خاتمے اور سرکاری اثاثوں کے تحفظ کا عمل جاری رکھا جائے گا۔

