اوودا، اسرائیل (وِن نیوز، ایکسیوس) امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے پیر کے روز اسرائیل کے جنوبی علاقے میں واقع اوودا فضائی اڈے پر وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو سے غیر اعلانیہ ملاقات کی۔ امریکی ویب سائٹ ایکسیوس نے معاملے سے باخبر 2 ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ یہ دورہ ایسے وقت میں ہوا جب اسرائیل میں عام انتخابات میں صرف 8 روز باقی تھے اور امریکا و اسرائیل کے درمیان ایران کیخلاف بڑے پیمانے پر فوجی کارروائیاں دوبارہ شروع کرنے کے امکان پر بات چیت جاری تھی۔
رپورٹ کے مطابق اوودا فضائی اڈے پر امریکی فضائیہ کے ایندھن بھرنے والے طیارے اور لڑاکا طیارے تعینات ہیں۔ تاہم ملاقات میں ہونے والی گفتگو کی تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔ امریکی محکمۂ دفاع اور واشنگٹن میں اسرائیلی سفارت خانے نے تبصرے سے گریز کیا، جبکہ اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر کی جانب سے بھی فوری طور پر کوئی جواب نہیں دیا گیا۔
امریکی وزیرِ دفاع کا یہ دورہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے نیتن یاہو کی کھلی حمایت کے ایک روز بعد سامنے آیا۔ ٹرمپ نے اتوار کو اپنے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر اسرائیلی عوام کے نام پیغام میں نیتن یاہو کو ایک عظیم جنگجو وزیراعظم اور ایران کیخلاف کارروائیوں میں امن کیلئے ایک اہم شراکت دار قرار دیتے ہوئے ان کی مکمل حمایت کا اعلان کیا تھا۔
ٹرمپ نے اپنے پیغام میں یہ بھی کہا تھا کہ اگر اسرائیلی عوام نے غلط رہنما کا انتخاب کیا تو ممکن ہے امریکا کو خود ایران کیخلاف باقی کارروائی مکمل کرنا پڑے۔
اسرائیل میں رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق نیتن یاہو کے دائیں بازو اور مذہبی جماعتوں پر مشتمل اتحاد کو آئندہ انتخابات میں پارلیمان کی 61 نشستوں پر مشتمل مطلوبہ اکثریت حاصل کرنے میں مشکلات کا سامنا ہو سکتا ہے۔ تاہم حزبِ اختلاف کو بھی حکومت بنانے کیلئےمطلوبہ حمایت جمع کرنے میں دشواری پیش آ رہی ہے۔
27 اکتوبر کو ہونیوالے یہ انتخابات 7 اکتوبر 2023ء کو حماس کے حملے اور اس کے بعد غزہ، لبنان اور ایران سے متعلق متعدد محاذوں پر جاری جنگوں کے بعد اسرائیل کے پہلے عام انتخابات ہوں گے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مقرر کیے گئے پیٹ ہیگسیتھ ان تنازعات کے دوران اسرائیل کیلئے امریکی فوجی معاونت میں رابطہ کاری کے عمل میں اہم کردار ادا کرتے رہے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق دورے کو غیر اعلانیہ رکھنے سے اس وقت کی حساسیت نمایاں ہوتی ہے، جب اسرائیلی ووٹر انتخابات کی تیاری کر رہے ہیں اور خطے میں سلامتی کی صورتِ حال بدستور کشیدہ ہے۔
تاہم رپورٹ میں یہ تصدیق نہیں کی گئی کہ ملاقات میں ایران کے خلاف نئی فوجی کارروائی کی منظوری دی گئی یا اس حوالے سے کوئی حتمی فیصلہ ہوا۔

