نظام ناکام ہے: قوم کو اعتراف نہیں، عمل چاہیے

وزیرِ داخلہ محسن نقوی کا یہ بیان کہ ’’کوئی مانے یا نہ مانے، ہمارا نظام تباہ یا ناکام ہو چکا ہے‘‘، اب اس کی جتنی بھی تاویلیں پیش کی جائیں، اسے جس قدر بھی ادھر اُدھر موڑا جائے یا مختلف معنی پہنائے جائیں، معمول کی سیاسی بیان بازی نہیں۔ یہ ریاستی نظام کے بارے میں ایک نہایت اہم اعتراف ہے، اور بدقسمتی سے زمینی حقائق بھی اس کی تائید کرتے ہیں۔

جب حکومت کا ایک بااختیار عہدیدار یہ تسلیم کرے کہ موجودہ نظام مطلوبہ نتائج دینے میں ناکام ہو چکا ہے تو بنیادی سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ نظام ناکام کیوں ہوا، اس ناکامی کے ذمہ دار کون ہیں اور اب اس کی اصلاح کے لیے کیا عملی اقدامات کیے جائیں گے؟

یہ سوال بھی اہم ہے کہ جس نظام کو آج ناکام قرار دیا جا رہا ہے، اسے اس مقام تک پہنچانے میں گزشتہ کئی دہائیوں کے حکمرانوں، سیاسی جماعتوں، طاقتور اداروں، نوکر شاہی، عدالتی ڈھانچے، کاروباری اشرافیہ اور مفاداتی گروہوں نے کیا کردار ادا کیا۔ پاکستان کی تقریباً آٹھ دہائیوں پر محیط تاریخ ہمارے سامنے ہے۔ اس دوران کبھی جمہوریت کو تسلسل کے ساتھ چلنے نہیں دیا گیا، کبھی آئین معطل ہوا، کبھی انتخابات کی ساکھ متنازع بنائی گئی، کبھی سیاسی انجینئرنگ ہوئی اور کبھی احتساب کو سیاسی مخالفین کے خلاف استعمال کیا گیا۔ ان مسلسل تجربات کی سب سے بھاری قیمت عام پاکستانی نے ادا کی۔

تاہم اب صرف ذمہ داروں کی فہرست مرتب کرنا کافی نہیں۔ سب سے تلخ حقیقت یہ ہے کہ موجودہ نظام عوام کو ان کے بنیادی آئینی، معاشی اور سماجی حقوق فراہم کرنے میں ناکام ہے۔ پاکستان کی آبادی پچیس کروڑ سے تجاوز کر چکی ہے اور غربت کے مختلف عالمی پیمانوں کے مطابق کروڑوں شہری غربت یا شدید معاشی عدم تحفظ کا شکار ہیں۔ عالمی اداروں کے اعدادوشمار اور زمینی حقائق دونوں یہ ظاہر کرتے ہیں کہ صورتِ حال انتہائی تشویش ناک ہے۔

غربت محض کم آمدنی کا نام نہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک خاندان کو یہ فیصلہ کرنا پڑے کہ بچوں کی فیس ادا کی جائے، بجلی کا بل بھرا جائے، گھر کا کرایہ دیا جائے یا بیمار والدین کیلئے دوا خریدی جائے۔ لاکھوں خاندان مناسب خوراک، صاف پانی، محفوظ رہائش اور بنیادی علاج تک سے محروم ہیں۔ مہنگائی نے متوسط طبقے کو بھی غربت کے کنارے لا کھڑا کیا ہے، جبکہ کم آمدنی والے طبقے کیلئے زندگی مسلسل آزمائش بن چکی ہے۔

تعلیم کی صورتِ حال بھی قومی ہنگامی حالت سے کم نہیں۔ یونیسف کے مطابق پانچ سے سولہ سال کی عمر کے تقریباً دو کروڑ اکیاون لاکھ بچے سکولوں سے باہر ہیں۔ یہ دنیا میں سکول نہ جانیوالے بچوں کی دوسری سب سے بڑی تعداد ہے۔ ایک ایسا ملک، جس کے کروڑوں بچے تعلیم سے محروم ہوں، مستقبل میں ترقی یافتہ، مستحکم اور جدید معیشت کا خواب کیسے دیکھ سکتا ہے؟ جو بچے سکول جا رہے ہیں، ان میں سے بھی بڑی تعداد ایسے اداروں میں پڑھتی ہے جہاں بنیادی سہولتیں، تربیت یافتہ اساتذہ، جدید نصاب اور معیاری تدریس میسر نہیں۔

صحت کے شعبے میں بھی صورتِ حال مختلف نہیں۔ سرکاری ہسپتالوں میں مریضوں کا ہجوم، ادویات کی قلت، عملے کی کمی اور ناقص انتظام معمول بنتا جا رہا ہے۔ دیہی علاقوں میں بہت سے بنیادی مراکزِ صحت یا تو غیر فعال ہیں یا ضروری سہولتوں سے محروم۔ عام شہری کے لیے سنگین بیماری صرف جسمانی تکلیف نہیں رہتی بلکہ پورے خاندان کے معاشی انہدام کا سبب بھی بن سکتی ہے۔ لوگ علاج کیلئے قرض لیتے ہیں، زیورات سے لے کر گھر کا سامان تک فروخت کرتے ہیں اور اپنی محدود جمع پونجی خرچ کر دیتے ہیں۔

روزگار کے مناسب مواقع نہ ہونے کے باعث نوجوانوں میں بے یقینی بڑھ رہی ہے۔ تعلیم یافتہ نوجوان برسوں ملازمت کی تلاش میں رہتے ہیں، جبکہ سرکاری ملازمتوں میں میرٹ کے حوالے سے سوالات اٹھتے رہتے ہیں۔ باصلاحیت افراد بڑی تعداد میں ملک چھوڑ رہے ہیں۔ یہ محض ’’برین ڈرین‘‘ نہیں بلکہ ریاست اور نظام پر نوجوان نسل کے کم ہوتے اعتماد کا اظہار بھی ہے۔ جب کسی نوجوان کو یہ یقین ہو جائے کہ اس کی قابلیت سے زیادہ سیاسی تعلق، سفارش، خاندانی حیثیت یا رشوت اہم ہے تو وہ اس نظام سے امید کیسے وابستہ رکھ سکتا ہے؟

اگر ریاستی سطح پر واقعی یہ احساس پیدا ہو چکا ہے کہ نظام مؤثر طور پر کام نہیں کر رہا اور عوام کو مطلوبہ سہولتیں فراہم کرنے میں ناکام ہے تو پھر رسمی کمیٹیوں، نمائشی اجلاسوں، طویل رپورٹوں اور وقتی اعلانات سے کام نہیں چلے گا۔ پاکستان میں اصلاحات کے نام پر ماضی میں بہت خانہ پُری ہو چکی۔ اب ریاستی نظام کی جامع، سنجیدہ اور غیر جانب دارانہ اصلاح کی ضرورت ہے۔ یہ عمل کسی سیاسی مصلحت، ذاتی تعلق یا طاقتور شخص یا ادارے کے مفاد کا تابع نہیں ہونا چاہیے۔

سب سے پہلے ریاست کے تمام اداروں کو آئین میں متعین اپنی حدود کے اندر کام کرنا ہوگا۔ جمہوری تسلسل، آزاد اور قابلِ اعتماد انتخابات، بااختیار پارلیمان، غیر جانب دار انتظامیہ اور آزاد عدلیہ کے بغیر کوئی اصلاح دیرپا ثابت نہیں ہو سکتی۔ پاکستان کی تاریخ سے یہ سبق سیکھنا چاہیے کہ سیاسی انجینئرنگ، سیاست دانوں کی طاقتور حلقوں کی خوشنودی سے اقتدار میں آنے کی خواہش، غیر آئینی مداخلت اور مصنوعی قیادتیں وقتی طور پر کسی گروہ کو فائدہ دے سکتی ہیں، لیکن طویل مدت میں پورے ریاستی ڈھانچے کو کمزور کرتی ہیں۔ وہ تمام راستے مستقل طور پر بند کرنا ہوں گے جن کے ذریعے ماضی کی غلطیوں کو دوبارہ دہرایا جا سکے۔

دوسرا بنیادی قدم بدعنوانی کے خلاف حقیقی معنوں میں زیرو ٹالرنس کی پالیسی ہے۔ اس کا اطلاق صرف مخالف سیاسی جماعتوں، کمزور سرکاری اہلکاروں یا چند نمائشی مقدمات تک محدود نہیں ہونا چاہیے۔ وزیر ہو، جرنیل، جج، بیوروکریٹ، کاروباری شخصیت یا کسی طاقتور ادارے سے وابستہ فرد، کوئی بھی قانون سے بالاتر نہیں ہونا چاہیے۔ بدعنوانی چاہے مالی نوعیت کی ہو، اختیارات کے ناجائز استعمال کی صورت میں ہو، سرکاری وسائل کی بندر بانٹ ہو یا اقرباپروری، سب کیلئے یکساں قانون اور یکساں احتساب ہونا چاہیے۔

اس مقصد کیلئے ایسا احتسابی نظام وضع کرنا ضروری ہے جو حکومتِ وقت کے ماتحت نہ ہو۔ احتسابی اداروں کے سربراہوں کی تقرری شفاف پارلیمانی عمل اور واضح پیشہ ورانہ معیار کے تحت ہونی چاہیے جبکہ اداروں کی خودمختاری کیلئےمؤثر قانونی تحفظ موجود ہو۔ تحقیقات مقررہ مدت میں مکمل ہوں، مقدمات کے فیصلوں کیلئے آزاد اور مؤثر عدالتی نظام ہو اور کارروائی حتی الامکان شفاف رکھی جائے۔ جھوٹے مقدمات بنانے والوں اور سیاسی انتقام کیلئے احتسابی اداروں کو استعمال کرنے والوں کا بھی احتساب ہونا چاہیے۔

احتساب صرف سزا کا نام نہیں۔ سرکاری خریداری، ترقیاتی منصوبوں، اثاثوں کے اعلانات اور مفادات کے ٹکراؤ جیسے معاملات میں بدعنوانی کو وقوع پذیر ہونے سے پہلے روکنے کیلئے مضبوط حفاظتی نظام قائم کرنا بھی اتنا ہی ضروری ہے۔

تیسری اہم ضرورت ریاستی اخراجات اور ٹیکس کے نظام کی اصلاح ہے۔ ایک ایسے ملک میں جہاں کروڑوں لوگ بنیادی ضروریات سے محروم ہوں، حکمران طبقات کی غیر معمولی مراعات، سرکاری گاڑیوں، مفت ایندھن، بڑے سرکاری گھروں، بے جا پروٹوکول اور غیر ضروری بیرونی دوروں کا جواز پیش کرنا مشکل ہے۔ ٹیکس کا بوجھ تنخواہ دار اور کم آمدنی والے طبقے پر ڈالنے کے بجائے بڑی جائیدادوں، غیر معمولی دولت، غیر دستاویزی کاروبار، بڑے زرعی مفادات اور مراعات یافتہ شعبوں کو منصفانہ ٹیکس نظام کے دائرے میں لانا ہوگا۔

تعلیم اور صحت کو خیرات نہیں بلکہ ریاست کی بنیادی ذمہ داری سمجھنا ہوگا۔ ہر بچے کیلئےمعیاری سکول، ہر شہری کیلئےبنیادی علاج اور ہر نوجوان کیلئےہنر سیکھنے کا موقع فراہم کیے بغیر کوئی معاشی منصوبہ دیرپا کامیابی حاصل نہیں کر سکتا۔ تعلیمی بجٹ میں مرحلہ وار اضافہ کیا جائے، اساتذہ کی بھرتی اور ترقی مکمل طور پر میرٹ پر ہو اور سکولوں کی کارکردگی کی آزادانہ جانچ کا نظام قائم کیا جائے۔ اسی طرح صحت کے بجٹ، بنیادی مراکزِ صحت، ادویات کی دستیابی اور حفاظتی طبی پروگراموں کو قومی ترجیح بنایا جائے۔

پاکستان کے پاس دنیا بھر میں موجود لاکھوں ہنرمند اور تجربہ کار پاکستانیوں کی صورت میں ایک بڑا اثاثہ بھی موجود ہے۔ طب، سائنس، انجینئرنگ، انفارمیشن ٹیکنالوجی، معیشت، تعلیم، شہری منصوبہ بندی، توانائی، زراعت اور سرکاری نظم و نسق کے شعبوں میں بیرونِ ملک مقیم پاکستانی نمایاں خدمات انجام دے رہے ہیں۔ ان میں سے بہت سے لوگ پاکستان کی بہتری میں عملی کردار ادا کرنے کی خواہش رکھتے ہیں۔

ریاست کو ایسے افراد سے منظم انداز میں رجوع کرنا چاہیے، لیکن ان کا انتخاب سیاسی وابستگی، ذاتی تعلق، خاندانی شناخت یا کسی بااثر شخصیت کی سفارش پر نہیں ہونا چاہیے۔ ان کی پیشہ ورانہ شہرت، دیانت، تجربے، سابقہ کارکردگی اور عملی صلاحیت کا غیر جانب دارانہ جائزہ لیا جائے۔ یہ دیکھا جائے کہ متعلقہ فرد نے اپنے شعبے میں واقعی کیا حاصل کیا ہے اور پاکستان کے مخصوص حالات میں وہ کون سے قابلِ عمل حل دے سکتا ہے۔ انہیں نمائشی مشاورتی کونسلوں کا رکن بنانے کے بجائے واضح اہداف، مدت، اختیار اور جواب دہی کے ساتھ ذمہ داریاں دی جائیں۔

اس کے ساتھ ملک کے اندر موجود دیانت دار، اہل اور غیر معروف ماہرین کو بھی سامنے لانا ہوگا۔ پاکستان میں صلاحیت کی کمی نہیں؛ مسئلہ یہ ہے کہ مواقع اکثر اہل افراد کے بجائے تعلقات رکھنے والوں کو مل جاتے ہیں۔ اہم سرکاری عہدوں کے لیے کھلی درخواستیں، واضح معیارِ اہلیت، آزاد سلیکشن بورڈ اور تقرری کی وجوہات کی مناسب عوامی وضاحت ہونی چاہیے۔ اداروں کی قیادت وفاداری کی بنیاد پر نہیں بلکہ قابلیت، کردار اور کارکردگی کی بنیاد پر منتخب ہونی چاہیے۔

اصلاحات کیلئے ایک قومی کمیشن قائم کیا جا سکتا ہے، مگر یہ روایتی سرکاری کمیشن نہیں ہونا چاہیے جس کی رپورٹ چند ماہ بعد کسی الماری کی زینت بن جائے۔ اس میں آئینی ماہرین، ماہرینِ معیشت، تعلیم، صحت، ٹیکنالوجی، مقامی حکومت، عدالتی اصلاحات اور انتظامی امور کے مستند ماہرین شامل ہوں۔ کمیشن کو چھ یا نو ماہ کے اندر قابلِ عمل سفارشات، ضروری قانون سازی کے مسودے، اخراجات کے تخمینے اور نفاذ کا واضح طریقۂ کار پیش کرنے کا پابند بنایا جائے۔ اس کی کارروائی اور پیش رفت بھی عوام کے سامنے ہونی چاہیے۔

سب سے بڑھ کر اصلاحات کا آغاز مقامی حکومتوں کو بااختیار بنانے سے ہونا چاہیے۔ عام شہری کا روزمرہ واسطہ وفاقی دارالحکومت سے نہیں بلکہ بلدیہ، پولیس، محکمۂ مال، سرکاری سکول، ہسپتال اور مقامی انتظامیہ سے پڑتا ہے۔ بااختیار اور مالی طور پر خودمختار مقامی حکومتوں کے بغیر ریاستی خدمات مؤثر طور پر عوام کی دہلیز تک نہیں پہنچ سکتیں۔ اختیارات کو اسلام آباد اور صوبائی دارالحکومتوں میں مرکوز رکھنے کے بجائے اضلاع، تحصیلوں اور یونین کونسلوں تک منتقل کرنا ہوگا۔

نظام کی ناکامی کا اعتراف اسی وقت قابلِ قدر ہوگا جب اس کے بعد مشکل فیصلے کیے جائیں۔ اگر اصلاحات صرف وہاں تک محدود رہیں جہاں کسی طاقتور شخص، طبقے یا ادارے کے مفاد کو نقصان نہ پہنچے تو یہ تبدیلی نہیں بلکہ ایک اور سیاسی مشق ہوگی۔ حقیقی اصلاح وہی ہے جو مراعات یافتہ طبقات کی غیر منصفانہ طاقت محدود کرے، اداروں کو آئینی حدود میں رکھے، قانون کو سب پر یکساں نافذ کرے اور ریاستی وسائل کا رخ عوامی فلاح کی طرف موڑے۔

پاکستان اب مزید تجربات، مصلحتوں اور وقتی بندوبست کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ آٹھ دہائیوں کی غلطیوں سے سبق سیکھنے کا مطلب صرف ان کا ذکر کرنا نہیں بلکہ ان کے اعادے کے قانونی، سیاسی اور انتظامی راستے بند کرنا ہے۔ اگر موجودہ نظام واقعی ناکام ہو چکا ہے تو اسے مصنوعی سہارا دے کر مزید چلانے کے بجائے دیانت، میرٹ، آئین، شفافیت اور عوامی فلاح کی بنیاد پر ازسرِنو تعمیر کرنا ہوگا۔

ورنہ نظام کی ناکامی کا اعتراف بھی محض ایک اور بیان بن کر رہ جائے گا، اور عام پاکستانی کی زندگی غربت، ناانصافی، بے روزگاری اور محرومی کے اسی دائرے میں گھومتی رہے گی۔