نیو یارک:اسرائیلی سفیر اور اقوام متحدہ کی عہدیدار کے درمیان سخت جملوں کا تبادلہ

نیو یارک( رائٹرز، اقوام متحدہ)اقوام متحدہ میں بچوں اور مسلح تنازعات سے متعلق ایک عوامی اجلاس کے دوران اس وقت سخت کشیدگی پیدا ہوگئی جب اسرائیل کے سفیر ڈینی ڈینن اور اقوام متحدہ کی اعلیٰ عہدیداروں کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا اور اجلاس شور شرابے کا شکار ہو گیا۔

اجلاس میں اقوام متحدہ کی سیکریٹری جنرل کی خصوصی نمائندہ برائے بچوں اور مسلح تنازعات پر کام کرنے والی پرمیلا پیٹن اور اقوام متحدہ کی ایک اور عہدیدار وینیسا فریزر کی رپورٹس پر بحث ہو رہی تھی، جن میں پہلی مرتبہ اسرائیل کو بچوں کے خلاف مبینہ خلاف ورزیوں کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔

اسرائیلی سفیر ڈینی ڈینن نے اجلاس کے دوران پرمیلا پیٹن پر الزام لگاتے ہوئے ان کے استعفے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ ان کی رپورٹ جانبدارانہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریش اسرائیل کو ہدف بنانے کے “جنون” میں مبتلا ہیں۔

اجلاس کے دوران وینیسا فریزر نے مداخلت کرتے ہوئے سفیر سے جذباتی اور ذاتی حملے بند کرنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ ان کے پاس”مصدقہ شواہد” موجود ہیں۔ اس پر صورتحال مزید بگڑ گئی۔

ڈینی ڈینن نے جواب میں کہا کہ اقوام متحدہ کی رپورٹ غلط اور شرمناک ہے اور انہیں خاموش رہنا چاہیے، جس کے بعد اجلاس میں ماحول انتہائی تلخ ہو گیا۔

رپورٹس کے مطابق اقوام متحدہ کی ایک تازہ رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ اسرائیلی آبادکار گروہوں کی جانب سے بچوں کیخلاف خلاف ورزیوں میں اضافہ ہو رہا ہے، جبکہ اسرائیل اور حماس دونوں کو”بلیک لسٹ” میں شامل کیا گیا ہے۔اس واقعے کے بعد اقوام متحدہ کے اندر جاری تنازعات اور رپورٹس کی غیر جانبداری پر ایک نئی بحث شروع ہو گئی ہے۔