اوٹاوا (سی بی سی) کینیڈا اور امریکا کے درمیان تجارتی جنگ کے دوران وائٹ ہاؤس نے کینیڈا پر امریکی گاڑیوں کی درآمد پر 25 فیصد ’’امتیازی‘‘ ٹیرف عائد کرنے کا الزام عائد کیا ہے، تاہم اس دعوے کے پس منظر میں موجود اہم حقیقت یہ ہے کہ کینیڈا نے یہ ٹیرف امریکا کی جانب سے اسی نوعیت کے اقدام کے جواب میں نافذ کیا تھا۔
وائٹ ہاؤس کے بیان میں کہا گیا ہے کہ کینیڈا نے امریکا سے درآمد ہونے والی گاڑیوں پر 25 فیصد ٹیرف عائد کیا، جبکہ کسی دوسرے ملک سے آنے والی گاڑیوں پر ایسا محصول نہیں لگایا گیا۔ یہ بات اپنی جگہ درست ہے، تاہم کینیڈا نے یہ اقدام 9 اپریل 2025 کو امریکا کی جانب سے کینیڈین گاڑیوں پر اسی نوعیت کا ٹیرف عائد کیے جانے کے چند روز بعد کیا تھا۔
کینیڈین حکومت کے مطابق 9 اپریل 2025 کو عائد کیا گیا 25 فیصد ٹیرف امریکا سے درآمد ہونے والی غیر-CUSMA compliant گاڑیوں پر لاگو ہوتا ہے۔ یہ اقدام امریکی پالیسی کے جواب میں تھا، جس کے تحت امریکا نے کینیڈا سے درآمد ہونے والی گاڑیوں پر 25 فیصد ٹیرف عائد کیا تھا۔
رپورٹس کے مطابق امریکا کے اصل آٹو ٹیرف کا اطلاق CUSMA کے تحت درآمد ہونے والی گاڑیوں میں غیر امریکی مواد اور CUSMA کے تحت درآمد نہ ہونے والی گاڑیوں کی مکمل مالیت پر ہوتا ہے۔ کینیڈا نے اسی تناظر میں اپنے جوابی ٹیرف کا نفاذ کیا۔
امریکا اور کینیڈا کے درمیان حالیہ مذاکرات میں گاڑیوں پر عائد ان ٹیرفس کو ختم یا کم کرنا بھی اہم معاملات میں شامل تھا، تاہم مذاکرات جمعے کو کسی معاہدے کے بغیر ختم ہوگئے۔
کینیڈین حکومت کا مؤقف ہے کہ اس کے جوابی اقدامات امریکی محصولات کے جواب میں کیے گئے ہیں، جبکہ واشنگٹن انہیں کینیڈا کی جانب سے غیر منصفانہ تجارتی رویے کی مثال قرار دے رہا ہے۔
کینیڈا اور امریکا کے درمیان تجارتی تنازع میں گاڑیوں کا شعبہ خاص اہمیت رکھتا ہے کیونکہ دونوں ممالک کی آٹو صنعتیں ایک دوسرے کی سپلائی چینز پر گہرا انحصار کرتی ہیں۔ کینیڈا کے سرکاری تجارتی اعداد و شمار کے مطابق 2025 میں امریکی ٹیرف اور تجارتی پالیسی سے پیدا ہونے والی غیر یقینی صورتِ حال نے کینیڈا کی امریکا کو برآمدات، بالخصوص موٹر گاڑیوں اور ان کے پرزہ جات، کو متاثر کیا۔

