واشنگٹن( رائٹرز)دنیا کے امیر ترین افراد میں شمار ہونے والے ایلون مسک اوپن اے آئی کے خلاف دائر مقدمہ ہار گئے۔رائٹرز کے مطابق امریکی جیوری نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ اوپن اے آئی کو اس بات کا ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جا سکتا کہ اس نے انسانیت کی بھلائی سے متعلق اپنے ابتدائی مشن سے انحراف کیا۔
جیوری نے متفقہ طور پر کہا کہ ایلون مسک نے یہ مقدمہ بہت تاخیر سے دائر کیا۔مقدمے کی سماعت 28 اپریل سے شروع ہوئی اور 11 روز تک جاری رہی، جس کے دوران مصنوعی ذہانت کے مستقبل، اس کے استعمال اور مالی فوائد سے متعلق اہم نکات زیر بحث آئے۔سماعت کے دوران اوپن اے آئی کے سربراہ سیم آلٹمین اور ایلون مسک دونوں کے مؤقف پر سوالات بھی اٹھائے گئے۔
ایلون مسک نے الزام عائد کیا تھا کہ اوپن اے آئی نے غیر منافع بخش ادارے کے بنیادی مقصد کو نظر انداز کرتے ہوئے سرمایہ کاروں کے مفادات کو ترجیح دی، جبکہ اوپن اے آئی نے جواب میں کہا کہ مسک خود مالی مفادات کے تحت مقدمہ لے کر آئے۔
رپورٹ کے مطابق مائیکروسافٹ نے اوپن اے آئی کے ساتھ شراکت داری میں 100 ارب ڈالر سے زائد سرمایہ کاری کر رکھی ہے، جبکہ ایلون مسک کی مصنوعی ذہانت کمپنی ایکس اے آئی بھی اس شعبے میں مقابلے میں شامل ہے۔

