ٹرمپ کاتمام مسلم ممالک سے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کا مطالبہ

واشنگٹن(ایکسیوس، عالمی میڈیا، ٹروتھ سوشل)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدے سے قبل پاکستان، سعودی عرب، قطر، ترکیہ، مصر اور اردن سمیت مسلم ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کے لیے ابراہیمی معاہدے میں شامل ہوں۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری اپنے بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات “اچھے انداز میں آگے بڑھ رہے ہیں” اور یا تو یہ سب کے لیے ایک عظیم معاہدہ ہوگا یا پھر کوئی معاہدہ نہیں ہوگا۔

انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ایران کے ساتھ معاہدہ نہ ہوا تو صورتحال دوبارہ جنگ کی طرف جا سکتی ہے، اور یہ جنگ پہلے سے کہیں زیادہ بڑی اور شدید ہوگی۔ٹرمپ نے کہا کہ مسلم اور عرب رہنماؤں سے گفتگو کے دوران انہوں نے واضح کیا کہ امریکا کی تمام سفارتی کوششوں کے بعد ان ممالک کے لیے “لازمی” ہونا چاہیے کہ وہ بیک وقت ابراہیمی معاہدے پر دستخط کریں۔

انہوں نے خاص طور پر سعودی عرب، قطر، پاکستان، ترکیہ، مصر اور اردن کا نام لیا، جبکہ متحدہ عرب امارات اور بحرین کے رہنماؤں سے بھی اس حوالے سے بات چیت کا ذکر کیا۔رپورٹ کے مطابق یہ واضح نہیں کہ مصر اور اردن کو ابراہیمی معاہدے میں شامل ہونے کی ضرورت کیوں پیش کی گئی، کیونکہ مصر 1978ء اور اردن 1994ء سے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات رکھتے ہیں۔

سعودی عرب نے ماضی میں متعدد بار واضح کیا ہے کہ وہ فلسطینی ریاست کے قیام سے قبل اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا، جبکہ پاکستان بھی آزاد فلسطینی ریاست کے قیام تک اسرائیل کو تسلیم نہ کرنے کے مؤقف پر قائم ہے۔قطر کے اسرائیل کے ساتھ باضابطہ تعلقات نہیں، تاہم غزہ جنگ کے دوران قطر نے ثالثی میں اہم کردار ادا کیا۔

امریکی ویب سائٹ ایکسیوس کے مطابق ایک امریکی عہدیدار نے بتایا کہ جن رہنماؤں سے ٹرمپ نے اس معاملے پر بات کی، انہوں نے خاموشی اختیار کیے رکھی، جس پر ٹرمپ نے مذاقاً پوچھا کہ “کیا آپ اب بھی لائن پر موجود ہیں؟”

ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران کے ساتھ معاہدہ طے پانے کے بعد متعدد ممالک ایران کو بھی ابراہیمی معاہدے کا حصہ بنتے دیکھنے پر خوش ہوں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ ابراہیمی معاہدوں نے متحدہ عرب امارات، بحرین، مراکش اور سوڈان سمیت شامل ممالک کے لیے معاشی اور سماجی فوائد پیدا کیے ہیں اور مستقبل میں اس سے بڑا کوئی اتحاد نہیں ہوگا۔

امریکی صدر نے اپنے نمائندوں اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر کو ہدایت کی کہ وہ مزید ممالک کو اس معاہدے میں شامل کرنے کے عمل کو فوری مکمل کریں۔دوسری جانب اسرائیلی میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیلی حکام کو خدشہ ہے کہ ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدہ اسرائیل کے مفادات کے مطابق نہیں ہوگا، کیونکہ اس میں ایران کے جوہری اور بیلسٹک میزائل پروگرام یا خطے میں اس کے اتحادی گروپوں کی حمایت جیسے معاملات شامل نہیں۔