ٹورنٹو (سی بی سی)برامپٹن سے لاپتا ہونیوالے 16 سالہ نوجوان جے سیا ویب لانگ کی لاش صوبہ سسکیچیوان کے دور دراز علاقے سے مل گئی ہے.اہلِ خانہ شدید صدمے میں ہیں۔
رپورٹ کے مطابق 13 مئی کو رائل کینیڈین ماونٹڈ پولیس نے پیلیکن نیروز کے قریب انسانی باقیات برآمد کیں، جن کی بعد ازاں شناخت جے سیا ویب لانگ کے طور پر کی گئی۔ پیلیکن نیروز، پیٹر بیلنٹائن کری نیشن کمیونٹی کا حصہ ہے اور ساسکاٹون سے تقریباً 420 کلومیٹر شمال میں واقع ہے۔
لاپتا سیاہ فام بچوں کی تلاش کیلئے قائم تنظیم “فائنڈ اونٹاریو مسنگ بلیک بوائز”کی بانی شانا میکالا نے کہا کہ خاندان اس وقت شدید غم اور اذیت میں مبتلا ہے۔انہوں نے سی بی سی ریڈیو سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ خاندان کو امید تھی کہ جے سیا ویب لانگ زندہ مل جائے گا، مگر یہ خبر ناقابلِ تصور نقصان ثابت ہوئی۔
شانا میکالا کے مطابق خاندان یہ جاننے کی کوشش کر رہا ہے کہ نوجوان سسکیچیوان کیسے پہنچا، جہاں ان کا کوئی تعلق یا رشتہ دار موجود نہیں تھا۔انہوں نے کہا کہ یہ معاملہ اونٹاریو میں لاپتا ہونے والے سیاہ فام لڑکوں کے بڑھتے ہوئے بحران کا حصہ ہے، جسے سنجیدگی سے لینے کی ضرورت ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ایک بچے کا برامپٹن سے پیلیکن نیروز تک پہنچ جانا حیران کن ہے اور غالب امکان یہی ہے کہ کسی نے اس کے سفر میں مدد کی۔شانا میکالا نے الزام عائد کیا کہ بعض اوقات قانون نافذ کرنے والے ادارے ایسے بچوں کو “گھر سے بھاگ جانے والے” قرار دے کر تحقیقات میں تاخیر کرتے ہیں یا مختلف علاقوں کے درمیان مؤثر رابطہ نہیں ہوتا۔
ان کے مطابق پیل ریجنل پولیس نے بھی ابتدا میں معاملے کو سنجیدگی سے نہیں لیا کیونکہ نوجوان کی اپنی والدہ سے مارچ سے مئی کے دوران سوشل میڈیا پر محدود رابطہ رہا تھا۔انہوں نے کہا کہ جب خاندان یہ کہے کہ بچے کا رویہ غیرمعمولی ہے اور وہ کبھی اس علاقے میں نہیں گیا، تو فوراً خطرے کی گھنٹی بج جانی چاہیے۔
رپورٹ کے مطابق شانا میکالا نے رواں برس اونٹاریو کے سالیسیٹر جنرل کو ایک سفارشاتی رپورٹ بھی بھجوائی تھی، جس میں لاپتا سیاہ فام لڑکوں کے مسئلے کے حل کیلئے 15 تجاویز شامل تھیں۔سی بی سی کے تحقیقی پروگرام “ففتھ اسٹیٹ” کی ایک رپورٹ میں بھی ان خدشات کا ذکر کیا گیا تھا کہ گریٹر ٹورنٹو ایریا سے لاپتا ہونے والے بعض لڑکوں کو شمالی اونٹاریو میں منشیات کے اڈوں پر کام کیلئےمنتقل کیا جا رہا ہے۔

