پاسپورٹ ہو تو نیلا ہو!

ہندوستان پر 100 برس حکمرانی کرنے والا انگریزی سامراج 1947ء میں بیدخل تو ہو گیا لیکن اپنی جگہ سول بیورو کریسی اور نوابوں، زمینداروں، جاگیرداروں کی شکل میں (لارڈز) چھوڑ گیا۔ یہ اپنی دولت، ہاریوں کے ووٹوں کے بل بوتے پر عوام کے نمائندوں کا روپ دھار کر ایوانوں میں براجمان ہیں۔ انگریز نے اپنے ان کالے نمائندوں کو اپنے مسلمان بھائیوں کو جنگ آزادی کچلنے میں مدد دینے پر سینکڑوں ایکڑ زمینیں الاٹ کی تھیں۔ یہ اپنے اصلی آقا انگریز کے جانے کے بعد اپنے آپ کو اس ملک کا ”خدا“ سمجھتے ہیں۔ اپنی طاقت اور پیسے کے بل بوتے پر یہ لوگ پاکستان کے قانون ساز اداروں (اسمبلیوں) پر قابض ہیں وہ اسمبلیاں جہاں عوامی نمائندوں کو ووٹ دینے والوں کے حقوق کی بات ہونی چاہئے،ان کی فلاح و بہبود کیلئے قانون سازی ہونی چاہئے مگر وہاں یہ لارڈز اپنے لئے قانون سازی کر رہے ہیں۔ انہیں ”اپنی اہلیہ / اپنے شوہر“ کیلئے تا حیات اور اپنے 28 سال تک کے بچوں کیلئے نیلا پاسپورٹ چاہئے۔یہ آج نیلا پاسپورٹ مانگ رہے ہیں اور لگتا ہے کہ کل یہ ”سرخ ڈپلو میٹک پاسپورٹ“ بھی مانگیں گے، کیونکہ ”بھوکے“ کی ہوس کبھی ختم نہیں ہوتی۔ پاکستان کے 25 کروڑ عوام کیلئے سبز پاسپورٹ ہے۔وہ سبز پاسپورٹ جس کی عزت ہمارے حکمرانوں کی پالیسیوں کی بدولت آج دنیا میں نہ ہونے کے برابر ہے۔دنیا کے 199 ممالک کے پاسپورٹوں میں ہمارا نمبر 98 ہے اور ہم سے نیچے صرف تین ممالک ہیں۔ نیچے سے اول نمبر پر عراق، نمبر 2 پر ملک شام اور تیسرے نمبر پر افغانستان ہے۔ نیچے سے چوتھے نمبر پر ہمارا عظیم پاکستان ہے، لہٰذا گورے انگریز کے چھوڑے (سول بیورو کریسی)، کالے لارڈز اور ان کے منتخب نمائندے سبز پاسپورٹ کی بجائے نیلا پاسپورٹ مانگ رہے ہیں۔ سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ میں ان ارکان نے متفقہ طور پر منظور کیا ہے کہ سابق اراکین پارلیمنٹ، انکی اہلیہ / شوہر کو تاعمر بلا فیس اور 28 سال تک کے بچوں کو نیلا پاسپورٹ جاری کیا جائے۔

سینٹ کی قائمہ کمیٹی میں منظوری سے پہلے اس ترمیمی بل کو سینٹ میں پیش کیا گیا تھا جہاں صرف وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چودھری نے اس کی مخالفت کی اور باقی تمام ایوان سینیٹر عبدالقادر کی طرف سے پیش کردہ اس بل کے حوالے سے ”اکٹھا“ نظر آیا کہ بلیو پاسپورٹ ملنا چاہئے۔ سینیٹر عبدالقادر نے اس معاملے پر بحث کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ اگر ارکان سینٹ کے دو چار بچوں کو بلیو پاسپورٹ مل جائیں گے تو کوئی مسئلہ تو نہیں ہو گا۔ ان کی کہنے کا واضح مقصد تھا کہ اگر گریڈ 22 کے افسروں کے بچوں کو یہ پاسپورٹ مل سکتے ہیں تو ہمارے بچوں کو دینے میں کیا حرج ہے۔ چیئرمین سینٹ یوسف رضا گیلانی نے وزیر مملکت برائے داخلہ سے کہا کہ آپ کے ساتھ ایوان میں کوئی نہیں، اگر یہ ابھی منظوری کیلئے پیش ہوا تو یہ منظور ہو جائے گا لہٰذا اسے سینٹ کی داخلہ قائمہ کمیٹی کو بھجوا دیتے ہیں اور اب قائمہ کمیٹی سے منظوری کے بعد اس ترمیمی بل کو یقینا ایوان سے متفقہ طور پر منظور کیا جائے گا تاکہ ہماری تمام پارٹیاں ”سیاسی و دینی“ سب کے اراکین سینٹ جو آج سے پہلے اس ایوان کے ممبر رہ چکے ہیں ان کو اور ان کے خاندان کو بھی یہ نیلا پاسپورٹ مل سکے اور جو مستقبل میں اس ادارے کو چھوڑ کے جائیں گے یہ نیلا پاسپورٹ تا عمر ان کا استحقاق بن سکے۔ بلیو پاسپورٹ امریکہ میں اراکین کانگریس اور سینٹ کو دیا جاتا ہے لیکن وہ ان کے صرف اور صرف سرکاری دورے پر استعمال کیلئے ہوتا ہے اگر وہ یا ان کا خاندان کسی ذاتی دورے پر امریکہ سے باہر جائیں تو وہ عام امریکی پاسپورٹ استعمال کرتے ہیں۔

برطانیہ میں ممبر پارلیمنٹ اور عوام ایک ہی پاسپورٹ پر سفر کرتے ہیں وہاں کسی ممبر پارلیمنٹ کو کوئی بلیو پاسپورٹ یا سفارتی پاسپورٹ نہیں دیا جاتا۔ بھارت میں بھی ایوانِ بالا اور ایوان زیریں کے اراکین کو بلیو پاسپورٹ دیے جاتے ہیں، لیکن وہ بھی ان کے صرف سرکاری دوروں میں استعمال کرنے کیلئے ہوتے ہیں اپنے ذاتی ٹور کیلئے بیرون ملک جانے کیلئے ان کو اپنا عام ہندوستانی پاسپورٹ استعمال کرنا ہوتا ہے۔

صوبہ خیبرپختونخوا کی اسمبلی نے بھی اپنے اراکین اسمبلی کیلئے کچھ نیا منظور کیا ہے، جس میں آٹھ ممنوعہ بور کے اسلحہ لائسنس،حفاظت کیلئے پولیس گارڈ، مفت سرکاری رہائش گاہیں اور دیگر مراعات کے علاوہ اراکین اسمبلی اور ان کی فیملیز کیلئے بلیو پاسپورٹ جاری کرنے کی منظوری دی گئی ہے، جس پر خاصا شور مچا۔ حکومتی حلقوں کا کہنا تھا کہ بلیو پاسپورٹ کے غلط استعمال کی کئی شکایات ملی ہیں، جس میں اراکین اسمبلی کے خاندانوں نے اس کا غلط فائدہ اٹھایا ہے۔ ان ملکوں نے سفارتخانے کو بُلا کر شکایت کی ہے۔ وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے کہا کہ پی ٹی آئی کے رکن اسمبلی اقبال آفریدی کے صاحبزادے نے بلیو پاسپورٹ کا غلط استعمال کیا۔ وہ اٹلی گئے اور وہاں پہنچ کر نیلا پاسپورٹ سرنڈر کر کے سیاسی پناہ طلب کر لی۔ (کہا گیا شکایات ملی ہیں مگر نام صرف رکن پی ٹی آئی کا لیا گیا ”اپنے“ نام چھپا لئے گئے جس کا جواب اقبال آفریدی نے دیا کہ ان کے بیٹے کو ادارے پریشان کر رہے تھے ہراساں کیا جا رہا تھا لہٰذا وہ ملک چھوڑ گیا۔

ہمارے اراکین پارلیمنٹ کا یہ بھی کہنا ہے کہ جب وفاقی سیکرٹریز / گریڈ 22 کے افسر ان کی فیملی، بچوں اور گریڈ 22 کی خاتون افسر اس کے شوہر اور بچوں کو جب تا عمر بلیو پاسپورٹ ملتا ہے تو یہ ہمیں بھی تا عمر ہی ملنا چاہئے۔ یہی مطالبے کی ”اصل جڑ“ ہے۔ جہاں سے یہ مطالبہ اسمبلیوں میں پہنچا ہے۔ بلیو پاسپورٹ پاکستان میں گریڈ 17 اور گریڈ 20 کے سرکاری افسران کو پاکستان سے باہر ڈیوٹی پر جاتے ہوئے دیا جاتا ہے۔ (پیپلز پارٹی کے وزیر داخلہ رحمان ملک مرحوم کے دور وزارت میں اندھا دھند بلیو پاسپورٹ دئیے گئے تھے جس کے بعد ملک چھوڑنے کیلئے بلیو پاسپورٹ کے استعمال کی شکایات سامنے آئی تھیں)۔

بلیو پاسپورٹ کا ایک سچ یہ بھی ہے کہ اس پر چند سال پہلے تک 36 ممالک کے ویزے کی ضرورت نہیں پڑتی تھی اور آج بلیو پاسپورٹ پر 50 ممالک کے ویزے کی ضرورت نہیں پڑتی جس میں یورپنی یونین کے ممالک کے علاوہ اور کئی دیگر اہم ممالک شامل ہیں لہٰذا تمام افسران اور تمام اراکین اسمبلی کی یہی کوشش ہے کہ یہ بلیو پاسپورٹ انہیں اور ان کے بچوں کو ملے تاکہ وہ اس ملک سے باہر جب مرضی آئیں جائیں کوئی پوچھنے والا نہ ہو کہ ہمیں بحیثیت قوم جواب دہی پسند نہیں ہے۔