ٹورنٹو (اشرف خان لودھی سے)گورنر سندھ نہال ہاشمی نے کہا ہے کہ بیرون ملک مقیم پاکستانی اپنی قومی شناخت، زبان، ثقافت، لباس اور روایتی کھانوں کو برقرار رکھیں اور انہیں آئندہ نسلوں تک منتقل کرنے کے لیے خصوصی اقدامات کریں، تاکہ بیرون ملک بھی پاکستان کی تہذیب و ثقافت ہمیشہ زندہ رہے۔
پاکستان پیپلز پارٹی کینیڈا کے صدر چوہدری جاوید گجر کی جانب سے مقامی ریسٹورنٹ میں گورنر سندھ نہال ہاشمی کے اعزاز میں پاکستانی کمیونٹی کے ساتھ ملاقات کی تقریب منعقد کی گئی، جس میں پاکستانی قونصل خانے سے التمش جنجوعہ، سہیل وڑائچ،عامرقریشی، پرویز سندھیلہ،مرتضیٰ جویا،لیاقت ملک،طیب شیخ،وقاص گوندل، خرم عباس بھٹی، عمران نذیر، فیاض شاہ،مرزانسیم بیگ،جاویدورک،احسن ضیا،باباعرفان ملک ،اورنگ زیب اور پیر عدنان بودلہ سمیت مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی شخصیات نے شرکت کی۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے گورنر سندھ نہال ہاشمی نے چوہدری جاوید گجر کی کاوشوں کو سراہا اور کہا کہ انہوں نے پاکستانی شناخت اور کمیونٹی کے مختلف طبقات کو ایک جگہ جمع کرکے قابلِ تحسین کام کیا ہے۔ پاکستانی کمیونٹی ایک خوبصورت گلدستے کی مانند ہے، جس میں مختلف شعبوں اور سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے افراد شامل ہیں۔
انہوں نے قونصل خانے سے التمش جنجوعہ کی سرگرمیوں اور کمیونٹی کے ساتھ ان کے روابط کو بھی سراہا اور کہا کہ وہ کاروباری برادری، پاکستانی کمیونٹی اور مختلف سیاسی جماعتوں کے ساتھ بہترین روابط رکھتے ہیں۔ ٹورنٹو میں آباد پاکستانی کمیونٹی انتہائی متحرک اور متنوع ہے۔
گورنر سندھ نے کہا کہ اگر وہ وقت میں 50 یا 100 سال آگے دیکھیں تو انہیں یقین ہے کہ آج یہاں آباد پاکستانیوں کی اولادیں کینیڈا میں اہم کردار ادا کریں گی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانیوں نے بیرون ملک رہتے ہوئے بھی اپنی زبانوں، ثقافت اور روایات کو برقرار رکھا ہوا ہے۔ دیسی لباس پہننا، اپنی زبانوں میں گفتگو کرنا اور روایتی کھانوں کو ترجیح دینا پاکستان کی تہذیب، رنگا رنگی اور ثقافتی شناخت کو زندہ رکھنے کا ذریعہ ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ نئی نسل اور اس کے بعد آنے والی نسلوں میں بھی دیسی کھانوں، روایتی لباس اور مادری زبانوں سے رغبت پیدا کرنے کیلئے باقاعدہ طریقہ کار وضع کیا جائے تاکہ پاکستان کی ثقافتی شناخت ہمیشہ برقرار رہے۔
انہوں نے مغربی ممالک میں آباد دوسری کمیونٹیز کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ وقت گزرنے کے ساتھ بہت سے لوگ اپنی زبان، ثقافت اور روایتی خوراک سے دور ہوجاتے ہیں اور رفتہ رفتہ مقامی زبان، لباس اور کھانے پینے کے طور طریقوں میں ضم ہوجاتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ خوراک انسان کے پس منظر، ذوق اور شخصیت کی عکاسی کرنے والی اہم چیز ہے۔ کسی قوم کے کھانے اس کی ثقافت اور روایتی طرزِ زندگی کی پہچان ہوتے ہیں۔

