125ویں نیشنل مینجمنٹ کورس کی تکمیل، 48 افسران میں اسناد تقسیم، مصدق ملک کا خطاب

لاہور (اے پی پی)125ویں نیشنل مینجمنٹ کورس کی 16 ہفتوں پر مشتمل تربیت مکمل ہوگئی، اختتامی تقریب میں وفاقی وزیر برائے ماحولیاتی تبدیلی ڈاکٹر مصدق ملک نے بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی اور کورس مکمل کرنے والے 48 افسران میں اسناد تقسیم کیں۔

ڈاکٹر مصدق ملک نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سرکاری افسران پر زور دیا کہ وہ اپنے فیصلوں میں دیانت داری، قانون کی پاسداری اور عوامی مفاد کو ذاتی مفادات پر ترجیح دیں۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری فائلوں پر کیے جانے والے فیصلے عام شہریوں کی زندگیوں پر براہِ راست اثر انداز ہوتے ہیں، اس لیے ہر افسر کو اپنی ذمہ داری کا احساس ہونا چاہیے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ ریاستی نظام کی کارکردگی کی ذمہ داری کسی ایک فرد پر عائد نہیں ہوتی بلکہ نظام کا حصہ ہونے کے ناتے تمام سرکاری افسران اور سیاسی قیادت اس کی بہتری کے لیے جواب دہ ہیں۔ انتظامی ناکامیوں کو بے نام نظام کا نتیجہ قرار دے کر ذمہ داری سے بچا نہیں جا سکتا۔

انہوں نے سیاسی عدم تسلسل، اقربا پروری اور بدعنوانی کو حکمرانی کے مسائل کی اہم وجوہات قرار دیتے ہوئے کہا کہ سرکاری افسران کو قواعد و ضوابط کے خلاف فیصلوں کے لیے دباؤ قبول نہیں کرنا چاہیے۔ افسران کو اپنے پیشہ ورانہ اصولوں پر قائم رہنے اور غیر قانونی احکامات ماننے سے انکار کرنے کا حوصلہ رکھنا چاہیے۔ ان کے مطابق سرکاری ملازمت میں کامیابی کا معیار صرف عہدے، گریڈ یا تعیناتی نہیں بلکہ عوام کی زندگیوں میں مثبت تبدیلی لانا ہے۔

ڈاکٹر مصدق ملک نے سندھ کے سابق چیف سیکریٹری تسنیم صدیقی کی خدمات کا حوالہ دیتے ہوئے ان کے شروع کردہ منصوبے ’’خدا کی بستی‘‘ کا ذکر کیا، جس کا مقصد کم آمدنی والے خاندانوں کو سستے مکانات کی فراہمی تھا۔ انہوں نے کہا کہ تسنیم صدیقی نے مخالفت کے باوجود اپنے قانونی اختیارات استعمال کرتے ہوئے محروم طبقے کیلئےرہائش کی سہولت پیدا کی اور ثابت کیا کہ سرکاری عہدہ عوامی مسائل حل کرنے کا ذریعہ بن سکتا ہے۔

انہوں نے افسران کو تلقین کی کہ وہ اپنے ہر فیصلے کے انسانی اثرات کو مدنظر رکھیں اور تعلیم، صحت، محفوظ پانی، رہائش اور باعزت زندگی جیسی بنیادی ضروریات کی فراہمی کو حکومتی کارکردگی کا اصل پیمانہ سمجھیں۔

تقریب سے قبل نیشنل اسکول آف پبلک پالیسی کے ریکٹر محمد صالح احمد فاروقی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بدلتے عالمی حالات، ماحولیاتی تبدیلیوں، جغرافیائی و معاشی تبدیلیوں اور تیز رفتار تکنیکی ترقی کے باعث سرکاری اداروں کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا ضروری ہوگیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ سرکاری افسران کی مسلسل پیشہ ورانہ تربیت، مربوط منصوبہ بندی اور عملی مہارتوں میں اضافے کی ضرورت ہے۔ نیشنل اسکول آف پبلک پالیسی اس مقصد کے لیے متعلقہ شعبوں کے ماہرین اور ملکی و بین الاقوامی تعلیمی اداروں کے اشتراک سے جدید تربیتی نظام اور جامع حکمت عملی پر کام کر رہا ہے۔

ڈاکٹر مصدق ملک نے شرکا کو وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے نیک تمناؤں کا پیغام بھی پہنچایا اور بتایا کہ وزیراعظم اپنی مصروفیات کے باعث تقریب میں شرکت نہیں کرسکے۔ وزیراعظم کی خواہش تھی کہ وہ افسران سے خطاب کرکے ان سے وابستہ قومی توقعات اور حکومتی اصلاحاتی ایجنڈے پر گفتگو کرتے۔

دوسری جانب 125ویں نیشنل مینجمنٹ کورس کے ایک شریک افسر نے اپنے تاثرات میں کہا کہ 16 ہفتوں پر مشتمل یہ سفر پیشہ ورانہ تربیت کے ساتھ ساتھ زندگی کی خوبصورت یادوں اور دیرپا دوستیوں کا ذریعہ بھی بنا۔ ان کے مطابق کورس اگرچہ مصروف اور محنت طلب تھا، تاہم لاہور کے ماحول نے اس عرصے کو خوشگوار اور یادگار بنا دیا۔

انہوں نے کہا کہ تقریباً 25 سال قبل اسلام آباد منتقل ہونے سے پہلے لاہور میں تعلیم اور عملی زندگی کے ابتدائی برس گزارے تھے، اس لیے اتنے عرصے بعد شہر واپسی ایک خاص تجربہ تھا۔ لاہور میں اس دوران وسیع سڑکوں، تجارتی مراکز، بڑھتی آبادی اور ٹریفک کے حوالے سے نمایاں تبدیلیاں آئی ہیں، تاہم شہر کی رنگا رنگی، گرم جوشی اور زندہ دلی آج بھی برقرار ہے۔ ان کے نزدیک لاہور پاکستان کا بہترین شہر ہے۔

انہوں نے کہا کہ ان 16 ہفتوں کو یادگار بنانے میں مختلف سروسز، کیڈرز اور پاکستان کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے 48 ساتھیوں کا بنیادی کردار تھا۔ کلاس رومز، لیکچرز اور گروپ مباحثوں کے علاوہ مشترکہ کھانوں، تاریخی مقامات کی سیر، کھیلوں، تفریحی سرگرمیوں اور طویل نشستوں نے شرکا کو ایک دوسرے کے قریب کردیا۔

ان کا کہنا تھا کہ کورس کے آغاز پر تمام شرکا مختلف علاقوں اور پس منظر سے تعلق رکھنے والے افسران تھے، لیکن مشترکہ تجربات، خوشیوں، مشکلات، سفر اور قہقہوں نے انہیں دوستوں کے ایک ایسے حلقے میں تبدیل کردیا جس کی یادیں کورس کے اختتام کے بعد بھی ان کے ساتھ رہیں گی۔

انہوں نے کہا کہ اب تمام افسران اپنی اپنی تعیناتیوں پر واپس جا رہے ہیں، لیکن ان 16 ہفتوں کے دوران قائم ہونے والی دوستیاں اور تعلقات فاصلے کے باوجود برقرار رہیں گے۔ مستقبل میں جب اس عرصے کو یاد کیا جائے گا تو لیکچرز اور پریزنٹیشنز کے بجائے ساتھیوں کے چہرے، مشترکہ لمحات، قہقہے اور باہمی رفاقت زیادہ یاد آئے گی۔

ان کے مطابق لاہور نے زندگی کی یادوں میں ایک اور خوبصورت باب کا اضافہ کیا، تاہم 125ویں نیشنل مینجمنٹ کورس نے اس باب کو ایسے لوگوں سے بھر دیا جن کی دوستی اور رفاقت ہمیشہ یاد رہے گی۔