اسلام آباد (نامہ نگار)اسلام آباد کے حنا جاوید قتل کیس کی پوسٹ مارٹم رپورٹ آگئی، جس میں مقتولہ کے جسم پر تشدد کے انتہائی سنگین نشانات کی تصدیق ہوئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق حنا جاوید کی دونوں کہنیوں میں اسکریو ڈرائیور سے سوراخ کیے گئے، سر کے پچھلے حصے پر 27 سینٹی میٹر گہرا زخم تھا جبکہ گردن بھی ٹوٹی ہوئی تھی۔
پوسٹ مارٹم رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مقتولہ کے چہرے، بازوؤں، ہاتھوں اور ہونٹوں پر زخموں اور نیل کے نشانات پائے گئے۔ حنا جاوید کو 20 اگست کو گھر میں تشدد کرکے قتل کیا گیا تھا، جبکہ ان کی لاش باتھ روم میں شاور کے ساتھ لٹکی ہوئی ملی تھی۔
پارلیمنٹ کی داخلہ کمیٹی نے بھی حنا جاوید قتل کیس کا نوٹس لیتے ہوئے 29 اکتوبر کو اعلیٰ پولیس افسران اور مقتولہ کے اہل خانہ کو طلب کرلیا ہے۔
کیس میں نامزد مقتولہ کے شوہر فیصل اصغر اور گھریلو ملازم ذیشان ارشد جوڈیشل ریمانڈ پر اڈیالہ جیل میں ہیں۔ مقتولہ کے اہل خانہ نے پولیس کی تفتیش پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے جوڈیشل کمیشن تشکیل دینے کا مطالبہ کیا ہے۔
یاد رہے کہ حنا جاوید کی شادی 9 ماہ قبل فیصل اصغر سے ہوئی تھی۔ اہل خانہ کے مطابق شوہر نے انہیں کئی مرتبہ تشدد کا نشانہ بنایا، تاہم وہ اپنے بسترِ مرگ پر موجود والدین کو دکھ پہنچنے کے خوف سے خاموش رہیں۔
مقدمے کی ایف آئی آر کے مطابق حنا کی لاش باتھ روم سے ملی تھی، ان کے ہاتھ پیچھے کی جانب بندھے ہوئے تھے، چہرے اور جسم پر تشدد کے نشانات واضح تھے، جبکہ گلے پر ایک تار لپٹی ہوئی تھی اور گردن بظاہر ٹوٹی ہوئی تھی۔ ان کے منہ سے خون اور جھاگ بھی نکل رہے تھے۔
مقتولہ کے شوہر فیصل اصغر کی یہ دوسری شادی تھی۔ ان کی پہلی بیوی نے مبینہ طور پر گھریلو تشدد اور اذیتوں کے باعث طلاق لے لی تھی۔

