راولپنڈی (نمائندہ خصوصی)راولپنڈی کے علاقے قریشی آباد میں گھر سے ماں اور بیٹی کی لاشیں ملنے کے واقعے میں اہم پیشرفت سامنے آئی ہے۔ ابتدائی تحقیقات کے مطابق ماں کو گلا دبا کر جبکہ اس کی 24 سالہ بیٹی نومین کو سر پر آہنی چیز کے وار کرکے قتل کیا گیا۔
مقتولین کی شناخت راویلا بی بی اور ان کی بیٹی نومین کے نام سے ہوئی ہے۔ واقعے کے وقت گھر میں موجود ان کے پانچ سالہ نواسی اور تین سالہ نواسہ سو رہے تھے۔ پولیس ذرائع کے مطابق دونوں بچوں سے بھی ابتدائی معلومات حاصل کی گئی ہیں۔
پولیس کے مطابق راویلا بی بی اپنے بیٹوں سے ناراض ہوکر راولپنڈی میں کرائے کے مکان میں رہائش پذیر تھیں۔ مقتولہ کے دونوں بیٹوں کو طلب کرکے ان کے ابتدائی بیانات قلم بند کرلیے گئے ہیں۔ بیٹوں نے پولیس کو بتایا کہ عرصہ دراز سے ان کا اپنی ماں اور بہن سے کوئی رابطہ نہیں تھا۔
پولیس نے جائے وقوعہ سے فرانزک شواہد جمع کرلیے ہیں جبکہ گھر کے قریب نصب نگرانی کے کیمروں کی فوٹیج بھی حاصل کرلی گئی ہے۔ واقعے کی تحقیقات کیلئے4 ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں، جن کی سربراہی ایس ایس پی آپریشنز اور ایس ایس پی انویسٹی گیشنز کریں گے۔ تفتیش میں جرائم کی تحقیقات کرنے والے محکمے کے ماہر افسران کی خدمات بھی حاصل کرلی گئی ہیں۔
دوسری جانب آئی جی پنجاب نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے آر پی او راولپنڈی سے رپورٹ طلب کرلی ہے۔
راولپنڈی میں گزشتہ 2 ماہ کے دوران 8 خواتین کے قتل کے واقعات سامنے آچکے ہیں۔ ان میں غیرت کے نام پر قتل، گھریلو تشدد، ذاتی رنجش اور مبینہ زیادتی کے بعد قتل کے واقعات شامل ہیں۔ قتل ہونے والی خواتین میں 12 سالہ طالبہ بھی شامل ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے خواتین اور بچوں کے خلاف جرائم پر پولیس کی کارکردگی پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے افسران کو بہتری کے لیے 4 ہفتوں کی مہلت دی تھی اور ناقص کارکردگی پر عہدوں سے ہٹانے کی وارننگ بھی دی تھی۔

