پاکستان کی ترقی، قومی سلامتی اور معاشی استحکام کیلئےسیاسی اختلافات سے بالاتر ہونا ہوگا:نہال ہاشمی

چین پاکستان اقتصادی راہداری کے 60 ارب ڈالر کے منصوبے کو سیاسی اختلافات کی نذر کیا گیا
دفاعی خودمختاری کے بعد ٹیکنالوجی اور معیشت پر توجہ دینا ہوگی
خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی آئین و قانون کے مطابق نافذ کی گئی
کراچی میں مسلم لیگ (ن) کو ووٹ ملتے تو اسے بھی لاہور کی طرح ترقی دیتے
قونصل جنرل پاکستان ٹورنٹو میں گورنر سندھ نہال ہاشمی کا کمیونٹی اور میڈیا سے خطاب

ٹورنٹو (اشرف خان لودھی سے) گورنر سندھ، مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما اور سابق سینیٹر نہال ہاشمی نے کہا ہے کہ پاکستان کی ترقی، قومی سلامتی اور معاشی استحکام کیلئے سیاسی اختلافات سے بالاتر ہوکر قومی مفاد کو ترجیح دینا ہوگی۔ ان کے لیے کسی سیاسی جماعت، رہنما یا عہدے سے زیادہ اہمیت پاکستان کے 25 کروڑ عوام، آنے والی نسلوں اور ملک کے مستقبل کی ہے۔ پاکستان نے دفاعی اعتبار سے اپنی صلاحیت منوالی ہے، اب ملک کو ٹیکنالوجی، اختراع اور معاشی ترقی پر توجہ دینا ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی آئین اور قانون کے مطابق نافذ کی گئی ہے، کیونکہ دہشت گردی اور بدامنی کے باعث عوام کی جان و مال اور تعلیمی اداروں کو لاحق خطرات نظرانداز نہیں کیے جاسکتے۔

قونصل جنرل پاکستان ٹورنٹو خلیل احمد باجوہ کی میزبانی میں نہال ہاشمی کے اعزاز میں استقبالیہ اور ملاقات کا اہتمام کیا گیا، جس میں پاکستانی نژاد کینیڈین کاروباری شخصیات، جامعات کے پروفیسرز اور اعلیٰ تعلیمی عہدوں پر فائز شخصیات، صحافیوں، سیاسی جماعتوں کے نمائندوں اور سماجی رہنماؤں نے شرکت کی۔ تقریب کے آغاز پر خلیل احمد باجوہ نے قونصل جنرل اور پاکستانی کمیونٹی کی جانب سے مہمانِ خصوصی کو خوش آمدید کہا۔ انہوں نے کہا کہ کوشش کی گئی ہے کہ کینیڈا میں مقیم پاکستانی معاشرے کے ہر شعبے سے تعلق رکھنے والے افراد کو اس نشست میں جمع کیا جائے۔ ان کے مطابق شرکا میں نامور تاجر، جامعات کے پروفیسرز، اعلیٰ تعلیمی عہدوں پر فائز شخصیات، صحافی، سیاسی جماعتوں کے نمائندے اور سماجی کارکن شامل ہیں تاکہ وہ مہمانِ خصوصی کے ساتھ تبادلہ خیال کرسکیں۔

نہال ہاشمی نے حمد و ثنا اور درود و سلام کے بعد اردو زبان میں گفتگو کا آغاز کیا اور مسکراتے ہوئے کہا کہ اردو میں بات کرنے کا فائدہ یہ ہے کہ ایک دوسرے کو سلام کرنے اور اپنائیت کا اظہار کرنے کا موقع ملتا ہے۔ انہوں نے حاضرین میں موجود شخصیات کی صلاحیتوں اور خدمات کو سراہتے ہوئے آفتاب رضوی، پرویزسندھیلہ، انجینئر عمران نذیر، خرم بھٹی اور پیر عدنان بودلہ ،مرزانسیم بیگ سمیت دیگر شرکا کی آمد پر شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ یہاں موجود متعدد شخصیات سے متاثر ہوئے ہیں اور ان کی خواہش تھی کہ تمام افراد کے نام لے کر ان کا شکریہ ادا کریں۔

“بیرون ملک پاکستانی ایک متحرک پاکستان کی نمائندگی کرتے ہیں”

نہال ہاشمی نے بیرون ملک پاکستانی کمیونٹی کے اتحاد پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ان کی ہمیشہ کوشش ہوتی ہے کہ جہاں بھی جائیں، ہر صوبے، زبان، مسلک اور سیاسی جماعت سے تعلق رکھنے والے افراد کو ایک ساتھ بٹھائیں۔ انہوں نے کہا کہ کینیڈا اور امریکا میں پاکستانی سفارت خانے اور وہاں کی کمیونٹی درحقیقت ایک متحرک پاکستان کی نمائندگی کرتے ہیں اور یہی کمیونٹی بیرون ملک پاکستان کی شناخت ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ یہاں کسی کی اپنی پسندیدہ سیاسی جماعت ہوسکتی ہے اور ہر شخص کی سیاسی وابستگی الگ ہوسکتی ہے، لیکن اس بنیاد پر پاکستانیوں کو تقسیم نہیں ہونا چاہیے۔ سب لوگ پاکستان سے تعلق کی بنیاد پر یہاں جمع ہوئے ہیں اور یہی مشترکہ شناخت سب سے اہم ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی یا گورنر راج سے متعلق سوالات پر بات کریں گے، تاہم وہ بیرون ملک پاکستانیوں کے درمیان سیاسی تقسیم پیدا نہیں کرنا چاہتے۔

“مسلم لیگ (ن) پنجاب تک محدود نہیں، کراچی میں ووٹ ملتے تو اسے بھی لاہور جیسا بناتے”

صحافی کی جانب سے سوال کیا گیا کہ کیا مسلم لیگ (ن) اب صرف پنجاب تک محدود ہوچکی ہے، جبکہ پیپلز پارٹی سندھ اور تحریک انصاف خیبرپختونخوا کی جماعت سمجھی جاتی ہے؟ اس پر نہال ہاشمی نے کہا کہ اگر مسلم لیگ (ن) صرف پنجاب تک محدود ہوتی تو سندھ کا گورنر اس جماعت سے تعلق رکھنے والا کس طرح ہوتا؟ ان کے بقول مسلم لیگ (ن) سندھ کے علاوہ بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں بھی موجود ہے۔

انہوں نے سوشل میڈیا پر سیاسی جماعتوں کے بارے میں کیے جانے والے بعض تبصروں کو ’’واٹس ایپ کی پی ایچ ڈی‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسی باتیں سنجیدہ دانشورانہ تجزیے کے بجائے غیر سنجیدہ تبصرے ہیں۔

سندھ کی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے نہال ہاشمی نے کہا کہ کراچی میں مسلم لیگ (ن) کو ووٹ نہیں ملا، ورنہ ان کی جماعت اس شہر کو بھی لاہور کی طرح ترقی دیتی اور اسے بہتر بنانے کے لیے اقدامات کرتی۔

“کے پی میں ایمرجنسی کے بعدامریکا معدنیات میں زیادہ سرگرم نظرآرہاہے: اشرف خان لودھی کا سوال”

جنگ نیوز کینیڈا کے چیف ایڈیٹر اشرف خان لودھی نے سوال کیا کہ خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد امریکاپاکستان میں‌موجود معدنیات میں بہت زیادہ سرگرم ہوگیا ہے اور وہاں سے پابندیوں کے حوالے سے بھی باتیں سامنے آرہی ہیں، اس صورتحال کو کس نظر سے دیکھا جائے؟

جواب میں نہال ہاشمی نے کہا کہ ہر ملک اپنے مفادات کے مطابق فیصلے کرتا ہے اور جس کے جہاں مفادات ہوتے ہیں، وہ اسی کے مطابق اپنا کردار ادا کرتا ہے۔ انہوں نے مختلف حالات کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ کہیں خوشی کے شادیانے بج رہے ہوتے ہیں تو کہیں تعزیت ہورہی ہوتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کو بھی اپنے قومی مفادات اور زمینی حقائق کو سامنے رکھ کر فیصلے کرنے چاہئیں۔

“ایٹمی دھماکوں کے فیصلے نے پاکستان کو دفاعی قوت بنایا”

پاکستان کی ایٹمی صلاحیت اور 1998ء کے ایٹمی دھماکوں کا ذکر کرتے ہوئے نہال ہاشمی نے کہا کہ پاکستان نے اپنی ذہانت اور صلاحیت کے ذریعے دنیا میں اپنی پہچان بنائی ہے اور آج دنیا اس کی قوت کا اعتراف کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں غلطیوں، کوتاہیوں اور تنگ نظری کے باعث پاکستان کو نقصان پہنچا اور پڑوسیوں نے ان حالات سے فائدہ اٹھایا، حتیٰ کہ ملک کا ایک حصہ بھی الگ ہوگیا، تاہم ذوالفقار علی بھٹو نے اس دور میں ایٹمی طاقت کی ضرورت کو محسوس کیا اور پاکستان کو اس سمت میں آگے بڑھایا۔

انہوں نے کہا کہ آج ایران کو یورینیم کی افزودگی ایک خاص سطح سے آگے بڑھانے کی اجازت نہیں دی جارہی، جبکہ پاکستان نے 1998ء میں عالمی دباؤ اور پابندیوں کے خدشات کے باوجود ایٹمی دھماکوں کا فیصلہ کیا۔ ان کے مطابق اس وقت مشاورت کے لیے بلائے گئے بیشتر افراد نے دھماکے نہ کرنے کا مشورہ دیا تھا اور خدشہ ظاہر کیا تھا کہ دنیا پاکستان پر پابندیاں عائد کردے گی۔

نہال ہاشمی نے کہا کہ اس وقت کے سیکریٹری خارجہ شمشاد احمد نے کھڑے ہوکر کہا تھا کہ یہی آگے بڑھنے کا وقت ہے۔ ان کے بقول دھماکے کرنے کے حق میں صرف ایک ووٹ آیا تھا، تاہم نواز شریف نے فیصلہ کیا اور پاکستان اس مرحلے سے کامیابی سے گزر گیا۔ انہوں نے کہا کہ بعض اوقات بڑی صلاحیتوں کے ساتھ حکمرانی اور انتظامی معاملات میں کمزوریاں بھی پیدا ہوجاتی ہیں، ماضی میں جعلی اور گھوسٹ اساتذہ، مالیوں اور دیگر سرکاری ملازمین کی بھرتیوں کے ذریعے بچوں کے مستقبل اور خوابوں کو نقصان پہنچایا گیا۔

“دفاعی خودمختاری کے بعد ٹیکنالوجی اور معیشت پر توجہ ضروری ہے”

نہال ہاشمی نے کہا کہ پاکستان نے دفاعی اعتبار سے خود کو محفوظ کرلیا ہے، اب ملک کو دو بنیادی شعبوں پر توجہ دینی چاہیے، جن میں ٹیکنالوجی میں ترقی اور معاشی استحکام شامل ہیں۔ پاکستان کو صرف اشیا استعمال کرنے والی منڈی بننے کے بجائے اختراع اور نئی ٹیکنالوجی کی تیاری کی طرف بڑھنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کو اپنی بنیادی معاشی سرگرمیوں پر توجہ دیتے ہوئے پیداوار اور جدت کے شعبوں میں آگے بڑھنا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ حالیہ عرصے میں مغربی دنیا میں پاکستان کی قبولیت اور مقبولیت میں اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے آرمی چیف جنرل عاصم منیر اور ان کی ٹیم کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ مئی 2025ء میں پاک افواج نے جو صلاحیت دکھائی، اس سے عالمی سطح پر پاکستان کی پذیرائی میں اضافہ ہوا۔ ان کے بقول امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی پاکستان کو قبولیت اور اہمیت دی، جبکہ پاکستان نے مختلف فریقوں کے درمیان مصالحتی کردار ادا کیا۔ انہوں نے اسلام آباد میں ہونے والے ڈیجیٹل معاہدے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کا کردار صرف اپنے منہ میاں مٹھو بننے تک محدود نہیں رہا بلکہ دنیا نے اس کی کوششوں کو دیکھا۔

“خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی آئین اور قانون کے مطابق نافذ کی گئی”

خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ سے متعلق سوال کے جواب میں نہال ہاشمی نے کہا کہ اگر کسی ملک کے تعلیمی اداروں، جامعات اور عوامی سہولتوں کو نقصان پہنچایا جارہا ہو اور ریاست سے دشمنی کی بنیاد پر ایسے عناصر کو سہولت فراہم کی جائے تو حکومت کیا کرے؟ ان کے بقول خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی آئین اور قانون کے مطابق نافذ کی گئی ہے اور آئین کو تمام متعلقہ فریقوں نے مل کر منظور کیا ہے۔

انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ اگر کسی شخص کو زخم لگ جائے تو بعض اوقات اس کے علاج کے لیے سرجری کرنا پڑتی ہے، اسی طرح بعض حالات میں ریاست کو بھی سخت اقدامات کرنا پڑتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کے لیے ان کا سیاسی رہنما، جماعت یا عہدہ اہم نہیں بلکہ پاکستان کے 25 کروڑ عوام، آنے والی نسلیں اور ملک کا مستقبل مقدم ہے۔ وہ ایسا پاکستان دیکھنا چاہتے ہیں جو زیادہ خوشحال اور باوقار ہو۔ ملک کی خامیوں اور کمزوریوں کو آئندہ 10 سے 20 سال میں دور کیا جاسکتا ہے، لیکن پاکستان مسلسل جنگی حالات میں نہیں رہ سکتا۔

نہال ہاشمی نے کہا کہ وہ ذاتی طور پر ہر جگہ عوامی حکومت کے حق میں ہیں اور ایمرجنسی کے نفاذ کو ترجیح نہیں دیتے، لیکن یہ بھی آئین اور قانون کا معاملہ ہے۔ اگر حکومت عوام کو تحفظ فراہم کرنے اور اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے میں ناکام ہو تو اسے حالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ان کے مطابق گزشتہ 25 برس، بالخصوص 15 سے 20 سال کے دوران پاکستان کی ترقی کا عمل رک گیا تھا اور ملک کو سیاسی تجربہ گاہ بنا دیا گیا، جہاں کبھی ایک اور کبھی دوسرے شخص کو اقتدار میں لایا جاتا رہا۔

“خیبرپختونخوا کے عوام نے دہشت گردی کی سب سے زیادہ قیمت ادا کی”

نہال ہاشمی نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے عوام نے دہشت گردی کی سب سے زیادہ قیمت ادا کی ہے۔ ماضی میں جمعے کے روز بھی لوگ اس خوف میں رہتے تھے کہ کہیں دھماکا نہ ہوجائے۔ انہوں نے سوال کیا کہ نمازیوں کو نشانہ بنانا اور لڑکیوں کے اسکولوں میں دھماکے کرنا کون سا اسلام ہے؟ کوئی بھی ریاست اپنے بچوں، بچیوں اور شہریوں کے قتل اور شہروں کو غیر محفوظ بنانے کی اجازت نہیں دے سکتی۔

انہوں نے کہا کہ بدامنی کے باعث خیبرپختونخوا میں لوگوں کے آنے جانے، کاروبار اور سماجی روابط پر بھی اثر پڑتا ہے۔ جب کسی علاقے میں لڑائی جھگڑے اور عدم تحفظ کا تاثر پیدا ہوجائے تو لوگ وہاں اپنے بچوں کو بھیجنے اور رشتہ داریاں قائم کرنے سے گریز کرتے ہیں۔ ان کا سوال تھا کہ ایسے حالات میں خیبرپختونخوا میں کون آئے گا؟

“بلوچستان کے وسائل اور مقامی سرداروں کے کردار پر تنقید”

بلوچستان کی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے نہال ہاشمی نے کہا کہ انہیں اندازہ ہے کہ کون بیرونی سرپرستی کے ذریعے وہاں پہنچنا اور پاکستان کے وسائل سے فائدہ اٹھانا چاہتا ہے۔ ان کے بقول بعض نوجوانوں کا استحصال مقامی سرداروں نے کیا، ریاست پاکستان نے نہیں۔ بجٹ کاغذوں میں مختص ہوتا ہے لیکن اس کا فائدہ عوام تک نہیں پہنچتا، اس لیے وسائل کے ضیاع کی ذمہ داری ریاست پر ڈالنا درست نہیں۔ انہوں نے کہا کہ اب پاکستان کو جو موقع ملا ہے، اس سے فائدہ اٹھا کر ملک کو پہلے سے بہتر بنانا ہوگا۔

“سیاسی، انتظامی اور عدالتی نظام میں مداخلتوں پر تنقید”

پاکستان کے سیاسی اور انتظامی نظام پر تنقید کرتے ہوئے نہال ہاشمی نے کہا کہ جمہوری جماعتیں اقتدار میں آنے سے پہلے منشور اور وعدوں کے ذریعے عوام کی زندگیوں میں بہتری لانے کی یقین دہانی کراتی ہیں، لیکن بعض اوقات انتخابات جیتنے کے بعد عوام کو مشکلات سے دوچار کردیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ لوگوں کو جیلوں میں ڈالنا، ان کا روزگار چھیننا، ان کے علاقوں کی سڑکیں اکھاڑنا یا بجلی منقطع کرنا عوامی خدمت نہیں۔ ان کے بقول بعض حکمران اقتدار میں آنے کے بعد عوام کو یہ احساس دلانے لگتے ہیں کہ اب وہ حکومت میں آگئے ہیں اور لوگوں کو کسی نہ کسی طریقے سے تنگ کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ بعض سرکاری افسران بھی حکمرانوں کو یہ احساس دلانے لگتے ہیں کہ اصل اختیار ان کے پاس ہے اور وہی انہیں بتائیں گے کہ حکومت کیسے چلانی ہے۔ ان کے مطابق مختلف ادوار میں دوسرے حلقوں نے بھی اپنے دائرہ اختیار سے تجاوز کیا، جبکہ گزشتہ دہائی میں عدلیہ کے بعض ججوں کو بھی یہ تاثر دینے کا شوق پیدا ہوگیا تھا کہ ملک کا نظام وہ چلا رہے ہیں۔

انہوں نے ایک سابق چیف جسٹس سے منسوب واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ارکانِ اسمبلی کو بلا کر استعفے دلوانے کی بات کی تھی۔ نہال ہاشمی نے سوال اٹھایا کہ کیا ایسے اقدامات جمہوریت کے مطابق ہیں؟ ان کا کہنا تھا کہ ان تمام مشکلات کے باوجود پاکستان ناکام ریاست نہیں ہے بلکہ تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے۔

“مشکلات کے باوجود پاکستان نے تعلیمی اور طبی شعبوں میں ترقی کی”

گورنر سندھ نے کہا کہ پاکستان دنیا کے ان نوجوان ممالک میں شامل ہے جنہوں نے آزادی کے بعد اپنا سفر شروع کیا۔ آبادی میں اضافے، چار بڑی جنگوں، سیلابوں، زلزلوں اور گزشتہ 40 برس سے دہشت گردی سمیت مختلف چیلنجز کا سامنا کرنے کے باوجود ملک نے ترقی کا سفر جاری رکھا۔ انہوں نے مذہبی دہشت گردی کو بھی پاکستان کے بڑے مسائل میں شمار کیا۔

انہوں نے تعلیمی شعبے میں پیش رفت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں جامعات کی تعداد 3 سے بڑھ کر 370 تک پہنچ چکی ہے، جبکہ چند سرکاری اسپتالوں سے آگے بڑھتے ہوئے ملک میں بڑے اور جدید اسپتال قائم کیے گئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی ترقی کا جائزہ لیتے وقت اس کے تاریخی پس منظر، مشکلات اور محدود وسائل کو بھی سامنے رکھنا چاہیے۔

نہال ہاشمی نے کہا کہ کینیڈا، برطانیہ، مصر، میکسیکو، روس اور چین جیسے ممالک کی ترقی کا موازنہ کرتے وقت ان کے تاریخی حالات کو بھی مدنظر رکھنا چاہیے۔ پہلی اور دوسری عالمی جنگ کے دوران پاکستان ایک آزاد ملک کی حیثیت سے موجود نہیں تھا اور آزادی کے بعد اسے عالمی سطح پر اپنی شناخت قائم کرنے میں کئی دہائیاں لگیں۔ ان کے بقول پاکستان نے محدود وسائل اور متعدد مشکلات کے باوجود دنیا کے نقشے پر اپنی الگ پہچان بنائی ہے۔

“چین پاکستان اقتصادی راہداری کے 60 ارب ڈالر کے منصوبے پر اختلافات”

چین پاکستان اقتصادی راہداری کا ذکر کرتے ہوئے نہال ہاشمی نے کہا کہ تقریباً 12 سال قبل پاکستان کے پاس 60 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی صورت میں ایک اہم موقع آیا تھا، لیکن اس منصوبے سے فائدہ اٹھانے کے بجائے سیاسی جماعتیں اور صوبے آپس میں اختلافات کا شکار ہوگئے۔ کوئی اسے پنجاب کا منصوبہ قرار دیتا رہا، کسی نے سندھ، خیبرپختونخوا اور بلوچستان کے حصے پر سوال اٹھایا، جبکہ کراچی میں ہونے والی سرمایہ کاری کے بارے میں بھی اعتراضات سامنے آتے رہے۔

انہوں نے کہا کہ بعد ازاں اقتدار میں آنیوالی بعض سیاسی جماعتوں نے چین پاکستان اقتصادی راہداری کو پاکستان کے مفادات کے خلاف قرار دیا۔ ان کے بقول اس وقت کے وزیر خزانہ کے بیانات سے بھی یہ تاثر ملا کہ پاکستان کے ایک اہم دوست ملک کے ساتھ تعاون کے لیے موجود راستے بند کیے جارہے ہیں، جبکہ چینی شہریوں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔

نہال ہاشمی نے کہا کہ اب چین کی جانب سے پاکستان میں سرمایہ کاری اور منصوبوں کے لیے یک دریچی نظام اور مؤثر سیکیورٹی کی ضمانت مانگی جارہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ملک میں امن و امان کی صورتحال بہتر بنانے کے لیے ہنگامی اقدامات نہ کیے جائیں تو سرمایہ کاروں اور غیر ملکی شہریوں کو تحفظ کیسے فراہم کیا جائے گا؟

تقریب کے اختتام پر قونصل جنرل کی جانب سے مہمانوں کیلئےظہرانے کا اہتمام کیا گیا، جہاں کمیونٹی رہنماؤں اور شرکا نے باہمی امور اور پاکستان کی ترقی سے متعلق تبادلہ خیال کیا۔گورنرنہال ہاشمی نے قونصل خانے میں مہمانوں کی کتاب میں اپنے تاثرات بھی قلمبند کئے.ٹریڈ اینڈ انویسٹمنٹ کونسلرالتمش جنجوعہ بھی موجودتھے.