پاکستان کے مالی وسائل چار صوبوں کے بجائے چند افراد تک محدود ہوکر رہ گئے ہیں:مصطفیٰ کمال

کراچی(نمائندہ خصوصی)وفاقی وزیرِ صحت اور ایم کیو ایم رہنما مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ پاکستان کے مالی وسائل چار صوبوں کے بجائے چند افراد تک محدود ہوکر رہ گئے ہیں، جبکہ اختیارات کو نچلی سطح تک منتقل کرنے کی ضرورت ہے۔

انٹرنیشنل ٹریولرز ویکسینیشن سینٹر کے افتتاح کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے مصطفیٰ کمال نے کہا کہ صوبے ہوں یا انتظامی یونٹس، ایم کیو ایم اپنے مؤقف پر قائم ہے اور اس نے اس معاملے پر اپنا مؤقف تبدیل نہیں کیا۔انہوں نے سندھ حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ سندھ میں گزشتہ 18 برس سے پیپلز پارٹی کی حکومت ہے، تاہم کراچی سے کشمور تک 80 فیصد لوگوں کو پینے کا صاف پانی دستیاب نہیں۔

مصطفیٰ کمال نے کہا کہ ایک طرف عالمی سطح پر جنگوں کو روکنے کی کوششیں کی جارہی ہیں جبکہ دوسری جانب پاکستان میں بچے کتوں کے کاٹنے سے جان سے جارہے ہیں۔ایم کیو ایم رہنما نے کہا کہ 27ویں آئینی ترمیم میں اختیارات کو گلی محلوں تک منتقل کرنے کی بات کی گئی تھی، جبکہ 1973ء کے آئین میں نئے صوبے بنانے کی گنجائش موجود ہے۔

انہوں نے کہا کہ 28ویں آئینی ترمیم کے حوالے سے اب تک ان سے کوئی بات چیت نہیں ہوئی۔ مصطفیٰ کمال نے کہا کہ وہ غلط بات پر غصہ ضرور کرتے ہیں اور ان کے خلاف کرپشن کا کوئی مقدمہ ہو تو سامنے لایا جائے۔

وفاقی وزیرِ صحت نے بین الاقوامی مسافروں کی ویکسی نیشن کی اہمیت پر بھی زور دیا اور کہا کہ بیرونِ ملک جانے اور وہاں سے پاکستان آنے والے افراد کو ضروری حفاظتی ٹیکے لگوانے چاہئیں۔ حج اور عمرہ پر جانے والے مسافروں کے لیے گردن توڑ بخار کی ویکسین کا سرٹیفکیٹ بھی ضروری ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ٹریولرز ویکسینیشن سینٹر میں بین الاقوامی مسافروں کو ویکسینیشن کی سہولت فراہم کی جائے گی، جبکہ ان کی ویکسینیشن کا ریکارڈ نادرا کے ڈیٹا بیس میں محفوظ کیا جائے گا۔مصطفیٰ کمال کے مطابق علاج معالجے کے لیے بیرونِ ملک سفر کرنے والے افراد بھی بڑی تعداد میں موجود ہیں، جبکہ پاکستان آنے والے فضائی مسافروں کا ڈیٹا ہیلتھ ڈیسک کے ذریعے ریکارڈ کیا جائے گا۔