پرنس روپیرٹ میں وزیراعظم کی آمد سے قبل فِسٹ نیشنز کی بڑے منصوبوں کی مخالفت

پرنس روپیرٹ(نمائندہ خصوصی) گٹگا’اٹ فِسٹ نیشن نے شمالی ساحل پر تیل کی پائپ لائن اور دہائیوں پر محیط آئل ٹینکر پابندی ختم کرنے کے منصوبوں کے خلاف احتجاج کیا ہے۔ پچھلے سال اوٹاوا اور البرٹا کے درمیان ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہوئے تھے جس میں ممکنہ تیل کی پائپ لائن اور شمالی ساحل پر آئل ٹینکر پابندی ختم کرنے کا راستہ بھی شامل تھا۔ تاہم نو فِسٹ نیشنز کی نمائندگی کرنے والے گروپ نے پہلے ہی واضح کیا ہے کہ شمالی ساحل پر پائپ لائن کبھی بھی نہیں بنے گی۔

گٹگا’اٹ فِسٹ نیشن کے ترجمان آرٹ اسٹریٹ نے کہا کہ وہ وزیراعظم کو ممکنہ تیل کے رِسک سے آگاہ کرنا چاہتے ہیں اور موجودہ آئل ٹینکر پابندی کی حفاظت چاہتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ منصوبے اقتصادی طور پر فائدہ مند نہیں ہیں اور وسائل کے زیادہ حصے استعمال ہونے کے بعد صنعتی منصوبوں کو منتقل کرنے کی نوآبادیاتی روایت کی پیروی کرتے ہیں۔

اسٹریٹ نے کہا “ہماری روایتی حدود میں ہمیں سب کچھ دستیاب ہے—کھانے کیلئے، جنگلی حیات، مچھلی، ہالی بٹ اور سالمون، اور ایک زندہ، فعال ماحول۔” انہوں نے نوٹ کیا کہ پائپ لائن یا ٹینکر منصوبے میں پیدا ہونے والی نوکریاں ماحولیاتی خطرے کے مقابلے میں قابلِ ذکر نہیں ہیں۔

یاد رہے کہ برٹش کولمبیا انڈین چیفس کی یونین نے نومبر میں کے سی لِسیمس اور نارتھ کوسٹ ٹرانسمیشن لائن جیسے ایل این جی منصوبوں کے خلاف بیان جاری کیا تھا۔ گِرینڈ چیف سٹیورٹ فلِپ نے کہا کہ وزیراعظم کی ملاقات سے بہت کم فائدہ متوقع ہے اور مقامی لوگوں کے حقوق کی سنوائی نہیں ہو رہی۔

وزیراعظم کیرنی نے پرنس روپیرٹ پہنچنے پر صحافیوں سے گفتگو میں کہا “یہ ملاقات تعمیر و ترقی کے بارے میں ہے، لیکن ساتھ ہی بات چیت بھی ہے۔ نہ صرف تعمیر کرنا، بلکہ کس طرح مل کر اور ذمہ داری کے ساتھ تعمیر کرنا۔”