واشنگٹن ( نیویارک ٹائمز، فوکس نیوز، اے پی، اے ایف پی)امریکی وفاقی جج نے جمعہ، 20 مارچ کو فیصلہ دیا کہ پنٹاگون کی جانب سے صحافیوں کی رسائی پر نئی پابندیاں امریکی آئین کی خلاف ورزی ہیں۔ جج نے کہا کہ اس پالیسی کے کچھ پہلو “غیر قانونی ہیں کیونکہ یہ امریکی آئین کی پہلی اور پانچویں ترمیم کی خلاف ورزی کرتے ہیں”۔
نئی پالیسی کے تحت گزشتہ اکتوبر میں متعدد اہم امریکی اور بین الاقوامی خبر رساں اداروں جیسے نیویارک ٹائمز، فوکس نیوز، اے پی اور اے ایف پی کے پنٹاگون کے کریڈینشلز منسوخ کر دیے گئے تھے، کیونکہ انہوں نے اس پالیسی پر دستخط کرنے سے انکار کیا تھا۔
فیصلے میں کہا گیا کہ قومی سلامتی کی حفاظت ضروری ہے، لیکن عوام کو یہ جاننے کا حق حاصل ہونا چاہیے کہ حکومت کیا کر رہی ہے، خاص طور پر ایران کے خلاف امریکی اور اسرائیلی حملوں اور وینیزویلا میں امریکی مداخلت کے تناظر میں۔ جج نے مزید کہا کہ عوام کو مختلف نقطہ نظر سے معلومات تک رسائی حاصل ہونا چاہیے تاکہ وہ حکومت کی پالیسیوں کی حمایت، مخالفت یا انتخابات میں اپنے فیصلے کر سکیں۔
پنٹاگون پریس ایسوسی ایشن نے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ “صحافیوں کے کریڈینشلز فوری طور پر بحال کیے جائیں” اور یہ اقدام صحافت کی آزادی کیلئےایک اہم دن ہے۔
خیال رہے کہ نئی پالیسی کے تحت صحافیوں کو پنٹاگون میں محدود علاقوں میں جانے کی اجازت تھی اور بیرونی علاقوں کیلئےانہیں سرکاری رہنمائی کے ساتھ جانا ضروری تھا۔ گزشتہ برس، بعض بڑے میڈیا اداروں کو پنٹاگون کے دفاتر خالی کرنے کا حکم بھی دیا گیا تھا تاکہ دیگر، زیادہ تر قدامت پسند، اداروں کیلئے جگہ بنائی جا سکے۔

