ڈیفنس میں بہن بھائی پر تشدد، بااثر خاتون اور پولیس اہلکاروں کیخلاف مقدمہ درج

کراچی(نامہ نگار)کراچی کے علاقے ڈیفنس میں اپارٹمنٹ میں بہن بھائی پر تشدد کے واقعے میں تشدد کرنے والی بااثر خاتون اور معاونت کرنے والے پولیس اہلکاروں کے خلاف مقدمہ درج کرلیا گیا۔

ذرائع کے مطابق اس سے قبل ایس ایس پی فدا جانوری کی رشتے دار خاتون کی جانب سے متاثرہ خاتون کے خلاف مقدمہ درج کرایا گیا تھا، تاہم اب تشدد کرنے والی خاتون کے خلاف بھی مقدمہ درج کرلیا گیا ہے۔ واقعے میں معاونت کرنے والے پولیس اہلکاروں کو بھی مقدمے میں شامل کیا گیا ہے۔

یاد رہے کہ 21 اگست کو کراچی کے علاقے ڈیفنس کے ایک اپارٹمنٹ میں بااثر خاتون نے بہن بھائی کو مبینہ طور پر تشدد کا نشانہ بنایا تھا، جس کی ویڈیو 28 اگست کو سامنے آئی تھی۔ سی سی ٹی وی فوٹیج میں ایک خاتون کو دوسری خاتون پر تشدد کرتے دیکھا گیا تھا جبکہ اس کے ہاتھ میں ایکسرسائز ڈمبل بھی دکھائی دیا تھا۔

فوٹیج میں ایک پولیس اہلکار نے متاثرہ خاتون کے ساتھ موجود شخص کو دھکے بھی دیے تھے۔ متاثرہ خاندان نے واقعے کے خلاف تھانہ درخشاں میں درخواست جمع کرائی تھی۔ تشدد کا نشانہ بننے والے بہن بھائی اپنی والدہ کے ساتھ اپارٹمنٹ میں رہائش پذیر تھے۔

دوسری جانب بااثر خاتون کی جانب سے بہن بھائی پر تشدد کے معاملے کی تحقیقاتی کمیٹی نے اپنی انکوائری رپورٹ مکمل کرلی ہے۔ رپورٹ میں سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس ایس پی) فدا جانوری کو بھی واقعے کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے ان کے خلاف کارروائی کی سفارش کی گئی ہے۔

تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق ایس ایس پی کورنگی فدا جانوری کی جانب سے معاملے میں انتظامی غفلت برتی گئی، جس پر ان کے خلاف کارروائی کی سفارش کی گئی۔ متاثرہ خاندان کے خلاف پہلے درج مقدمے کو بی کلاس یعنی خارج کردیا گیا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ واقعے میں ڈسٹرکٹ کورنگی کے 4 پولیس اہلکاروں کے خلاف بھی قانونی کارروائی کی جائے گی۔ ایس ایچ او درخشاں راشد علی، ایس آئی او عمران درخشاں اور پولیس موبائل افسر آفتاب منگی کے خلاف محکمانہ کارروائی کی سفارش بھی کی گئی ہے۔

تحقیقاتی کمیٹی نے ویڈیو میں نظر آنے والی دو خواتین اور ایک مرد کیخلاف مقدمہ درج کرنے کی بھی سفارش کی ہے۔ڈی آئی جی ساؤتھ اسد رضا کے مطابق ویڈیو میں متاثرہ خاندان پر تشدد کرنے والے تمام افراد فدا جانوری کے قریبی رشتے دار ہیں۔ انکوائری رپورٹ کی روشنی میں ذمہ داران کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائیگی۔ڈی آئی جی ساؤتھ نے بتایا کہ تحقیقاتی کمیٹی کی انکوائری رپورٹ ایڈیشنل آئی جی کو بھجوا دی گئی ہے۔