کارگو جہاز پر ڈرون حملے کے جواب میں امریکا کا ایران پر فضائی حملہ

واشنگٹن / تہران( امریکی سینٹرل کمانڈ، ایرانی میڈیا، رائٹرز، اے ایف پی)امریکی فوج نے آبنائے ہرمز میں ایک تجارتی کارگو جہاز پر مبینہ ڈرون حملے کے جواب میں ایران کے خلاف فضائی کارروائی کی ہے، جس کی تصدیق امریکی سینٹرل کمانڈ نے کر دی۔

امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق کارروائی ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز میں ایک تجارتی جہاز کو نشانہ بنانے کے ردعمل میں کی گئی۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکی طیاروں نے ایران کے میزائل اور ڈرون ذخیرہ کرنے کے مقامات کے علاوہ ساحلی ریڈار تنصیبات کو نشانہ بنایا۔

دوسری جانب ایرانی میڈیا نے جنوبی ایران کے ساحلی شہر سیریک میں ایک گولا گرنے کی اطلاع دی ہے، تاہم ایرانی حکام نے امریکی حملوں سے ہونے والے ممکنہ جانی یا مالی نقصان کی تفصیلات جاری نہیں کیں۔

غیرملکی میڈیا کے مطابق امریکی کارروائی آبنائے ہرمز کے علاقے میں کی گئی، تاہم تاحال کسی جانی نقصان کی تصدیق نہیں ہوئی۔

اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ممکنہ امریکی ردعمل سے متعلق سوال پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ “آپ کو خود پتہ چل جائے گا۔”

صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے ایک بڑے تجارتی کارگو جہاز پر چار ڈرونز سے حملہ کیا، جن میں سے ایک ڈرون جہاز کے بالائی حصے سے ٹکرایا، تاہم جہاز اپنے سفر کو جاری رکھنے میں کامیاب رہا، جبکہ باقی تین ڈرونز کو امریکی فورسز نے مار گرایا۔

انہوں نے مزید کہا کہ اگر ضرورت پڑی تو امریکا ایران کے خلاف دوبارہ بھی سخت کارروائی کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، تاہم ایران کے پاس اب بھی کچھ دفاعی صلاحیت موجود ہے۔