تہران(ایرانی وزارتِ خارجہ، ایرانی میڈیا، رائٹرز)ایران کے نائب وزیرِ خارجہ کاظم غریب آبادی نے کہا ہے کہ ایران آبنائے ہرمز میں مقررہ بحری راستے کے بجائے متبادل راستے سے گزرنے والے جہازوں کی حفاظت کی ضمانت نہیں دے سکتا۔
اپنے بیان میں کاظم غریب آبادی نے کہا کہ کوئی بھی قابلِ اعتماد فریم ورک ایران کے تعاون سے اور اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے پیراگراف پانچ کی روح کے مطابق تشکیل دیا جانا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ اگر اس اصول پر عمل نہ کیا گیا تو متوازی بحری راستے کی معطلی کی نوبت آ سکتی ہے۔
ایرانی نائب وزیرِ خارجہ کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان 14 نکاتی مفاہمتی یادداشت ایران کو سلطنت عمان کے ساتھ مشاورت کے ذریعے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں کو میری ٹائم سروسز فراہم کرنے کا اختیار دیتی ہے۔
تاہم کاظم غریب آبادی نے اس حوالے سے مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں، جبکہ مذکورہ مفاہمتی یادداشت اور “اسلام آباد مفاہمتی یادداشت” سے متعلق دعوؤں کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔

