اسلام آباد (نامہ نگار) شہریوں کے کاغذات کی تصدیق کے عمل میں مبینہ طور پر غیر قانونی طریقے سے 12 ارب روپے وصول کیے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔
ذرائع کو وزارت خارجہ میں جمع کرائی گئی تحقیقاتی رپورٹ کی نقل موصول ہوئی ہے، جس میں کاغذات کی تصدیق کیلئے غیر قانونی ذرائع استعمال کرنیوالے مبینہ مافیا کی جانب سے شہریوں سے بھاری رقوم وصول کیے جانے کی نشاندہی کی گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق شہریوں سے کاغذات کی تصدیق کے غیر قانونی ذرائع استعمال کرنے کے عوض 8 لاکھ روپے تک وصول کیے جاتے رہے اور ایک سال کے دوران مجموعی طور پر 12 ارب روپے غیر قانونی طور پر اکٹھے کیے گئے۔
تحقیقاتی رپورٹ ڈائریکٹر جنرل آڈٹ و انسپیکشن ڈاکٹر کی سربراہی میں 4 رکنی کمیٹی نے تیار کی۔ رپورٹ میں ایک نجی کوریئر کمپنی کے وزارت خارجہ کے ایک افسر سے مبینہ تعلق کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق مبینہ مافیا سے منسلک افسران اور اہلکاروں کے نام اور بیانات بھی شامل کیے گئے ہیں، جن میں سیکریٹری خارجہ کے دفتر میں کام کرنے والا ایک افسر، مختلف ونگز کے ڈائریکٹر جنرلز، ایک سابق ایڈیشنل سیکریٹری اور ایک سابق سفارتکار بھی شامل ہیں۔
وزارت خارجہ کے ذرائع کے مطابق کمیٹی کی رپورٹ جولائی میں سیکریٹری خارجہ کے دفتر کو بھیجی گئی تھی تاہم اسے قومی احتساب بیورو یا کسی دوسرے تحقیقاتی ادارے کو نہیں بھجوایا گیا۔ذرائع کے مطابق کمیٹی کی سفارش کے باوجود مبینہ طور پر ملوث کئی افسران کو بیرون ملک تعینات کردیا گیا۔

