اسلام آباد، نئی دہلی (پاکستان دفتر خارجہ، بھارتی وزارت خارجہ) بحیرۂ عرب میں پاکستانی اور بھارتی بحریہ کے یونٹس کے درمیان تصادم پر دونوں ممالک نے ایک دوسرے کے بحری جہاز کو واقعے کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے سفارتی احتجاج ریکارڈ کرایا ہے۔
پاکستانی دفتر خارجہ کے مطابق بھارتی بحری جہاز آئی این ایس کولکتہ نے پاکستانی سمندری حدود میں اشتعال انگیز اور غیر ذمہ دارانہ حرکات کیں۔ ترجمان کے مطابق 15 ستمبر کو بھارتی بحری جہاز نے خطرناک انداز میں رخ تبدیل کیا، جس کے نتیجے میں پاکستانی بحری جہاز پی این ایس حنین سے ٹکراؤ اور رگڑ کا واقعہ پیش آیا۔
دفتر خارجہ کے مطابق پی این ایس حنین کے عملے نے تصادم سے بچنے کی کوشش کی، تاہم بھارتی جہاز کے ساتھ رگڑ ہوگئی، جس کے بعد آئی این ایس کولکتہ نے رفتار بڑھائی اور علاقے سے روانہ ہوگیا۔ پاکستان نے بھارتی اقدامات کو اپریل 1991ء کے دوطرفہ معاہدے کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔
دوسری جانب بھارتی وزارت خارجہ نے نئی دہلی میں پاکستانی ہائی کمیشن کے ناظم الامور کو طلب کرکے واقعے پر سخت احتجاج کیا۔ بھارتی مؤقف کے مطابق 15 ستمبر کی شام شمالی بحیرۂ عرب میں معمول کی نگرانی پر مامور بھارتی بحری جنگی جہاز کے قریب ایک پاکستانی بحری جہاز تیز رفتاری سے آیا اور غیر محفوظ انداز میں نقل و حرکت کی، جس کے نتیجے میں دونوں جہازوں میں تصادم ہوا۔
بھارت نے الزام عائد کیا کہ پاکستانی بحری جہاز کا طرزِ عمل اپریل 1991ء کے بھارت پاکستان معاہدے کے آرٹیکل 10 کی خلاف ورزی تھا۔ بھارتی وزارت خارجہ نے پاکستان پر متعلقہ معاہدوں کی مکمل پاسداری اور بحری سرگرمیوں کے دوران احتیاط برتنے پر زور دیا۔
بھارتی وزارت خارجہ کے مطابق اسلام آباد میں بھارتی ناظم الامور کو بھی پاکستان کی وزارت خارجہ کے سامنے اسی نوعیت کا احتجاج درج کرانے کی ہدایت کی گئی ہے۔

