کراچی(نامہ نگار)کوئٹہ میں تیزاب گردی کا شکار ہونیوالی خاتون ڈاکٹر ماہ نور کے علاج سے متعلق اسپتال ذرائع نے واضح کیا ہے کہ ان کے چہرے پر کوئی بڑی سرجری نہیں کی گئی اور نہ ہی فی الحال اس کی ضرورت پیش آئیگی۔
ذرائع کے مطابق پلاسٹک سرجنز کی ٹیم نے ڈاکٹر ماہ نور کے چہرے پر معمولی گرافٹنگ کی ہے جبکہ آئندہ بھی ری کنسٹرکٹیو سرجنز معمول کے مطابق محدود طبی اقدامات جاری رکھیں گے۔
اسپتال ذرائع نے بتایا کہ گزشتہ روز ڈاکٹروں کی ٹیم نے ڈاکٹر ماہ نور کا تیسری بار مکمل معائنہ کیا جس میں ری کنسٹرکٹیو سرجن اور ماہر چشم شامل تھے۔ معائنے کے دوران ان کے چہرے، آنکھوں کے بیرونی حصے، ہونٹوں اور ناک کے زخموں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اور مختلف طبی ٹیسٹ بھی کیے گئے۔
ذرائع کے مطابق ڈاکٹر ماہ نور کی فیملی ان کے علاج سے مکمل طور پر مطمئن ہے جبکہ بلوچستان اور سندھ حکومتیں بھی متاثرہ ڈاکٹر اور ان کے اہل خانہ سے مسلسل رابطے میں ہیں۔

