پاکستان اور پیپلز پارٹی کی سیاست بھٹو خاندان کے بعدرفیق احمد شیخ کی فیملی کے ذکر کے بنا نامکمل رہتی ہے رفیق احمد شیخ آٹھ سال ابتلا کے دور مین پنجاب پارٹی کے صدر رہے تین سال مرکزی سیکرٹری اطلاعات اور آٹھ سال مرکزی سیکرٹری جنرل رہے انکے بڑے بیٹے عتیق احمد شیخ لاہور میں کیمونسٹ سیاست کے داعی رہے اور کئی مرتبہ ایجنسیوں کے تشدد کے باعث ذھنی توازن کھو بیٹھے شیخ توثیق احمد ان کے چھوٹےبیٹے تھے جیل اور شاہی قلعہ شیخ توثیق کا مسکن رہا تھا وہ بھی میرے بچپن کے ساتھی تھے 11جون 1994کو بادامی باغ میں انکی آفس میں ڈاکہ پڑا ڈاکو صرف دس ھزار روپے اکھٹے کرسکے توثیق نے اس دوران مجھے اشارہ کیا کہ انکو دبوچا جائے میرا تجربہ کالج یونیورسٹیز مین درجنوں نہیں سینکڑوں ایسے مقابلے کا تھا محسوس ہوگیا تھا کہ یہ مناسب صورت حال نہیں ہے مقابلے کی بجائے انکو جانے دیا جائے ڈاکو واردات کرکے آفس سے نیچے اتر گے اور توثیق نے مجھ سے اپنا ہاتھ چھڑایا اور بھاگ کر ڈاکو ڈاکو کا شور مچا دیا ایک لمحہ میں دو گولیاں چلنے کی آواز آئی۔

اور جمہوریت انسان دوستی کیلئےقربانیاں دینے والے خاندان کا ایک فرد ہم سے جدا ہوگیا جائے واقع کے ساتھ ہی میاں اظہر کی لاہور اسٹیل مل تھی مگر اس کے چوکیدار بھی اپنے اسلحہ سمیت کہیں چھپ گے توثیق شیخ شاندار سیاسی کارکن تھے جنرل ضیا کے ابتدائی دور میں ہی ہم دونوں مارشل لا مردہ باد ضیا کتا ھائے ھائے کی چاکنگ اور پوسٹر لگایا کرتے ضیا اور مارشل لا کے خلاف نکلنے والے چھوٹے چھوٹے جلوس مینج کرتے اور شریک بھی ہوتے ان کاروائیوں کو اب الفاظ میں بیان نہیں کیا جاسکتا ابتدا مین ہم کیمونسٹ پارٹی کے ممبر بھی رہے توثیق انہی کاروائیوں کے سبب ستمبر 1983مین گرفتار بھی ہوگیا اور جیل سے ایک ماہ بعد بدنام زمانہ عقوبت خانہ شاہی قلعہ میں پرویز صالح کے ہمراہ منتقل کردیا گیا کوٹ لکھپت جیل میں بیٹا اور باپ رفیق احمد شیخ ساہیوال جیل اور شیخ رفیق احمد کی بیگم دل کے عارضہ کے سبب میو ہاسپتال میں داخل میں درمیان میں اپنی جان بچاتے سیاست کرتے ان سب کی خبر گری کرتے سامان خطوط سیاسی رہنماؤں تک پہنچانا بھی میرے ذمہ تھا جن میں ملک معراج خالد، رانا شوکت محمود ،جہانگیر بدر، شاہ محمد، محسن لیاقت، حسین وڑائچ، ملک قاسم، چوہدری غلام قادر جبکہ سندھ میں قائم علی شاہ، راشد ربانی، مسرور احسن، امیر حیدر کاظمی، بیگم اشرف عباسی جبکہ سرحد میں آفتاب شیرپاؤ ،قمر عباس،اعظم خان درمیان میں ایک بات اور بتاؤں اسلم گل بھی ان دنوں شاہی قلعہ میں قید تھے توثیق کو کبھی کبھی اسلم گل کے گھر سے آئے بسکٹ یا کچھ اور کھانے کی بھی کوئی چیز میسر آجاتی یہیں سے اسلم گل کا سیاسی عروج بھی شروع ہوا اور شیخ رفیق احمد جیل اور رہائی کے دوران اسلم گل کے سرپرست بن گے مارشل لا کے خلاف ہزاروں کاروائیاں سینکڑوں مظاہرے جیل تھانے مقدمات اب کس کو یاد ہیں عوامی سیاست بڑی بڑی کوٹھیوں لینڈ کروزر بلکہ جہازوں کے درمیان کہیں گم ہوچکی ہے دوستوں کچھ زور سے پکارو کے لحد میں موجود قربان ہونے والے محسوس کریں کہ ابھی کچھ لوگ باقی اور اس سیاست سے وابستہ ہیں جون کی 11تاریخ ایک ڈاکو کی گولی میرے دوست اور سیاست کے ایک عمدہ کارکن کو ہم سے جدا کرگئی رب کریم کے حضور اس ملک کی حفاظت اور ملک پر قربان ہونے والوں کیلئےڈھیروں دُعائیں میں تنہا ہوں مگر وعدہ ہے سفر جاری رہے گا نا ملک چھوڑوں نا بھاگوں گا.

