کینیڈا کا ٹرمپ کو جواب، جھیل اونٹاریو کے کنارے ’اب اور ہمیشہ‘ کا بڑا بل بورڈ نصب

ٹورنٹو (اے پی/کینیڈین پریس) کینیڈا نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جھیل اونٹاریو کا نام تبدیل کرکے ’لیک امریکا‘ رکھنے کے فیصلے کا طنزیہ انداز میں جواب دیتے ہوئے جھیل کے کینیڈین ساحل پر ’لیک اونٹاریو، اب اور ہمیشہ‘ کا بڑا بل بورڈ نصب کردیا۔

اونٹاریو کے وزیر اعلیٰ ڈگ فورڈ نے ہفتے کے روز گریمس بی کے قریب ففٹی پوائنٹ کنزرویشن ایریا میں بڑے سائن بورڈ کی نقاب کشائی کی، جس پر انگریزی کے ساتھ فرانسیسی زبان میں بھی یہی پیغام درج ہے۔

ڈگ فورڈ نے کہا کہ صدر ٹرمپ یا کوئی اور شخص اس جھیل کا نام تبدیل کرنے کی کوشش کرے، کینیڈا میں یہ جھیل ہمیشہ ’لیک اونٹاریو‘ ہی کہلائے گی۔ انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ کے جانے کے طویل عرصے بعد بھی جھیل کا نام لیک اونٹاریو ہی رہے گا۔

یہ اقدام امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے 27 اگست کو جاری کیے گئے انتظامی حکم کے بعد سامنے آیا ہے، جس کے تحت امریکی وفاقی اداروں کو جھیل اونٹاریو کے لیے ’لیک امریکا‘ کا نام استعمال کرنے اور امریکی جغرافیائی ریکارڈ میں اسے شامل کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ تاہم یہ حکم کینیڈا کے سرکاری نام یا وہاں استعمال ہونے والی جغرافیائی اصطلاح پر لاگو نہیں ہوتا۔

کینیڈا کے دیگر سیاسی رہنماؤں نے بھی امریکی صدر کے فیصلے کو تنقید اور طنز کا نشانہ بنایا ہے۔ مانیٹوبا کے وزیر اعلیٰ واب کینیو نے ڈونلڈ ٹرمپ کا موازنہ ایک ایسے عمر رسیدہ راک بینڈ سے کیا جو کئی دہائیاں پرانا گانا دوبارہ مقبول بنانے کی کوشش کر رہا ہو۔

جھیل کے نام پر یہ تنازع ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب کینیڈا اور امریکا کے درمیان تجارتی کشیدگی میں اضافہ ہوگیا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان حالیہ تجارتی مذاکرات ناکام ہونے کے بعد امریکا نے کینیڈین درآمدات پر 50 فیصد محصولات عائد کیے، جبکہ کینیڈا نے بھی امریکی مصنوعات پر جوابی محصولات عائد کرنے کا اعلان کیا ہے۔