ہوانا (عرب میڈیا)کیوبا کے صدر میگوئل ڈیاز کینیل نے امریکا کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر کسی بھی قسم کی فوجی کارروائی کی گئی تو اس کے نتیجے میں خونریزی ہو گی اور خطے کا امن شدید خطرات سے دوچار ہو جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ کیوبا امریکا کے لیے کوئی خطرہ نہیں، تاہم اگر جنگ مسلط کی گئی تو ملک بھرپور جواب دے گا۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایک امریکی ویب سائٹ نے دعویٰ کیا کہ کیوبا نے 300 سے زائد فوجی ڈرون حاصل کر لیے ہیں جنہیں مبینہ طور پر امریکی بحری اڈے گوانتانامو بے اور دیگر اہداف کے خلاف استعمال کرنے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔
کیوبا نے ان الزامات کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا سوشلسٹ ریاست کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی کا جواز پیدا کرنے کیلئے جھوٹا مقدمہ تیار کر رہا ہے۔کیوبا کے وزیرِ خارجہ نے کہا کہ ہر خودمختار ملک کی طرح کیوبا کو بھی اپنے دفاع کا مکمل حق حاصل ہے۔
رپورٹس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حالیہ دنوں میں طنزیہ انداز میں کہا تھا کہ امریکی بحریہ مشرقِ وسطیٰ سے واپسی پر کیوبا کو بھی نشانہ بنا سکتی ہے، جہاں امریکا ایران کے خلاف بحری ناکہ بندی کر رہا ہے۔دوسری جانب ہوانا کے شہریوں نے بھی ممکنہ امریکی حملے کی صورت میں مزاحمت کرنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق کیوبا اس وقت شدید معاشی اور توانائی بحران کا شکار ہے جبکہ وینزویلا کے صدر کی گرفتاری کے بعد امریکا نے کیوبا کیلئے توانائی کی سپلائی محدود کر دی تھی، جس کے باعث ملک میں ایندھن اور بجلی کی شدید قلت پیدا ہو چکی ہے۔

