ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں سے فیس وصول کی جا سکتی ہے: عمان

مسقط( بلوم برگ، عمانی حکام، خلیجی ذرائع)عمان نے یورپی حکام کو آگاہ کیا ہے کہ مستقبل میں آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں سے بعض خدمات کے عوض فیس وصول کی جا سکتی ہے۔بلوم برگ کی رپورٹ کے مطابق عمانی حکام کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز کو جنگ سے پہلے کی صورتحال پر واپس لانا ممکن نہیں رہا، اس لیے وہاں سے گزرنے والے بحری جہازوں سے مخصوص خدمات کے بدلے کچھ نہ کچھ فیس لی جا سکتی ہے۔

عمانی حکام کے مطابق سلطنت عمان بین الاقوامی سمندری قوانین کی مکمل پابندی جاری رکھے گی، تاہم آلودگی سے تحفظ، بحری راہداری کی معاونت اور جہاز رانی سے متعلق دیگر خدمات کی فراہمی کے لیے فیس وصول کرنے کا طریقۂ کار زیر غور ہے۔

دوسری جانب قطر کی جانب سے بھی آبنائے ہرمز میں ممکنہ ٹول یا فیس کے معاملے پر مختلف اوقات میں مختلف مؤقف سامنے آئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق قطر نے ایک بیان میں کہا تھا کہ وہ ایران کے ساتھ مل کر سمندری راستوں میں جہاز رانی کے انتظام اور اس پر آنے والے اخراجات کے طریقۂ کار پر بات کرے گا، تاہم بعد ازاں خلیج تعاون کونسل کے اس مشترکہ بیان کی بھی توثیق کی، جس میں آبنائے ہرمز پر فیس وصول کرنے یا اس پر کنٹرول قائم کرنے کی کسی بھی کوشش کو مسترد کیا گیا۔

بلوم برگ کے مطابق امریکا، یورپ اور خلیجی عرب ممالک کو تشویش ہے کہ عمان اور ایران مل کر آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں سے فیس وصول کرنے کا کوئی نظام متعارف کرا سکتے ہیں، تاہم یہ واضح نہیں کہ مجوزہ فیس لازمی ہوگی یا رضاکارانہ نوعیت کی۔

ادھر فرانسیسی صدر ایمانوئیل میکرون پیرس میں عمان کے سلطان ہیثم بن طارق سے ملاقات کریں گے، جس میں سمندری راستوں کی سلامتی سمیت علاقائی امور پر تبادلۂ خیال متوقع ہے۔ عمانی وزارتِ خارجہ اور فرانس میں عمان کے سفارت خانے نے اس معاملے پر تبصرہ کرنے سے گریز کیا ہے۔