کیمپ ڈیوڈ، میری لینڈ (وائٹ ہاؤس، اے پی، خبر ایجنسیاں)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکا ایران پر انتہائی سخت حملے جاری رکھے گا اور واشنگٹن کا مقصد اس جنگ میں فتح حاصل کرنا ہے۔
ریاست میری لینڈ میں واقع کیمپ ڈیوڈ میں کابینہ اجلاس کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ہم صرف جیتنا چاہتے ہیں، ہم بہت اچھا کر رہے ہیں اور جہاں تک ممکن ہو نرمی سے کام لینے کی کوشش کر رہے ہیں، تاہم ایران کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ معاملہ بالکل سادہ ہے، ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی ہرگز اجازت نہیں دی جائے گی۔صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکا ایران پر انتہائی سخت حملے جاری رکھے گا اور ایک وقت ایسا آئے گا جب ایران خود کہے گا کہ وہ مزید برداشت نہیں کر سکتا۔
انہوں نے ان خبروں کو بھی مسترد کر دیا جن میں ایران کو اب بھی مضبوط پوزیشن میں قرار دیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کی صورتحال انتہائی خراب ہے، اس نے بے ایمانی سے کام لیا ہے اور اس کے ساتھ معاملات کرنا ایک غیر معزز تجربہ رہا ہے۔
امریکی صدر نے ایران کے خلاف جاری جنگ کا موازنہ امریکا کی ویتنام اور افغانستان کی سابقہ جنگوں سے کرتے ہوئے کہا کہ امریکا صرف پانچ ماہ سے اس تنازع میں شامل ہے اور اس دوران ایران کی عسکری صلاحیت کو مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا ہے۔
ایران کے ساتھ مذاکرات کے حوالے سے ٹرمپ نے کہا کہ اب انہیں ایران پر اعتماد نہیں رہا کیونکہ وہ جھوٹ بولتا ہے۔انہوں نے بتایا کہ مذاکرات کے دوران وہ اپنے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف کی کال کا انتظار کر رہے تھے، تاہم اس کے بجائے وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے اطلاع دی کہ ایران نے اردن میں واقع ایک امریکی اڈے پر پانچ میزائل داغ دیے ہیں۔
ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات میں خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف، مشیر جیرڈ کشنر، نائب صدر جے ڈی وینس اور وزیر خارجہ مارکو روبیو شریک ہیں اور امریکا کے بہترین لوگ اس عمل کو آگے بڑھا رہے ہیں۔
وائٹ ہاؤس کے مطابق حالیہ ہفتوں میں امریکا نے ایران کے مختلف علاقوں میں متعدد حملے کیے، جن کے بارے میں واشنگٹن کا مؤقف ہے کہ یہ کارروائیاں آبنائے ہرمز میں تجارتی جہاز رانی پر ایرانی حملوں کے جواب میں کی گئیں، جبکہ تہران نے جواباً خلیجی ممالک میں موجود امریکی فوجی تنصیبات، جن میں اردن کا ایک امریکی اڈہ بھی شامل ہے، کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔

