جنیوا/لندن/ایمسٹرڈیم( رائٹرز، ڈبلیو ایچ او، نیویارک ٹائمز، اسکائی نیوز)ہنٹا وائرس سے متاثرہ ڈچ کروز شپ “ایم وی ہونڈیئس” کے مسافروں کا دنیا بھر میں سراغ لگانے اور نگرانی کا عمل شروع کر دیا گیا ہے تاکہ وائرس کے مزید پھیلاؤ کو روکا جا سکے۔
عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے مطابق جہاز پر ہنٹا وائرس کے پھیلاؤ سے اب تک ایک ڈچ جوڑے اور ایک جرمن شہری سمیت 3 افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ 5 افراد میں وائرس کی تصدیق اور مزید 3 مشتبہ کیسز سامنے آئے ہیں۔
ڈبلیو ایچ او نے کہا ہے کہ ہنٹا وائرس عموماً چوہوں کے ذریعے پھیلتا ہے، تاہم اینڈین قسم کے وائرس میں نایاب صورتوں میں انسان سے انسان منتقلی بھی ممکن ہوتی ہے۔
کروز شپ آپریٹر کے مطابق 24 اپریل کو جنوبی بحرِ اوقیانوس میں واقع سینٹ ہیلینا پر اترنے والے تمام مسافروں سے رابطہ کر لیا گیا ہے۔ ان میں کم از کم 12 ممالک کے شہری شامل ہیں، جن میں 7 برطانوی اور 6 امریکی شہری بھی شامل تھے۔
ڈبلیو ایچ او کی وبائی امراض ڈائریکٹر Maria Van Kerkhove نے پریس کانفرنس میں کہا کہ “یہ کورونا وائرس جیسی صورتحال نہیں، یہ ایک مختلف وائرس ہے اور موجودہ خطرہ عام عوام کیلئے کم ہے۔”
ادارے کے مطابق جہاز پر موجود باقی مسافروں میں فی الحال علامات ظاہر نہیں ہوئیں، تاہم کینری آئی لینڈز پہنچنے پر ان کیلئے خصوصی طبی رہنمائی اور نگرانی کا انتظام کیا جا رہا ہے۔
امریکی ادارۂ صحت سی ڈی سی نے کہا ہے کہ صورتحال پر قریبی نظر رکھی جا رہی ہے جبکہ امریکی عوام کیلئے خطرہ اس وقت انتہائی کم ہے۔ جارجیا اور ایریزونا کی ریاستوں میں ایسے افراد کی نگرانی کی جا رہی ہے جو جہاز سے اترنے کے بعد واپس اپنے گھروں کو پہنچ چکے ہیں۔
نیویارک ٹائمز کے مطابق امریکی ریاست کیلیفورنیا میں بھی متعدد افراد طبی نگرانی میں ہیں جن کا تعلق اسی کروز شپ سے ہے۔فرانسیسی حکام نے بتایا کہ ایک فرانسیسی شہری ایسے شخص کے رابطے میں آیا تھا جو بعد میں بیمار ہوا، تاہم اس میں فی الحال کوئی علامات ظاہر نہیں ہوئیں۔
کروز شپ کمپنی اوشن وائیڈ ایکسپیڈیشنز نے کہا ہے کہ 20 مارچ سے جہاز پر سوار اور مختلف مقامات پر اترنے والے تمام مسافروں اور عملے کی تفصیلات اکٹھی کی جا رہی ہیں۔
رپورٹس کے مطابق ہلاک ہونے والا ڈچ جوڑا یکم اپریل کو جہاز پر سوار ہوا تھا۔ ڈچ ایئرلائن KLM نے 25 اپریل کو خاتون کی بگڑتی حالت کے باعث اسے جوہانسبرگ میں پرواز سے اتار دیا تھا، تاہم وہ نیدرلینڈز پہنچنے سے پہلے ہی انتقال کر گئی۔
ڈچ نشریاتی ادارے RTL کے مطابق متاثرہ خاتون سے رابطے میں آنے والی KLM کی ایک فضائی میزبان کو بھی ممکنہ علامات ظاہر ہونے پر ایمسٹرڈیم کے اسپتال میں داخل کر دیا گیا ہے۔
ڈچ حکام کے مطابق جہاز پر موجود وہ مسافر اور عملہ جنہوں نے متاثرہ خاتون کی مدد کی تھی، ان کی روزانہ بنیاد پر طبی نگرانی کی جا رہی ہے۔بدھ کے روز مزید 3 مریضوں کو جہاز سے منتقل کیا گیا، جن میں سے 2 نیدرلینڈز اور ایک جرمنی کے اسپتال منتقل کیا گیا۔
اسکائی نیوز کے مطابق نیدرلینڈز منتقل کیے جانے والوں میں ایک مہماتی گائیڈ مارٹن انسٹی بھی شامل ہیں، جنہوں نے بتایا کہ ان کی حالت بہتر ہے تاہم مزید ٹیسٹ جاری ہیں۔
جرمنی کے شہر ڈسلڈورف کی یونیورسٹی کلینک نے بتایا کہ ان کے پاس زیرِ علاج خاتون میں ابھی وائرس کی تصدیق نہیں ہوئی، تاہم وہ متاثرہ شخص کے رابطے میں رہی تھیں اور ان کے ٹیسٹ کیے جا رہے ہیں۔سوئٹزرلینڈ میں بھی ایک شخص کو پیر کے روز اسپتال میں داخل کیا گیا جہاں اس میں ہنٹا وائرس جیسی علامات پائی گئی ہیں جبکہ ڈنمارک کے ایک شہری کو احتیاطاً گھر میں تنہائی اختیار کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔

