آبناء ہرمز مستقل طور پر بند ہو جائے گی؟

آج کا دور جدید مواصلاتی ہے اور آسمان پر درجنوں کیا سینکڑوں مواصلاتی سیارے گھوم رہے ہیں، ہر صاحب استطاعت ملک نے اپنی بساط کے مطابق یہ اہتمام کیا ہوا ہے جبکہ ترقی یافتہ ممالک اس دوڑ میں آگے ہیں، مواصلات کے انہی ذرائع سے مفید معلومات لی جاتی ہیں تو ان سے دوسروں کے آنگن میں جھانکنے کی بھرپور کوشش بھی کی جاتی اور اب تو مصنوعی ذہانت (اے آئی) کا دور ہے جس کے ذریعے کسی کی پگڑی بھی اچھالی جا سکتی ہے کہ اس علم سے گومفید کام کی کوشش کی جاتی ہوگی لیکن یہاں تو کسی کا دھڑ اور سرکسی کا ہوتا ہے بلکہ پورے کا پورا انسان ہی تبدیل کر دیا جاتا ہے۔ انہی سیاروں سے ابلاغ کا کام بھی چل رہا ہے اور الیکٹرونک میڈیا میں خبروں کا جمعہ بازار لگا رہتا ہے او رپھر انہی خبروں پر ماہرانہ تجزیوں کا سلسلہ بھی ہوتا ہے ان تمام جدید سہولتوں کے باوجود خبر کیا اور کہاں ہے اس کا پتہ نہیں چلتا اور یہ سلسلہ بھی برسراقتدار اشرافیہ نے اپنے ہاتھ میں لے لیا ہے اور ٹی وی سکرینوں پر بھی چھائے رہتے ہیں۔

حالیہ ایران، امریکہ، اسرائیل جنگ میں خبریں دیکھنے کے علاوہ تجزیوں کوبھی سننا ہوتا ہے اس کے باوجود مجموعی طور پر خبر ملنا مشکل ہوجاتا ہے کہ برسراقتدار اشرافیہ والے موقع ہی نہیں دیتے اور ہر وقت سکرینوں پر موجود ہوتے اور خود ہی عوام کو باخبر کرتے ہیں، امریکی صدر ٹرمپ جو کبھی فوکس ٹی وی پر میزبانی کا شوق بھی پورا کر چکے ہوئے ہیں، اس سلسلے میں نمبرون ہیں اور جنگ کے حوالے سے بھی خود بھی اعلان کرتے اور خود ہی خبر بھی دیتے ہیں، وہ ہم صحافی حضرات کو تلاش کی تکلیف نہیں دیتے اور جو اطلاع یا خبر ان کے موافق نہ ہو اسے ڈس انفرمیشن قرار دے دیتے ہیں، اپنا پیشہ صحافت کا زیادہ وقت رپورٹنگ میں گذرا اور اس میدان میں داخل ہوئے تو پرنٹ میڈیا کا راج تھا، سرکاری ٹی وی بھی بعد میں شروع ہوا، چنانچہ خبر کی تلاش میں مقابلہ ہوتا اور اکثر چند ساتھی مل کر بھی یہ کوشش کرتے تھے۔ وہ ایک ایسا دور تھا جب لیڈر حضرات کو تلاش کرنا پڑتا تھا اور پھر خبر نکلوانا بھی فن تھا کہ جب میں نے روزنامہ امروز سے اپنا صحافتی سفر شروع کیا تو اس وقت نامور صحافی موجود تھے، مجھے ایسے حضرات کے ساتھ کام کرنے اور سیکھنے کا موقع ملا۔یہ 1963کا دور تھا، اس وقت ایوب خان کی ”توجہ“ سے نیشنل پریس ٹرسٹ کا قیام عمل میں آچکا تھا اور اس کے خلاف احتجاج بھی ہوتا تھا تاہم اس وقت حالت یہ تھی کہ عوامی مسائل پر کھل کر بات کی جاتی۔ سیاسی خبریں تلاش کی جاتیں اور ہدایات کے باوجود بات کہنے کا طریقہ اور ذریعہ نکال لیا جاتا تھا۔ اگرچہ وہ دور قدغنوں کا تھا لیکن اس کا زیادہ اثر این پی ٹی پر ہوتا تھا، جہاں ہر روز ذہانت کا امتحان ہوتا، بہرحال یاد کروں تو خوشی ہوتی ہے کہ مقابلے کی دوڑ تھی اور خبر خبر ہی ہوتی تھی۔

آج جو دور ہے ترقی کے باوجود خبر کے لئے کئی پہلو سوچنا پڑتے ہیں اور اب تو کالم لکھنے کے لئے بھی الیکٹرانک میڈیاکی محتاجی ہو چکی ہے اور یہ میڈیا اس دور کی طرح جب پاکستان میں د رخواست کی گئی کہ ٹی وی میں ایک ………… گھسا ہوا ہے اسے تو نکال دیں لیکن اب تو امریکی صدر ٹرمپ بازی لے گئے اور سکرین سے پرے ہی نہیں ہوتے بلکہ جنگ کی خبریں بھی ہر روز خود بھی بیان فرماتے رہتے ہیں، ابھی تک انہوں نے ایران کو تہس نہس کر دیا اوراور فرماتے ہیں کہ ایرانی رہنما مذاکرات کے لئے منت سماجت پر اتر آئے ہیں اور مذاکرات کے لئے بے تاب ہیں، حتیٰ کہ اب کوئی سپریم کمانڈر بننے کو تیار نہیں۔

دوسری طرف صورت حال یہ ہے کہ ایرانی زعماء مذاکرات اور جنگ بندی کیلئے تیار ہیں لیکن اپنی شرائط پر ان کے بقول جنگ اسرائیل اور امریکہ نے شروع کی تھی ختم ایران کریگا، بات خبر کی تلاش سے شروع کی تھی وہ درمیان ہی میں رہ گئی۔ صورت حال یہ ہے کہ صدر امریکہ نے پانچ روز کے لئے ایران کی اہم تنصیبات پر حملوں کو روکنے کا اعلان کیا لیکن اس پر عمل نہ ہوا، اسرائیل نے مسلسل بمباری کا سلسلہ جاری رکھا اور ایٹمی صلاحیت والے بجلی گھروں تک کو نشانہ بنا رہا ہے، حالانکہ اگر آزاد ذرائع خصوصاً برطانوی اور امریکی اخبارات کا مطالعہ کیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ ایران کو تو نقصان ہوا اور ہو رہا ہے لیکن ایران نے اسرائیل کا بینڈ بھی بجا دیا اور امریکی مفادات کو بھی نقصان پہنچایاہے۔ ایران کی ایک بڑی پریشانی یہ بھی ہے کہ مشرق وسطیٰ کے قریباً ہر ملک میں امریکہ کے فوجی اڈے ہیں اور جب ایران کی طرف سے ان اڈوں اور امریکی مفاد کو نشانہ بنانا پڑتا ہے تو اس سے خود مسلمان دوست ممالک بھی متاثر ہوتے ہیں، اگرچہ اس سلسلے میں احتیاط کی جاتی ہے اس کے باوجود بحرین کی طرف سے سلامتی کونسل میں قرارداد پیش کر دی جاتی ہے کہ آبناء ہرمز کو کھلوانے کیلئےعالمی طاقت کا استعمال کیاجائے جبکہ امریکہ نے اس بار بھی مذاکرات، مذاکرات کی آڑ میں ایران کے اہم تر معاشی جزیرے پر قبضہ کیلئےاپنی افواج کو نہ صرف الرٹ کر دیا ہے بلکہ چھاتہ بردار خصوصی دستوں کے علاوہ میرینز بھی روانہ کر دیئے ہوئے ہیں اس کا مطلب یہ ہے کہ اب زمینی جنگ بھی امکان میں نظر آنے لگی ہے۔

پاکستان،ترکیہ اور مصر کی کوششوں سے مذاکرات کے حوالے سے جو سلسلہ شروع کیا گیا اس سے دنیا بھر میں توقعات کا اظہار کیاجانے لگا تھا، پانچوں ممالک کے بڑوں کے درمیان جو گفتگو ہوئی وہ سب تو میڈیا کی زینت نہیں بن سکی، ہمارے سامنے تو سب کی باتیں اور توقعات ہیں۔ ان سے اندازہ ہوتا ہے کہ حالات اب بھی خراب تر ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ ایران سے ہتھیار ڈلوانا چاہتے ہیں اور ایران اپنے نقصان کا ازالہ چاہتا ہے، ابھی تک بالواسطہ پیغامات کا تبادلہ ہوا، امریکی 15نکات جو سامنے آئے وہ ایران نے مسترد کر دیئے اور جو پانچ شرائط ایران نے پیش کی ہیں ان پر ردعمل نہیں آیا البتہ ٹرمپ نے فرشتہ اجل کے لہجے میں کہا کہ ایرانی زعماء کی موت کے لئے جو فہرست مزید تیار تھی اس میں سے سپیکر پارلیمنٹ اور وزیرخارجہ کے نام ”فی الحال“نکال دیئے گئے ہیں کہ مذاکرات کی صورت کیا ہوتی ہے اس کا انتظار ہے۔ یہ حضرات مذاکرات کے حامی تو ہیں لیکن ایرانی موقف سے انحراف کے اہل ہی نہیں ہیں۔ اس لئے نظر بظاہر مذاکرت کی میز سجائے جانے سے مایوسی نظر آ رہی ہے تاہم بعض اوقات حالات ہی میں سے کوئی شکل نکل آتی ہے اگر تو قدرت کو منظور ہے کہ یہ جنگ رک جائے اور پھیلے نہیں تو پھر کوئی بہتر فیصلہ ہونا چاہیے جو امریکی قیادت کے رویے سے ممکن نظر نہیں آتا کہ اب تو وائٹ ہاؤس کی ترجمان نے بھی بہت کھل کر دھمکی دی ہے۔

اللہ سے بہتری کی دعا کرتے ہوئے بہت سی باتوں سے اجتناب کرتے ہوئے کہوں گا کہ اگر ڈونلڈٹرمپ نے اسرائیل کی بے جا اوربے تحاشہ حمائت کے چکر میں جنگ بندی کا فیصلہ نہ کیا تو حالات مزید خراب ہوں گے۔آبنائے ہرمز ایسی بند ہوگی کہ کئی سال تک کھل نہ سکے گی اور اب جو عبوری اثرات ہوئے ہیں یہ مستقل ہو جائیں گے اور پھر امریکہ کے پاس کیاضمانت ہے کہ ایران روس سے اسلحہ حاصل نہیں کرے گا، بہت کچھ سینے میں رکھتے ہوئے مذاکرات کی توقعات کرتا ہوں۔