اسرائیلی انتخابات، نیتن یاہو اور اپوزیشن اکثریت سے محروم، عرب جماعتیں فیصلہ کن حیثیت میں آگئیں

تل ابیب (دی گارڈین، رائٹرز) اسرائیل کے عام انتخابات کے نتائج میں وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کا حکومتی اتحاد اور ان کے خلاف میدان میں اترنے والا مرکزی اپوزیشن اتحاد دونوں پارلیمنٹ میں واضح اکثریت حاصل کرنے میں ناکام دکھائی دے رہے ہیں، جبکہ 92 فیصد ووٹوں کی گنتی مکمل ہونے کے بعد فلسطینی اسرائیلی جماعتیں حکومت سازی کیلئے اہم فیصلہ کن قوت بن کر سامنے آگئی ہیں۔

دی گارڈین کی براہِ راست رپورٹ کے مطابق ابتدائی نتائج میں نیتن یاہو کے اتحاد کو 53 نشستیں، ان کے خلاف قائم یہودی جماعتوں کے اتحاد کو 48 نشستیں جبکہ فلسطینی اسرائیلی جماعتوں کو مجموعی طور پر 19 نشستیں حاصل ہوئی ہیں۔

اسرائیلی پارلیمنٹ کنیسٹ کی مجموعی 120 نشستوں میں حکومت بنانے کیلئے 61 نشستیں درکار ہیں، تاہم دونوں بڑے سیاسی اتحاد مطلوبہ اکثریت سے پیچھے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق فلسطینی اسرائیلی جماعتوں کے اتحاد جوائنٹ لسٹ نے کم از کم 12 نشستیں حاصل کی ہیں جبکہ دوسری جماعت رام کو 7 نشستیں ملی ہیں۔ ان نتائج کے بعد فلسطینی جماعتیں حکومت سازی کے مذاکرات میں اہم کردار ادا کرسکتی ہیں۔

نیتن یاہو کی جماعت لیکوڈ پارلیمنٹ میں سب سے بڑی جماعت بن کر سامنے آئی ہے، تاہم ان کے دائیں بازو اور مذہبی اتحادیوں کی حمایت میں کمی آئی ہے۔ خاص طور پر ایتامار بن گویر اور بیزلیل سموٹریچ کی جماعتوں کو توقع سے کم کامیابی ملی ہے۔

دوسری جانب سابق اسرائیلی فوجی سربراہ گادی آئزن کوٹ کی قیادت میں قائم اپوزیشن اتحاد بھی تنہا حکومت بنانے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔ اس اتحاد کیلئے فلسطینی اسرائیلی جماعتوں کی حمایت حاصل کرنا اہم ہوگا، تاہم نیتن یاہو نے ان جماعتوں کے ساتھ حکومت بنانے سے انکار کیا ہے اور اپوزیشن اتحاد کے اندر بھی ان کے ساتھ اتحاد کے معاملے پر اختلافات پائے جاتے ہیں۔

انتخابات میں ووٹ ڈالنے کی شرح 77.7 فیصد رہی، جو 1999ء کے بعد دو دہائیوں سے زائد عرصے میں سب سے زیادہ بتائی گئی ہے۔ یہ انتخابات 7 اکتوبر 2023ء کے حملوں کے بعد اسرائیل میں پہلے عام انتخابات ہیں، جن میں غزہ جنگ، قومی سلامتی، نیتن یاہو کی پالیسیوں اور ملک میں بڑھتی سیاسی تقسیم اہم موضوعات رہے۔

نیتن یاہو نے انتخابی نتائج کے باوجود دائیں بازو کی مضبوط قومی حکومت بنانے کے عزم کا اظہار کیا ہے، جبکہ گادی آئزن کوٹ نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ عوام نے نیتن یاہو کو دوبارہ وزیراعظم بنانے کی حمایت نہیں کی۔

رپورٹ کے مطابق بیرون ملک مقیم ووٹروں اور دیگر خصوصی ووٹوں کی گنتی باقی ہے، جس کے بعد حتمی نتائج سامنے آئیں گے۔ توقع ہے کہ جمعرات تک مکمل نتائج واضح ہو جائیں گے۔ اس دوران نیتن یاہو نئی حکومت کی تشکیل تک نگراں وزیراعظم کی حیثیت سے ذمہ داریاں انجام دیتے رہیں گے۔

حکومت سازی کیلئے مختلف جماعتوں کے درمیان مذاکرات کا امکان ہے، تاہم سیاسی جماعتوں کے اختلافات کے باعث اسرائیل میں نئی حکومت کی تشکیل میں کئی ہفتے لگ سکتے ہیں اور مذاکرات ناکام ہونے کی صورت میں دوبارہ انتخابات کا راستہ بھی اختیار کرنا پڑ سکتا ہے۔