قلم کار بھی عام انسان ہی ہوتا ہے اور وہ اپنی تحریر کے توسط سے دل کا غبار نکال لیتا ہے۔ ادب کی تاریخ میں یہ بھی ثابت ہے کہ گھٹن کے ماحول میں اچھی تحریری لکھی گئیں بلکہ کئی معروف اور دردمند ادیبوں نے اپنی تحریروں کے مسائل بھی بھگتے، کسی کا ذکر کرنے کی ضرورت نہیں کہ اب پڑھنے والوں کو یہ علم ہے، بہر حال مقصد یہ کہ جو لکھتا ہے اسے پڑھنے والے جتنے بھی ہوں ان میں اکثر حضرات اپنی پسند یا تنقید کا اظہار کر دیتے ہیں اور اکثر بعض خامیوں کی تصحیح بھی کر دیتے ہیں، میرے ساتھ بھی اکثر ایسا ہوتا ہے تاہم میں اپنے ان مہربانوں کا ذکر کئے بغیر آگے بڑھ جاتا ہوں لیکن آج یہ ممکن نہیں کہ ایک محترم قاری نے گزشتہ روز کے کالم کے حوالے سے جو نشاندہی کی اس سے مجھے شرمندگی کا احساس ہوا میں نے اپنی اس کوتاہی کی تلافی ضروری جانی، ان محترم قاری نے پہلے تو ”بھولا“ والی بات کا لطف لیا اور تعریف کی کہ میں نے پنجابی والی لوک کہاوت کھل کر بیان نہیں کی البتہ ان کو شکائت تھی کہ مجھے مونث کو مذکر بنا کر بات نہیں کرنا چاہیے تھی، میں نے عرض کیا کہ سوشل میڈیا والے آج کل مصنوعی ذہانت کے علم کو ان کاموں کے لئے استعمال کررہے ہیں لیکن میری تربیت ایسی نہیں ہے اس لئے ”بھولی“ کو ”بھولا“ ہی تصور کریں کہ میں محترم ڈونلڈ ٹرمپ کی شان میں تبدیلی جنس والی گستاخی نہیں کر سکتا، بہرحال اس ذکر کا حقیقی مقصد تو اپنی کوتاہی کی نشان دہی پر معذرت عرض کرنا اور درستگی ملحوظ تھی، میں نے بھولا کے کردار کے بارے میں محترم عطاء الحق قاسمی کا تو ذکر کیا لیکن قبلہ عبدالقادر حسن کا نام بھول گیا جنہوں نے حقیقی بھولا کے حوالے سے بڑے بڑے شاہکار کالم لکھے تھے۔ پھر خود ہی اپنے کالم میں حقیقی بھولا کا تعارف کرا دیا تھا۔ میں اپنے محترم قاری کا مشکور اور خود سے شرمندہ ہوتے ہوئے جناب عبدالقادر حسن کی روح سے معذرت خواہ ہوں کہ کوتاہی ہو گئی۔
اب آج کی بات کرلیتے ہیں،جس حوالے سے گزشتہ روز بات کی تھی وہ ابھی تک جاری ہے اور اکابرین پاکستان کی کوششیں بھی، اب تو خود فریقین کی طرف سے کھل کر بات کی جا رہی ہے جس سے یہ امر یقینی نظر آ رہا ہے کہ مذاکرات کا اگلا دور حتمی ہو گا اور معاہدہ پر دستخطوں کا اعزاز اسلام آباد کو حاصل ہوگا۔امریکی صدر ڈونلڈٹرمپ نے اب بڑی سنجیدگی سے معاہدہ کے قریب تر ہونے کی بات کر دی اور اپنی اس خواہش کو دہرایا ہے کہ وہ معاہدہ پر دستخطوں کی تقریب کے موقع پر اسلام آباد بھی جا سکتے ہیں اور ان سے بعید نہیں کہ وہ ایسا کر گزریں، لہٰذا ہمارے اداروں کو اب اور بھی چست ہونا ہوگا اور خارجہ امور کے صندوق والے ”بابا“ کو بھی اپنے سینئر کو تیار رکھنا ہوگاکہ اگر ایسا ہو گیا تو پھر بڑے عالمی صحافتی گرو حضرات سے واسطہ بھی پڑے گا کہ ٹرمپ امریکی صحافیوں کو پہلے ہی اسلام آباد رہنے کی ترغیب دے چکے ہوئے ہیں، بہرحال اگر یہ ہوا جو ناممکن نہیں تو یہ ایک اوربڑا اعزاز موجودہ سیٹ اپ کو حاصل ہوگا جو ملک کے لئے بھی شہرت کا باعث ہوگا۔
پاکستان نے جس تندہی اور جذبہ سے جنگ کے شعلے بجھانے کی کوشش کی اس نے معترض حضرات کے منہ بند تو کر دیئے لیکن اب بھی اکثر ناداں حکومت اور ریاست (ملک) کے اجزاء کو جانے بغیر اپنا بغض نکالتے چلے جا رہے ہیں، اللہ ہم سب کو نیک ہدائت دے، میری معترض حضرات سے درخواست اور اپیل ہے کہ حالات حاضرہ کے حوالے سے ملکی اور قومی بہبود کا خیال رکھیں اور بلاوجہ کے اعتراضات اور اشتعال انگیزی سے گریز کریں۔آخر ہم عوام تو تکلیف برداشت کر ہی رہے ہیں اور اُف تک نہیں کرتے لیکن جب درد کا حد سے بڑھ جانا دوا ہو جاتا ہے تو تکلیف کی زیادتی فریاد پر مجبور کر دیتی ہے اور ایسا ہوا کہ مہنگائی تو رو دھو کر برداشت کرنے کی مجبوری تھی کہ ہم عوام اس کے عادی ہو چکے ہوئے لیکن جب تاریخ کی بدترین لوڈشیڈنگ کا سامنا ہوا تو تکلیف ناقابل برداشت ہو گئی اور ہم بھی بھی گلہ کرنے پر مجبور ہو گئے، پھر ایسا شور ہوا کہ خود محترم وفاقی وزیر اویس لغاری کو آکر معذرت کرنا پڑی اور قوم کو دلاسہ دینا پڑا،یہ اویس لغاری ہمارے سابق صدر مرحوم فاروق لغاری کے صاحبزادے ہیں جو پاکستان پیپلزپارٹی کے سیکرٹری جنرل اور محترمہ بے نظیر بھٹو شہید کے بھائی تھے اور انہی فاروق بھائی نے محترمہ کی حکومت اور ایوان (2-B)58کے اختیار کے تحت کالعدم قرار دے کر محترمہ کو حیرت زدہ کر دیا تھا کہ وہ یہ بات ماننے پر تیار ہی نہ تھیں۔
چھوڑیں اس کو یہ بھی تاریخ کا حصہ ہے، اویس لغاری تو اب مسلم لیگ (ن) میں اور اس کی کابینہ کا حصہ ہیں،وہ گرم سوٹ میں ملبوس ہم گرمی کے ماروں کو تسلی دے رہے تھے کہ جلد ہی یہ تکلیف دور ہو جائے گی، اب ان کو کیا معلوم کو اس بدترین بندش بجلی نے ان عوام کا کیا حشر کیا جن کا نام لے لے کر ان کی زبان خشک ہوتی ہے اگرچہ زبان سے ہمدردی کرتے ہوئے ہمیں غریب کہتے ہیں لیکن اس کے پیچھے جو ”حقارت“ چھپی ہوئی ہے وہ تو یہی ہے کہ یہ مر کیوں نہیں جاتے، وزیر موصوف اپنے قبیلے کے سردار بھی ہیں، انہوں نے دردمندانہ انداز سے وضاحت کی اور تسلی دی، جسے ہم چاہیں نہ چاہیں ماننا تو پڑے گا کوئی چارہ کار ہی نہیں۔تاہم مجھے کچھ عرض کرنا ہے اور جان کی امان پا کر گزارش کرتا ہوں کہ محترم وفاقی وزیر نے بڑے فخر سے سولر کا ذکر کیا ہے اور یہ درست بھی ہے کہ سرکاری ذریعہ کے مطابق سولر کی استعداد 8ہزار کلو واٹ تک پہنچ چکی ہے تاہم یہ سوال تو بنتا ہے کہ آپ نے اگر یہ مہربانی کی تو بہتر تھا کہ نہ کرتے کہ اب آپ کی طرف سے حالات کے تحت عوام سے قربانی تو مانگ لی گئی ان کو تاریک راتوں پر رہنے کیلئے مجبور تو کر دیا لیکن یہ نہیں بتایا کہ اب آپ نے نئے صارفین کو یہ سہولت نہ دینے کے لئے ایسے قواعد کیوں بنا دیئے کہ سستا ہوتا ہوا سولر سسٹم مہنگا ہوگیا اور آپ نے اپنے محکمہ کے قواعد ایسے کیوں کر دیئے کہ اب سولر بوجھ محسوس ہونے لگا ہے۔ محترم سولر اور بیٹری کا مجموعہ عام آدمی کی استطاعت نہیں۔ یہ بھی آپ جیسے سرمایہ دار حضرات ہی برداشت کر سکتے ہیں، ہم جیسوں کو تو ادھار اٹھا کر سولر لگانے کی جرائت ہی ممکن ہے لیکن آپ نے سولر سے منسلک بجلی نرخوں کو ایسا چکر دیا کہ ہم جیسے لوگ ہمت ہی نہ کر سکیں۔
بات یہیں ختم کرتے لیکن یہ بتا دوں کہ جو حضرات گھروں سے باہر پنکھے لگا کر سوتے ہیں ان کو مچھروں نے ہلکان کرنا شروع کر دیا ہے اور جو ہم جیسے لوگ اللہ کی نعمت کے باعث گھر کے اندر سوتے ہیں وہ پسینے کے باعث نہیں سو پاتے جیسے میرے ساتھ ہوا کہ یوپی ایس کی بیٹریاں جواب دے چکیں نئی مہنگی ہیں اور اب فوری استطاعت نہیں، لہٰذا راتیں سوتے جاگتے، پسینے میں نہاتے گزر رہی ہیں وزیر محترم آپ کو تو اس کا احساس نہیں ہو سکتا کہ آپ کو گرمی لگتی ہی نہیں ہے تو پسینے کا کیا جواز، اگر میں آپ کی پریس بریفنگ میں ہوتا تو یہی دکھ روتا۔

