گلگت(نامہ نگار)اسپانٹک چوٹی سر کرنے والی پاکستانی خاتون کوہ پیما ڈاکٹر اسماء مشتاق کی لاش مل گئی۔ڈاکٹر اسماء مشتاق 20 اگست کو 7 ہزار 27 میٹر بلند اسپانٹک چوٹی سے واپسی کے دوران تقریباً 6 ہزار 400 میٹر کی بلندی پر شدید بلند پہاڑی بیماری کا شکار ہوکر انتقال کر گئی تھیں۔
الپائن کلب آف پاکستان کے سیکریٹری جنرل ایاز شگری کے مطابق شگر سے تعلق رکھنے والے مقامی ہائی آلٹیچیوڈ کوہ پیماؤں کی پانچ رکنی ٹیم نے جمعے کو دوبارہ سرچ آپریشن شروع کیا تھا، جس کے دوران آج صبح تقریباً 11 بجے کیمپ تھری کے قریب ڈاکٹر اسماء مشتاق کی لاش مل گئی۔
انہوں نے بتایا کہ ٹیم نے صبح 3 بجے سرچ آپریشن شروع کیا تھا اور تقریباً 8 گھنٹے کی تلاش کے بعد لاش تقریباً 6 ہزار 250 میٹر کی بلندی پر ملی۔ڈپٹی کمشنر شگر شیر افضل کے مطابق مقامی کوہ پیما لاش کو کیمپ ٹو منتقل کر رہے ہیں، جس کے بعد اسے بیس کیمپ لانے کے انتظامات کیے جائیں گے۔
حکام کے مطابق بلند پہاڑوں پر موسم بدستور دشوار ہے اور برف باری بھی جاری ہے، تاہم موسم نے اجازت دی تو لاش کو بیس کیمپ تک منتقل کیا جائے گا، جہاں سے پاکستان آرمی ہیلی کاپٹر کے ذریعے اسے اسکردو منتقل کیے جانے کی توقع ہے۔
ڈاکٹر اسماء مشتاق نے 7 ہزار 27 میٹر بلند اسپانٹک چوٹی کامیابی سے سر کی تھی، تاہم واپسی کے دوران بلند پہاڑی بیماری کے باعث ان کی حالت بگڑ گئی اور وہ جانبر نہ ہوسکیں۔
دیگر رپورٹس کے مطابق ریکوری ٹیم نے اس سے قبل بھی لاش تلاش کرنے کی کوشش کی تھی، تاہم شدید برف باری اور خراب موسم کے باعث آپریشن کامیاب نہیں ہوسکا تھا۔

