تہران (رائٹرز، تسنیم نیوز ایجنسی)پاسداران انقلاب ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی جنگی جہاز آبنائے ہرمز کے داخلی حصے اور خلیج فارس سے 500 کلومیٹر پیچھے ہٹ گئے ہیں۔
پاسداران انقلاب کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل حسین محبی نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف جنگ شروع کیے جانے سے قبل خلیج فارس میں 30 سے 40 امریکی بحری جہاز موجود تھے، تاہم اب ان میں سے کوئی بھی جہاز خلیج فارس میں موجود نہیں۔
انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ خلیج فارس میں فعال امریکی پانچویں بحری بیڑے کی کوئی چھوٹی کشتی بھی اس علاقے میں موجود نہیں ہے۔
حسین محبی نے کہا کہ امریکی دھمکیاں یقینی شکست کو فتح کے طور پر پیش کرنے کی کوشش ہیں۔ انہوں نے امریکی طیارہ بردار بحری جہازوں یو ایس ایس ابراہام لنکن اور جیرالڈ فورڈ سمیت دیگر بحری اثاثوں کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ امریکی فوج طویل جنگ جاری رکھنے کی صلاحیت نہیں رکھتی۔
ایرانی پاسداران انقلاب کے ترجمان نے امریکا کو خبردار کیا کہ ایران کے خلاف کسی بھی جارحیت کی بھاری قیمت چکانا پڑے گی۔
واضح رہے کہ حسین محبی نے 9 ستمبر کو بھی کہا تھا کہ جنگ سے قبل خلیج فارس میں 30 سے 40 امریکی بحری جہاز موجود تھے اور بعد میں امریکی بحری جہاز آبنائے ہرمز سے کم از کم 400 کلومیٹر پیچھے ہٹ گئے۔

