انصاف کون کرے گے؟

انصاف کون کرے گا یہ سوال ہے۔اس معاشرے سے جہاں قتل کے بعد دیت اور قصاص ادا کر کے جان چھڑا لینا آسان بنا دیا گیا ہے، لیکن مہذب دنیا میں انصاف ہو رہا ہے۔ خلفائے راشدین کے انصاف کی توقع آج کے پاکستانی معاشرے سے رکھنا ہی زیادتی ہے لیکن برصغیر میں انصاف کی ایک داستان مغلیہ حکمران شہنشاہ جہانگیر کے حوالے سے مشہور ہے جس نے اپنے محل کے باہر زنجیر عدل لٹکائی تھی،جس کو بھی انصاف چاہئے ہوتا وہ زنجیر عدل کو ہلا کر جہانگیر سے انصاف مانگتا اور پھر انصاف ملتا تھا۔ لیکن پھر مغل بادشاہ محمد شاہ رنگیلے کی حکومت آئی اور انصاف کرنے والا خود شراب پی کر دربار میں مدہوش پڑا رہنے لگا۔ محمد شاہ رنگیلے جیسے حکمرانوں کی بدولت انگریز نے ہندوستان پہ قبضہ کر لیا۔ انگریز نے اپنا قانون اور سزائیں بنائیں، انگریز کا بنایا عدالتی نظام آج بھی رائج ہے، البتہ اس میں فوجی ڈکٹیٹر جنرل ضیاء الحق کے دور میں شرعی سزائیں شامل کی گئی ہیں، لہٰذا یہ قانون اب انگریز اور اسلامی قوانین کا ملغوبہ بن گیا ہے، جس میں بچ نکلنے کے راستے بے شمار ہیں۔

گزشتہ ہفتے برطانیہ میں 18سالہ افغانی نوجوان مروان قادر پیزا یا برگر خریدنے گیا اور اس نے آرڈر دیا کہ اسے لہسن والی چٹنی دی جائے، لیکن بیرے نے غلطی سے دوسری چٹنی یا کیچپ دے دیا، جس پر افغانی نوجوان آگ بگولا ہو گیا۔ پستول نکالا بیرے کے سر پہ تان لیا اور کہا تمہیں قتل کر دوں گا، اس نے صرف دھمکی دی تھی قتل نہیں کیا تھا، لیکن برطانوی نظام انصاف میں یہ کہنا کہ تمہیں قتل کر دوں گا اور پستول نکالنا بھی جرم ہے۔ مروان قادر کو اس کے جرم کی سزا وولٹیج کرائم کورٹ نے تین سال قید کی صورت میں دی ہے۔ (کسی وکیل نے یہ نہیں کہا کہ اس کی عمر 18 ابھی نہیں ہوئی ہے لہٰذا اس پر رحم کیا جائے)۔ برطانیہ ہی کی مثال ہے کہ دوسری جنگ عظیم میں جب ہٹلر کی فضائیہ لندن پر بمباری کر رہی تھی تو برطانوی وزیراعظم سرونسٹن چرچل کے ایک مشیر نے انہیں کہا کہ اب جرمن جہاز لندن تک آپہنچے ہیں اور بمباری کر رہے ہیں تو چرچل کا جواب تھا کہ کیا برطانوی عدالتوں نے انصاف دینا بند کر دیا ہے ان کے مشیر نے کہا نہیں ایسا نہیں ہے۔ تو چرچل کا تاریخی جملہ تھا ”تو پھر برطانیہ کو کوئی خطرہ نہیں“۔ یعنی جہاں انصاف ملے وہاں ملک خطرے میں نہیں ہوتے۔ کاش کہ یہ مثال ہمارے ملک پر بھی صادق ہوتی۔ کاش انصاف عدالتوں میں ملتا۔ کاش سزائیں کھیتوں، کھلیانوں، سڑکوں، گلیوں میں براہ راست گولیاں مار کر نہ دی جاتیں اور ان سزاؤں کو پولیس مقابلہ قرار نہ دیا جاتا۔

کسی بھی مہذب معاشرے میں ریپ، گینگ ریپ بدترین جرم کہلاتا ہے، اسلام میں تو اس کی سزا سنگساری اور 100 درے ہیں یعنی معافی نہیں ہے، لیکن آج حالات یہ ہیں کہ اپنے گاؤں سے ”پنڈی“ کی نواحی آبادی روات جانے والی دو بچوں کی ماں کو چار افراد ویگن میں بٹھا کر اسلام آباد، پنڈی کی سڑکوں پر چلتی گاڑی میں گینگ ریپ کرتے ہیں۔ خدا جانے اب انہیں سزا ”عدالت“ دے گی یا ”CCD“ دے گی،کچھ عرصہ پہلے ایک 14 سالہ بچی کو جس کی ماں مر چکی تھی اس کے چار محلے داروں نے گھر میں گھس کر ”ریپ کرنا معمول“ بنا لیا۔ ملزموں میں ایک ادھیڑ عمر مرد، دو 18 سالہ نوجوان اور ایک 14 سالہ لڑکا شامل تھے۔ جب وہ بچی ماں بننے لگی تو باپ کو اس مسئلے کا علم ہوا۔ چاروں ملزم گرفتار تو ہوئے ان کی سزا ابھی ”پینڈنگ“ ہے۔ سزا کون دے گا عدالت یا CCD وقت بتائے گا۔ کچھ عرصہ پہلے سینٹ میں اسلام آباد میں ریپ کے حوالے سے ایک رپورٹ پیش ہوئی، جس کے مطابق پانچ برسوں میں ریپ کے103کیس درج ہوئے۔ 150 ملزم گرفتار ہوئے، لیکن ایک کو بھی سزا نہیں ملی۔ یہ ہے پولیس اور عدلیہ کی کارکردگی، کہتے ہیں پولیس تفتیش صحیح نہیں کرتی اور پھر عدالتوں میں جرح صحیح نہیں ہوتی، بلکہ ریپ کیسوں میں صرف ناشائستہ جملے اور گھٹیا سوال کئے جاتے ہیں۔ انصاف کی ایک مثال سندھ کا اُم رباب کیس ہے۔ جس میں پیپلز پارٹی کے دو رکن اسمبلی (جن میں ایک چانڈیو قبیلے کا سردار بھی ہے) اور اس کے چھ ساتھیوں کو عدالت نے وقوعہ کے آٹھ سال کے بعد یہ کہہ کر بری کر دیا کہ شواہد ناکافی ہیں۔ ملزمان پر الزام تھا کہ انہوں نے ام رباب کے دادا کرم اللہ چانڈیو اور اس کے دو بیٹوں مختار چانڈیو، قابل چانڈیو کو قتل کر دیا تھا۔ ابتدا میں یہ مقدمہ دہشت گردی کورٹ میں چلایا گیا مگر پھر جلد فیصلے کے ”ڈر“ سے کیس سیشن جج کی عدالت میں بھیجا گیا۔ جہاں سے آٹھ سال دو ماہ بعد کیس کا فیصلہ آگیا ہے کہ ایف آئی آر کمزور ہے کیونکہ 16 گھنٹے تاخیر سے کرائی گئی (یعنی مدعی زخمی سنبھالنے کی بجائے پہلے تھانے ایف آئی آر کرانے جاتے)۔جج صاحب نے طاقتور قبیلے کے سردار اور ارکان اسمبلی سمیت تمام ملزمان بری کر دئیے۔ مقتولین کی پوتی، بیٹی، بھتیجی اُم رباب اب اس کیس کو ہائی کورٹ لے جانا چاہتی ہے۔ خدا جانے اُسے وہاں بھی انصاف ملتا ہے یا نہیں۔

یہ اتنی لمبی تمہید بیان کرنے کا مقصد صرف یہ تھا کہ گزشتہ سال، یعنی تقریباً کوئی 14 مہینے پہلے پنجاب میں (جرائم کے خاتمے کے لئے) کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ (سی سی ڈی) کا ایک نیا ادارہ قائم کیا گیا، جس کے خلاف ہیومن رائٹ کمیشن پاکستان نے درخواست دی کہ اس محکمے نے صرف آٹھ مہینے میں 670 پولیس مقابلوں میں 924 مشتبہ افراد کو ہلاک کیا ہے، جبکہ ان پولیس مقابلوں میں صرف دو پولیس اہلکاروں کی جان گئی۔لہٰذا اس حوالے سے اعلیٰ عدالتی کمیشن قائم کیا جائے اور اس معاملے کو دیکھا جائے۔ سی سی ڈی کی طرف سے جمع کرایا گیا جواب خود یہ بتاتا ہے کہ یہ پولیس مقابلے ایک ”پالیسی“ کے تحت ہیں، کیونکہ سی سی ڈی کے جواب میں کہا گیا ہے کہ ”ہم نے ایک موثر حکمت عملی سے پنجاب میں جرائم پیشہ عناصر کی کمر توڑ دی ہے۔ عوام کا اعتماد بحال کر دیا ہے“۔ یہ نہیں لکھا کہ عوام کا اعتماد کس پہ بحال کیا گیا ہے ”سی سی ڈی پر یا پوری پنجاب پولیس پر“۔ (یقینا محکمہ انصاف پر تو نہیں)۔ سی سی ڈی نے ایچ آر سی پی کی رپورٹ کو بے بنیاد قرار دیا ہے لیکن سی سی ڈی کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ ان کی پالیسی کی بدولت پنجاب میں ڈکیتی کی وارداتوں میں 78 فیصد، گھروں میں ہونے والی ڈکیتی وارداتوں میں 80 فیصد، موٹر سائیکل چھیننے کی وارداتوں میں 69 فیصد اور گاڑی چھیننے کی وارداتوں میں 50 فیصد کمی آئی ہے، جبکہ گھروں میں ڈکیتیوں کے دوران ریپ کے واقعات ختم ہو چکے ہیں شاید سی سی ڈی والوں کو اسلام آباد پنڈی کی سڑکوں پر ویگن میں ہونے والے ریپ کے واقعے کا علم نہیں ہو سکا۔