اوٹاوا: کینیڈا کی معیشت نئے مرحلے میں داخل ہو رہی ہے: مارک کارنی

اوٹاوا(سی بی سی،بین الاقوامی میڈیا)کینیڈا کے وزیرِاعظم مارک کارنی نے کہا ہے کہ ملک کی معیشت امریکا کے ساتھ تجارتی کشیدگی کے تناظر میں بنیادی تبدیلیوں کے مرحلے سے گزر رہی ہے اور حالیہ تکنیکی کساد بازاری اسی “منتقلی اور استحکام” کے عمل کا حصہ ہے۔

کابینہ اجلاس سے قبل صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے مارک کارنی نے کہا کہ ان کی حکومت ایک مضبوط، زیادہ خودمختار اور زیادہ لچکدار کینیڈین معیشت کی بنیاد رکھ رہی ہے۔ ان کے مطابق بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری، حکومتی اصلاحات، اہم منصوبوں میں تیزی اور نئے تجارتی معاہدوں کے اثرات اب سامنے آنا شروع ہو رہے ہیں۔

شماریات کینیڈا کے مطابق رواں سال کی پہلی سہ ماہی میں حقیقی مجموعی قومی پیداوار میں 0.1 فیصد سالانہ بنیاد پر کمی ریکارڈ کی گئی، جبکہ اس سے قبل 2025ء کی آخری سہ ماہی میں بھی معیشت سکڑ گئی تھی، جس کے باعث تکنیکی طور پر معیشت کساد بازاری میں داخل ہو گئی۔

وزیرِاعظم نے کہا کہ حکومت نے آبادی میں تیز اضافے کو محدود کرنے کے لیے امیگریشن کی رفتار کم کی ہے اور سرکاری اخراجات میں اضافے کی شرح بھی نمایاں طور پر گھٹائی گئی ہے۔ ان کے مطابق سرکاری اخراجات کی شرح نمو تقریباً 10 فیصد سے کم ہو کر 2 فیصد سے بھی نیچے آ گئی ہے۔

ماہرینِ معیشت کے مطابق پہلی سہ ماہی میں سرکاری اخراجات اور سرمایہ کاری میں غیر متوقع کمی، برآمدات میں 4.1 فیصد اور کاروباری سرمایہ کاری میں 3.6 فیصد کمی معیشت کی سست روی کی اہم وجوہات رہیں۔

مارک کارنی نے کہا کہ مشینری، آلات، تحقیق، ترقی اور دانشورانہ املاک میں سرمایہ کاری گزشتہ چھ ماہ کے دوران نمایاں طور پر بڑھی ہے جبکہ گھریلو آمدنی بھی مہنگائی کی شرح سے زیادہ رفتار سے بڑھ رہی ہے۔

دوسری جانب پیئر پوئیلیور نے معاشی سکڑاؤ کو کینیڈا کے لیے تشویشناک قرار دیتے ہوئے الزام لگایا کہ لبرل حکومت کی پالیسیوں نے ملک کو جی سیون ممالک اور شمالی امریکا کی واحد کساد بازاری میں دھکیل دیا ہے۔

ادھر کیرولین راجرز سمیت متعدد ماہرینِ معیشت نے خبردار کیا ہے کہ صرف دو سہ ماہیوں کی معمولی معاشی کمی کی بنیاد پر صورتحال کو مکمل کساد بازاری قرار دینا قبل از وقت ہوگا، کیونکہ ابتدائی اعداد و شمار کے مطابق اپریل میں معاشی سرگرمیوں میں بہتری کے آثار بھی سامنے آئے ہیں۔