ایران۔ امریکہ معاہدہ، تاخیر خود ٹرمپ کی حکمت عملی!

زندگی کے ساتھ ہزار بکھیڑے لگے رہتے ہیں، یہ محترم ڈونلڈ ٹرمپ نے دنیا کے ساتھ جو متھا لگا رکھا ہے اس کی کیفیت اب اس کمبل والی ہو گئی ہے جس سے پیچھا چھڑانے کی کوشش ناکام ہو جاتی ہے۔ ایران اور امریکہ کا تنازعہ گرم، سرد والی کیفیت بن کر رہ گیاہے۔ قارئین! یقین جانیں اس حوالے سے حقیقت تک پہنچنا بھی مشکل ہو چکا ہے کہ ہم جیسے آؤٹ آف فیلڈ (رپورٹنگ) کے لئے معلومات کا ذریعہ اب بیانات ہی رہ گئے ہیں، ان میں اکثر بار بار دہرائے جاتے ہیں، خصوصاً ٹرمپ اور ان کے مددگار تو بار بار ایک ہی بات پر اصرر کرتے اور ایران کی طرف سے وہی جواب موصول ہوتا ہے۔

اب حالات اس نہج پر آ گئے کہ دونوں اطراف کو خاموشی کھلنے لگی ہے اور پھر اچانک کوئی پٹاخہ چھوڑ دیا جاتا ہے بہرحال ایک امر تو بالکل واضح ہے کہ بھاری نقصان اور دباؤ کے باوجود ایران ثابت قدمی ظاہر کررہا ہے اور اب تو ایران کی طرف سے اپنے شہید رہنما کی تدفین کا بھی اعلان کر دیا گیا ہے یہ سلسلہ سب کے سامنے ہے اور جاری ہےّ ذرا سکون ہو تو پٹرولیم کے نرخ کم اور جھڑپ کا نتیجہ قیمت میں اضافے سے نکلتا ہے۔

یہ سب ظاہر ہے تاہم میرے اندر کا بنیادی رپورٹر اس صورت حال کو اب اور ہی نظر سے دیکھنے پر مجبور ہے۔ میں نے عرض کیا تھا کہ ٹرمپ کو بھولا سمجھنے والے غلطی پر ہیں اور وہ اتنے ہی بھولے نہیں ہیں، تو میری عرض یہ ہے کہ وہ اس بھولپن اور بول پن کی آڑ میں ہم سب کو بے وقوف بنا رہے ہیں اور اپنے اصل مقصد کے لئے اُدھر نہ اِدھر والی کیفیت بنا رکھے ہوئے ہیں۔ذرا سا غور کریں تو واضح ہو جاتا ہے کہ امریکی صدر دھوکا دے رہے ہیں وہ جان بوجھ کر ایران سے معاہدے میں تاخیر کرتے چلے جا رہے ہیں اور معاملے کو الجھا رہے ہیں، اس عرصے میں وہ اسرائیل کو پورا موقع دیتے چلے جا رہے ہیں کہ وہ غزہ کے 70فیصدحصے پر پورا قابض ہو اور لبنان کی سرزمین کا بھی بہت سا حصہ اپنے قبضہ میں لے لے۔ امریکہ اور صدر ٹرمپ کے اعلان، لبنان اسرائیل جنگ بندی کے باوجود اسرائیل مسلسل لبنان پر حملے کررہا ہے اور چند روز قبل اس نے لبنان کے ایک تاریخی پہاڑ پر بھی قبضہ کیا ہے۔ اب اس کی طرف سے ہر روز شہریوں کو علاقے خالی کرنے کی ہدایت بھی دی جا رہی ہے اسی سلسلے میں پاسداران ایران کی طرف سے اسرائیل کو خبردار کیا گیا کہ وہ لبنان پر حملے بند کرے ورنہ اسرائیل بھی تیار رہے جواب دہی کرنا ہوگی۔

مجھے تو یہی احساس ہوتا ہے کہ یہ پاگل اور ناشکرے والی بات بھی ایسی ہی کسی گفتگو کا حصہ ہے کہ صہیونیوں کی طرف سے نہ تو غزہ کے مظلوم فلسطینیوں پر مظالم میں کمی آئی اور نہ ہی لبنان پر حملے رکے ہیں، آپ جو چاہے سمجھیں لیکن میرا یقین ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ اور نیتن یاہو مل کر یہ سب کررہے ہیں کہ ان کا نشانہ ایران اور اس سے منسلک تنظیمیں حماس اور حزب المجاہدین اور عراقی حوثی ہیں ان کے حوالے سے ٹرمپ اور نیتن یاہو ایک پیج پر ہیں اور یہ سب کو نظر آ رہا ہے۔

میری یہ سوچ اس لئے بھی ہے کہ نیتن یاہو اتنا بہادر نہیں کہ وہ امریکی صدر کی حقیقی دھمکی کو ہوا میں اڑا سکے۔ اس لئے یہ سب تاخیر اس لئے ہے کہ اسرائیل زیادہ سے زیادہ مفاد حاصل کر سکے اور اسرائیل ذاتی دفاع کے نام پر پورے خطے پر قابض ہونا چاہتا ہے۔ صدر ٹرمپ اسرائیل کے حقیقی محافظ ہیں جبھی تو انہوں نے مسلمان ممالک کو ابراہم اکارڈ پر دستخط کرکے اسرائیل کو تسلیم کرنے پر زور دیا تھا، اس لئے میں تو اسی نتیجے پر پہنچا ہوں کہ جان بوجھ کر معاملہ کو الجھایاگیا اور اسے طوالت دی جا رہی ہے۔

جہاں تک ہمارے پاکستان کی صورت حال ہے تو ہم نے اپنے معاشی مقاصد کے لئے جلتی آگ میں کود کر اسے ٹھنڈا کرنے کا فیصلہ کیا اور اس کوشش میں اس حد تک کامیاب ہو گئے کہ جنگ بندی ہوگئی اور فریقین نے مذاکرات کا سلسلہ بھی شروع کرلیا، لیکن اسے طوالت دی جاری ہے، امریکہ کی طرف سے مسلسل دھمکیاں دی جاتی ہیں اور ایران اپنی قومی خودداری کے حوالے سے ڈٹا ہوا ہے اور بات اس سے آگے نہیں بڑھ رہی، آبناء ہرمز دل کی شریان بن چکی اور اس کی بندش سے دنیا بھر کی معاشی حالت پر اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ پاکستان قدرے زیادہ متاثر ہے کہ ہم قرض اتارنے کے لئے بھی نیا قرض لینے پر مجبور ہیں۔ اگر حالات میں کوئی بڑی تبدیلی نہ ہوئی تو ہماری مشکلات میں کمی نہیں ہوگی۔

قومی اسمبلی میں ہم وفاقی بجٹ کی آمد سے خوف میں مبتلا ہیں کہ خسارے والا ملک تو ٹیکس لگانے پر مجبور ہو گا اور آپ جتنی یقین دہانی کرالیں برق تو بے چارے مسلمانوں پر ہی گرے گی اور جو بھی ٹیکس بڑھے گا یا نیا لگے گا اس کا بوجھ بالواسطہ یا بلاواسطہ ہم عوام پر ہی پڑے گا کہ آئی ایم ایف کی جنرل سیلز ٹیکس میں ایک فیصد اضافے کی شرط مان لی گئی تو بچوں کی ٹافیاں تک مہنگی ہو جائیں گی اور پھر ہم اپنے ملک کے اتنے ہمدرد ہیں کہ حکومت کے ٹیکس اپنی جگہ، ہمارے تاجر بھائی نرخ بڑھانے میں اپنی جگہ ماہر ہیں، ہر کوئی ان عوام کا نام لے کر انہی کی رگوں سے مزید خون نکالتا ہے جیسے خون ٹیسٹ کرنے والی لیبارٹریاں بوڑھی رگوں سے بھی خون نکال ہی لیتی ہیں اس کے لئے انہوں نے چڑی سرنج کا استعمال شروع کر رکھا ہے جس کی سوئی یا نیڈل بڑی باریک ہوتی ہے۔

اس گزارش کو دہرانے میں کوئی حرج نہیں کہ کم از کم مسلمان ممالک کو تو ان سب حالات پر غور کرنا چاہیے یہ درست کہ ایران۔ امریکہ لڑائی کے دوران ایران کی طرف سے مسلمان ممالک میں امریکی اہداف کو نشانہ بنانے پر ایران کو خبردار کیا جاتا رہا ہے تاہم اللہ کا شکر ہے کہ یہ سب اب تک جوش پر ہوش ہی کو مقدم رکھے ہوئے ہیں ورنہ تو اسرائیل کی ہر ممکن کوشش ہے کہ وہ مسلمان ممالک کو آپس میں بھڑا دے اس سلسلے میں، میں پاکستان اور ترکیہ کے ساتھ ساتھ سعودی عرب کی قیادت کو بھی داد دوں گاکہ ان سب نے اپنا کردار ادا کیا اور برداشت کا مظاہرہ ہی نہیں کیا بلکہ مسلمان ممالک کو جوابی کارروائی سے بھی روکا اور یوں اسرائیلی چال تاحال ناکام ہے۔

اب ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان پھر سے ترکیے، سعودی عرب اور دوسرے مسلمان ممالک کے تعاون سے جدوجہد کرے کہ ایران اور امریکہ میں باہمی معاہدہ طے پا جائے یا ڈیل ہو جائے تاکہ دنیا کا معاشی نظام سنبھل سکے اور امکانی طور پر غزہ امن بورڈ کو بھی متحرک کیا جا سکے۔