ایک اچھا چیف سیکرٹری

چیف سیکرٹری کسی بھی صوبے کی بیوروکریسی کا محور اور انتظامی ڈھانچے کا سب سے اہم ستون ہوتا ہے، اسے بجا طور پر ایک”فادرلی فگر” کہا جاتا ہے کیونکہ اس کی قیادت نہ صرف پالیسی سازی بلکہ افسروں کی رہنمائی، تربیت اور نظم و ضبط کو بھی متاثر کرتی ہے، ایک اچھے چیف سیکرٹری کی نمایاں خوبی اس کی غیر جانبداری ، سیاسی دباؤ سے بالاتر فیصلے اور ریاستی مفاد کو ہر چیز پر مقدم رکھنا ہے، اسکی غیر جانبداری بیوروکریسی کے اندر اعتماد پیدا کرتی ہے اور افسروں کو میرٹ پر کام کرنے کا حوصلہ دیتی ہے، ایک کامیاب چیف سیکرٹری وہی ہوتا ہے جو پیچیدہ حالات میں بروقت اور درست فیصلے کر سکے، وہ مسائل کو محض فائلوں تک محدود نہیں رکھتا بلکہ ان کے عملی حل تلاش کرتا ہے، اس کے فیصلوں میں دوراندیشی شامل ہوتی ہے جس سے نہ صرف موجودہ مسائل حل ہوتے ہیں بلکہ مستقبل کے چیلنجز کا بھی پیشگی اندازہ ہو جاتا ہے۔اسکی خوبیوں میں قیادت کا وہ انداز بھی ہوتا ہے جو سختی اور نرمی کے درمیان توازن رکھتا ہو، وہ نظم و ضبط پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرتا، افسروں کے مسائل کو سمجھتا ہے اور صرف احکامات دینے والا نہیں بلکہ سننے والا بھی ہوتا ہے، اس کی شخصیت میں ایسا وقار ہوتا ہے کہ ماتحت افسر نہ صرف اس کا احترام کرتے ہیں بلکہ اس سے رہنمائی لینے میں بھی جھجک محسوس نہیں کرتے۔ ایک مضبوط چیف سیکرٹری تقرریوں اور تبادلوں میں شفافیت کو یقینی بناتا ہے، وہ ذاتی پسند و ناپسند سے بالاتر ہو کر اہل اور قابل افسران کو آگے لاتا ہے، اس عمل سے نہ صرف اداروں کی کارکردگی بہتر ہوتی ہے بلکہ بیوروکریسی میں ایک مثبت مقابلے کا رجحان بھی فروغ پاتا ہے اور سب سے بڑھ کر ایک اچھا چیف سیکرٹری مشکل حالات میں بھی صحیح موقف اپنانے سے نہیں گھبراتا، وہ حق بات کہنے اور درست فیصلہ کرنے کا حوصلہ رکھتا ہے، چاہے اس کے لیے اسے وقتی دباؤ یا تنقید کا سامنا ہی کیوں نہ کرنا پڑے، یہی جرات اسے ایک عام افسر سے ممتاز بناتی ہے۔

پنجاب جیسے بڑے اور پیچیدہ صوبے میں مختلف ادوار کے چیف سیکرٹریز نے اپنے اپنے حالات کے مطابق کام کیا، کسی نے استحکام کے دور میں اصلاحات کیں، تو کسی نے بحرانوں میں نظام کو سنبھالا، اس لیے اچھے چیف سیکرٹریوں کا موازنہ آسان نہیں ہوتا، کیونکہ ہر ایک کی کارکردگی اس کے حالات و واقعات سے جڑی ہوتی ہے، تاہم ایک بات مشترک ہے کہ جن چیف سیکرٹریز نے میرٹ، دیانتداری اور مضبوط قیادت کو اپنایا، وہ ہمیشہ یاد رکھے گئے،کیونکہ چیف سیکرٹری صرف ایک عہدہ نہیں بلکہ ایک کردار ہوتا ہے ،ایسا کردار جو پورے نظام کو سمت دیتا ہے، اگر اس عہدے پر ایک باصلاحیت، باکردار اور باوقار شخصیت فائز ہو، تو بیوروکریسی نہ صرف مؤثر ہوتی ہے بلکہ عوامی خدمت کا حقیقی ذریعہ بھی بن جاتی ہے۔

پنجاب کی بیوروکریسی اور سیاسی قیادت کے درمیان ہم آہنگی ہمیشہ سے ایک اہم موضوع رہا ہے، مگر حالیہ برسوں میں یہ ہم آہنگی جس سطح پر دکھائی دے رہی ہے، وہ ماضی کی نسبت ایک مثبت اور نمایاں تبدیلی کی علامت ہے، اس تبدیلی کے پس منظر میں اگر کسی ایک شخصیت کو دیکھا جائے تو وہ موجودہ چیف سیکرٹری پنجاب زاہد اختر زمان ہیں، جنہوں نے ایک عبوری دور میں ذمہ داریاں سنبھالیں مگر اپنی کارکردگی، تدبر اور انتظامی صلاحیتوں کے ذریعے خود کو ایک مستقل اور مؤثر انتظامی سربراہ کے طور پر منوایا، عمومی طور پر نگران دور کی بیوروکریسی میں ایک طرح کی غیر یقینی کیفیت ہوتی ہے کہ عبوری سیٹ اپ کے بعد اعلیٰ افسران کو تبدیل کر دیا جائے گا یا وہ وفاق کا رخ کریں گے، یہی قیاس آرائیاں زاہد اختر زمان کے بارے میں بھی کی جا رہی تھیں کہ نئی منتخب حکومت کے آنے کے بعد وہ شاید وفاق میں چلے جائیں گے، مگر یہیں سے ان کی پیشہ ورانہ مہارت اور قیادت کی اصل کہانی شروع ہوتی ہے۔

عبوری دور میں انہوں نے جس انداز سے انتظامی معاملات کو سنبھالا، وہ نہ صرف مستحکم بلکہ مثالی بھی قرار دیا جا سکتا ہے، انہوں نے نہ صرف حکومتی مشینری کو فعال رکھا بلکہ ایسے فیصلے کیے جن سے گورننس کا تسلسل برقرار رہا، یہی وہ کارکردگی تھی جس نے نئی منتخب حکومت کو یہ باور کرایا کہ میرٹ، تسلسل اور ادارہ جاتی استحکام کو مدنظر رکھتے ہوئے انہیں اپنے عہدے پر برقرار رکھنا زیادہ مناسب فیصلہ ہوگا، یوں وہ ایک نایاب مثال بنے کہ کسی عبوری دور میں تعینات ہونے والا افسر اپنی قابلیت کی بنیاد پر نئی حکومت کا اعتماد بھی حاصل کر لے۔

پنجاب جیسے بڑے اور پیچیدہ انتظامی ڈھانچے والے صوبے میں چیف سیکرٹری کا کردار محض ایک انتظامی عہدہ نہیں بلکہ ایک ایسا محور ہوتا ہے جس کے گرد پورا حکومتی نظام گھومتا ہے، زاہد اختر زمان اس کردار کو نہایت سنجیدگی اور بصیرت کے ساتھ نبھا رہے ہیں،ان کی قیادت میں نہ صرف بیوروکریسی میں استحکام آیا بلکہ ایک واضح سمت بھی متعین ہوئی، یہی وجہ ہے کہ وہ طویل عرصے بعد ان چند چیف سیکرٹریز میں شامل ہیں جو تین سال سے زیادہ عرصہ سے کام کر رہے ہیں، جو بذات خود ایک غیر معمولی بات ہے،ان کے آنے کے بعد پنجاب بیوروکریسی کی مجموعی ساخت میں بہتری آئی،اس وقت صوبے میں سیکرٹری سطح پر افسران کی اکثریت پیشہ ورانہ صلاحیتوں کی حامل اور اچھی شہرت رکھنے والے افسران پر مشتمل ہے،یہ کوئی اتفاق نہیں بلکہ ایک سوچا سمجھا عمل ہے،جس میں میرٹ کو ترجیح دی گئی اور ایسے افسران کو اہم ذمہ داریاں سونپی گئیں جو نتائج دینے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں، اس سے نہ صرف پالیسی سازی بہتر ہوئی بلکہ اس پر عملدرآمد بھی مؤثر انداز میں ممکن ہوا۔

ایک اور قابل ذکر پہلو یہ ہے کہ زاہد اختر زمان نے ایک نئی اور نسبتاً مختلف طرزِ قیادت رکھنے والی قیادت کے ساتھ کام کرتے ہوئے بیوروکریسی کو نہایت مہارت سے ہم آہنگ کیا،ایک خاتون وزیر اعلیٰ کے ساتھ کام کرتے ہوئے چیلنجز بھی شامل ہوتے ہیں، مگر یہاں زاہد اختر زمان کی انتظامی بصیرت کھل کر سامنے آتی ہے، انہوں نے نہ صرف اس تبدیلی کو قبول کیا بلکہ اسے ایک موقع کے طور پر استعمال کرتے ہوئے بیوروکریسی اور سیاسی قیادت کے درمیان ایک مؤثر پل کا کردار ادا کیا، وزرا اور سیکرٹریوں کے درمیان جو ٹیم ورک دیکھنے میں آ رہا ہے، وہ کسی بھی کامیاب حکومت کی بنیاد ہوتا ہے، ماضی میں اکثر یہ شکایات سامنے آتی رہی ہیں کہ سیاسی اور انتظامی قیادت کے درمیان رابطے کا فقدان ہے، جس کی وجہ سے پالیسیوں پر عملدرآمد متاثر ہوتا ہے، مگر موجودہ دور میں یہ خلا بڑی حد تک کم ہوتا دکھائی دیتا ہے، وزرا اور سیکرٹریز کے درمیان نہ صرف بہتر رابطہ ہے بلکہ ایک مشترکہ وژن کے تحت کام کرنے کا رجحان بھی پروان چڑھ رہا ہے۔آج گورننس کا جو ماڈل سامنے آیا ہے، وہ ایک متوازن اور مربوط نظام کی عکاسی کرتا ہے، ، چیف سیکرٹری نے جدید انتظامی تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ڈیجیٹلائزیشن، شفافیت اور کارکردگی کو بہتر بنانے پر بھی توجہ دی، اس سے نہ صرف عوامی خدمات کی فراہمی میں بہتری آئی بلکہ حکومتی امور میں شفافیت بھی بڑھی، ایسے اقدامات کسی بھی جدید گورننس ماڈل کا لازمی جزو ہوتے ہیں اور زاہد اختر زمان نے اس کی اہمیت کو بروقت سمجھا۔