رائے عامہ :دھوکہ یا حقیقت

شہید محترمہ بے نظیر بھٹو سیاست دانوں کی موجودہ نسل میں سب سے زیادہ وسیع المطالعہ تھیں، انہیں ادب ،سیاست، تاریخ اور بین الاقوامی امور پر اسی وجہ سے دسترس حاصل تھی۔ ادب میں انہیں انگریزی کے لیجنڈری ڈرامہ نگار ولیم شیکسپیئر کا مشہور ڈرامہ جولیس سیزر نہ صرف پسند تھا بلکہ انہیں اس ڈرامے کے اہم ڈائیلاگ زبانی یاد تھے اور وہ ضرورت پڑنے پر انہیں سنایا بھی کرتی تھیں، جولیس سیزر کو پسند کرنے کی بڑی وجہ شاید یہ تھی کہ شیکسپیئر کی تخلیقات میں سے یہ ڈرامہ سب سے زیادہ سیاسی ہے اور اس میں سیاست کے عروج وزوال اور رائے عامہ کی حقیقت کواس کمالِ خوبصورتی سے بیان کیا گیا ہے کہ ڈرامہ لکھنے کے صدیوں بعد بھی اس کا اثر کم نہیں ہوا بلکہ بڑھا ہے۔ رائے عامہ، جنتا دی آواز، چیتنا ،لوکاں دی سوچ اور صدائے مردم کے نام پر ہمارے خطے میں بعض اوقات فرد کی آواز کو اجتماعی آواز بناکر پیش کیاجاتا ہے عوام کے نام پر ذاتی ایجنڈے سامنے لائے جاتے ہیں۔ بظاہر رائے عامہ ایسی حقیقت ہےجسے آواز خلق کی طرح جھٹلایا نہیں جاسکتا مگر جب رائے عامہ گمراہی پر مبنی ہوتو وہ رائے عامہ حقیقت نہیں بلکہ دھوکہ ہوتی ہے ایسی رائے عامہ کو قبول کرنا خودکشی کے مترادف ہوتا ہے۔

سلطنت عظمیٰ روم کی تاریخ کا ایک بڑا واقعہ جو لیس سیزر کا سینٹ کی سیڑھیوں پر قتل تھا شیکسپیئرنے اسی تاریخی واقعے کے بعد رائے عامہ کے نشیب وفراز اور سیاست کے مثبت ومنفی کرداروں پر ڈرامہ لکھا جولیس سیزر(جس کے نام سے جولائی کا مہینہ موسوم ہے) تاریخ کا بہت بڑا کردار ہےسیزر (جسے عربی میں قیصر روم کہتے ہیں)کی حکومت کا ڈنکا روم ،مصر اور یورپ تک بجتا تھا جولیس سیزر کو روم کے سب سے بڑے فاتح کا مقام حاصل تھا اور اسے رومانوی دنیا میں مصری حسینہ اور ملکہ قلوپطرہ کا شوہر ہونے کا اعزاز بھی ملا ہوا تھا۔ خیر اپنوں کی سازشوں سے سیزر کو خنجر مارے گئے اپنے دوست اور دست راست بروٹس نے وار کیا تو سیزر نے مشہور فقرہ کہا ’’ بروٹس تم بھی ‘‘ جو آج تک ضرب المثل ہے اور دوست کی دغا بازی کیلئے بولا جاتا ہے۔ جونہی جولیس سیزر کے مرنے کا یقین ہوتا ہے تو سازشیوں میں سے ایک سینا(Cinna)رائے عامہ ہموار کرنے کیلئے بیانیہ پیش کرتے ہوئے کہتا Liberty, Freedom, Tyranny is dead,run hence, proclaim, cry it about the streets (آزادی مل گئی ،ظلم ختم ہوا، اے لوگو، دوڑو اور گلیوں بازاروں میں یہ اعلان کردو) سیزرکے قتل کو چھپانے کیلئے آزادی کا بیانیہ تراشا گیا تاکہ سیزر کو ظالم بناکر اسکے قتل کوجائز قرار دیا جائے۔ قتل کے فوراً بعد قتل کا بڑا مجرم بروٹس کہتا ہے ’’اے سینیٹرز اور لوگو، خوفزدہ نہ ہو، بھاگو مت، سکون سے کھڑے رہو کیونکہ ہوس اقتدار کا مزا چکھایا جاچکا ‘‘ گویا بروٹس نے رائے عامہ ہموار کرنے اورسیزر کے قتل کو جائز قرار دینے کیلئے جولیس سیزر کو ہوس اقتدار کامجرم ٹھہرایا اور لوگوں سے سکون کی درخواست کی کیونکہ ہنگامہ قتل کے واقعے کو بڑھا دیتا۔ سیزر کے دوست جنرل مارک انتونی نے مجمع سے آکر رائے عامہ کا پانسہ پلٹ دیا اور خون میں لتھڑے جولیس سیرز کو دیکھ کر کہا ’’ تم اس طرح زمین پر کیوں لیٹے ہوئے ہو تمہاری فتوحات تمہارے کارنامے، کیا سب انتہائی گھٹیا سی خواہش کی نذر ہوگئے‘‘۔’’ تمہارا خون تو دنیا کا معزز ترین خون ہے‘‘ شیکسپیئر نے بروٹس کو بہت اچھے مقرر کے طور پر پیش کیا ہے، قتل کے بعد مجمع عام میں اسکی تقریر کو دنیائے ادب میں شاہکار ماناجاتا ہے، بروٹس نے سیزر کے قتل کا جواز پیش کرتے ہوئے رائے عامہ اپنے حق میں ہموار کرنے کیلئے کہا ’’ اے اہل وطن اور مجھ سے محبت کرنے والو، میری بات سنو اور خاموش رہو ۔یہ نہیں کہ میں سیزر سے تم سے کم محبت کرتا تھا مگر مجھے اپنے وطن روم سے محبت کسی بھی شخصیت سے زیادہ ہے‘‘۔ مارک انٹونی نے متضاد بیانیہ پیش کرکے رائے عامہ کا رخ موڑ دیا اس نے کہا ’’ بروٹس کہتا ہے کہ سیزر ہوس اقتدار رکھتا تھا اگر ایسا ہے تو میں نے3بار اسے تاجِ شاہی پیش کیا مگر اس نے انکار کردیا، اس نے جنگی اسیروں کو رہا کروایا کیا اسکی وجہ ہوسِ اقتدار تھی ؟وہ غریبوں کیلئے روتا تھا، کیا اسکی وجہ بھی ہوس اقتدار تھی؟‘‘۔مارک انٹونی کی اس جذباتی تقریر نے بروٹس کی دھوکہ پر مبنی رائے عامہ ہموار کرنے کی کوشش کو ملیامیٹ کردیا۔

جولیس سیزر کے قتل کے بعدقاتلوں کایہ کہنا کہ یہ قتل ملکی مفاد پر مبنی اورہوس اقتدار کے ملزم کو انجام تک پہنچاناتھا، صرف ایک دھوکہ تھا۔ حقیقت بقول شیکسپیئر یہ تھی کہ بروٹس خود سیزر بننا چاہتا تھا۔ رائے عامہ کو گمراہ کرنا، لوگوں کو دھوکے کا ایک بیانیہ دینا اور حقیقت سے دور رکھنا آج بھی جاری وساری ہے، دنیا بہت جدید ہوگئی ہے بہت کچھ بدل گیاہے مگر انسانوںکے جذبات،محبت، نفرت ،ہوس ،خواہش اور ارادے آج بھی نہیں بدلے۔ پاکستان میں آج بھی رائے عامہ کو گمراہ کرنے اوردھوکہ دینے کی کوششیں جاری ہیں،تحریک انصاف نے رائے عامہ کو دھوکہ دیا کہ امریکہ نے انکی حکومت کو ہٹایا اور پھر یہ توقع بھی باندھی کہ امریکہ کا صدر ہی تحریک انصاف کے خان کو جیل سے نکالےگا، پھر رائے عامہ کو دھوکہ دیا گیا کہ خان نے تو نیا اسلامی بلاک بنانےکی کوشش کی تھی مگر حقیقت یہ تھی کہ سوائے طالبان کے افغانستان کے، ایک بھی مسلمان ملک کا سربراہ ان سے اتفاق نہیں رکھتا تھا۔ پھر مسلسل رائے عامہ کو دھوکہ دیاجاتا ہے کہ فوج ہمیشہ غلط کام کرتی رہی ہےاور اسی نے خان کواقتدار سے نکالامگر حقیقت یہ ہے کہ تحریک انصاف اب بھی صرف فوج سے بات کرنا چاہتی ہے ۔ ایران کے معاملے میں بھی رائے عامہ کی گمراہی اور دھوکہ دہی جاری ہے امریکہ اور اسکے صدر یہ ثابت کرنے میں لگے رہتے ہیں کہ ایران میں سب کچھ ختم ہوچکا، دوسری طرف ایران ہزاروں افراد کی قربانی کے باوجودامریکہ پر فتح کے دعوے کررہا ہے، دونوں طرف دھوکہ ہے حقیقت یہ ہے کہ دونوں کیلئے واحد راستہ امن ہے وگرنہ امریکہ کی ساکھ مزید خراب ہوگی اور ایران میں مزید تباہی ہوگی۔ امریکہ کواس جنگ میں رائے عامہ کی حمایت نہیں مل سکی اور پاکستان میں ایران کو رائے عامہ کی اندھی حمایت حاصل ہے صدر ٹرمپ کا خیال ہوگا کہ ایران سے جنگ میں فیصلہ کن فتح حاصل ہوگی تو رائے عامہ کا پانسہ پلٹ جائیگا اور لوگ ان کو فاتح قرار دیں گے، ایران سمجھتا ہے مزاحمت جاری رہی تو امریکہ لمبی جنگ کا متحمل نہیں ہوسکتا ،دونوں غلط فہمی کا شکار ہیں۔ تحریک انصاف اور اہل سیاست چاہے ذہنی طور پرہی سہی وقتی طور پر رائے عامہ کی حمایت کھوچکے ہیں، اس وقت دفاع اور ریاست ، سیاسی بیانیوں کے دھوکے یا فریب کی بجائے زیادہ بڑی حقیقت بن چکےہیں۔

رائے عامہ کی ریاست کی پالیسیوں کی حمایت بڑی واضح ہے مگر ایسی حمایت کبھی غیر مشروط نہیں ہوتی، ریاست کی عزت اور وقارکے ساتھ ساتھ عوام کیلئے معاشی سوال بہت اہمیت کا حامل ہوتا ہے، اسی لئے تو بابا فریدؒ نے روٹی کو اسلام کا چھٹا رُکن قرار دیاتھا، کیا مشرق وسطیٰ کے بحران کےخاتمے بعد ہمارے معاشی مسائل حل ہونگے ؟ مستقبل کی رائے عامہ کا انحصار اس سوال کے جواب پر منحصر ہے۔