گزشتہ دنوں خیبر پختونخوا اسمبلی میں گداگری کے خاتمے کیلئے ایک اہم اور سخت قانون، ویگرینسی ایکٹ 2026، پیش کیا گیا ہے، جس کا مقصد پیشہ ور بھکاریوں کے خلاف مؤثر کارروائی کو قانونی بنیاد فراہم کرنا ہے۔ ایک ایسی حکومت کی جانب سے، جس کا زیادہ تر وقت احتجاج، نعرہ بازی اور سیاسی ہنگامہ آرائی میں گزرتا رہا ہے، اس نوعیت کا قانون سامنے آنا بہرحال ایک اہم پیش رفت ہے۔ اگر اس قانون کو سنجیدگی، دیانت داری اور مستقل مزاجی کے ساتھ نافذ کیا گیا تو یہ نہ صرف صوبے کے شہروں، بازاروں اور سڑکوں کو اس بڑھتے ہوئے سماجی ناسور سے نجات دلانے میں مدد دے سکتا ہے بلکہ معاشرے میں قانون، نظم اور انسانی وقار کے فروغ کا ذریعہ بھی بن سکتا ہے۔
برسوں سے گداگری ایک ایسے مسئلے کی صورت اختیار کر چکی ہے جس نے ہماری معاشرتی ساخت، شہری زندگی، عوامی تحفظ اور قومی وقار، سب کو متاثر کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسے محض ایک عارضی انتظامی مسئلہ سمجھنے کے بجائے ایک سنجیدہ سماجی، معاشی اور اخلاقی بحران کے طور پر دیکھنے کی ضرورت ہے۔
آج کسی بھی شہر، قصبے یا بازار کا جائزہ لیا جائے تو ہر طرف بھیک مانگنے والوں کی بڑی تعداد دکھائی دیتی ہے۔ ٹریفک سگنلز پر معصوم بچے گاڑیوں کے درمیان دوڑتے نظر آتے ہیں، بزرگ ہاتھ پھیلائے کھڑے ہوتے ہیں، اور عورتیں کم سن بچوں کو گود میں اٹھائے دروازوں، چوکوں اور بازاروں میں دکھائی دیتی ہیں۔ مساجد، ہسپتال، تعلیمی ادارے، بس اڈے، ریلوے اسٹیشن اور مارکیٹیں، شاید ہی کوئی جگہ ایسی ہو جہاں پیشہ ور گداگروں کے گروہ موجود نہ ہوں۔ بعض مقامات پر صورت حال اس حد تک بگڑ چکی ہے کہ شہریوں کے لیے سکون سے خریداری کرنا یا سفر کرنا بھی دشوار ہو گیا ہے۔
اس مسئلے کا سب سے تشویشناک پہلو یہ ہے کہ گداگری اب محض غربت کی علامت نہیں رہی بلکہ کئی صورتوں میں ایک منظم پیشہ اور باقاعدہ نیٹ ورک کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ عوام کے سامنے جو منظر دکھائی دیتا ہے، اس کے پیچھے اکثر استحصال، دھوکہ دہی، بچوں کا استعمال، عورتوں کی مجبوری اور بعض اوقات جرائم پیشہ عناصر کی سرپرستی بھی شامل ہوتی ہے۔ بہت سے پیشہ ور بھکاری ہمدردی حاصل کرنے کے لیے بیماری، معذوری یا بے بسی کا تاثر دیتے ہیں، جبکہ متعدد واقعات میں چوری، جیب تراشی، فراڈ، گھروں کی ریکی اور دیگر جرائم میں بھی ایسے عناصر کے ملوث ہونے کی اطلاعات سامنے آتی رہی ہیں۔ اسی لیے گداگری اب صرف ایک سماجی برائی نہیں بلکہ امن و امان اور شہری تحفظ کا مسئلہ بھی بن چکی ہے۔
اسلام محنت، خودداری اور عزتِ نفس کی تعلیم دیتا ہے۔ بلا ضرورت بھیک مانگنے کو ناپسندیدہ اور قابل مذمت عمل قرار دیا گیا ہے۔ ایک ایسا معاشرہ جہاں صحت مند اور کام کے قابل افراد محنت کے بجائے آسان ذرائع آمدن کو ترجیح دینے لگیں، دراصل اخلاقی زوال کی طرف بڑھ رہا ہوتا ہے۔ جب بچوں کو تعلیم، تربیت اور بہتر مستقبل دینے کے بجائے سڑکوں، بازاروں اور اشاروں پر بھیج دیا جائے تو یہ صرف ان کے بچپن کی تباہی نہیں بلکہ اجتماعی ضمیر پر بھی ایک سنگین سوال ہے۔ اس لیے گداگری کے خاتمے کی ہر سنجیدہ کوشش دراصل انسانی وقار کی بحالی کی کوشش ہے۔
اس مسئلے کا ایک بین الاقوامی پہلو بھی ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ بیرونِ ملک، خصوصاً سعودی عرب اور دیگر خلیجی ممالک میں پاکستانی بھکاریوں کی گرفتاریوں اور بے دخلی کے واقعات نے ملک کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ جب ایسے افراد پاکستانی شناخت کے ساتھ گداگری یا متعلقہ جرائم میں ملوث پائے جاتے ہیں تو اس کا منفی اثر صرف چند افراد تک محدود نہیں رہتا بلکہ پوری قوم کی عزت و وقار متاثر ہوتے ہیں۔ یہ صورت حال اس امر کی متقاضی ہے کہ صوبائی اور وفاقی سطح پر مربوط حکمت عملی اختیار کی جائے تاکہ ملک کے اندر بھی اس لعنت کا خاتمہ ہو اور بیرون ملک بھی ایسے عناصر کی روک تھام ممکن بنائی جا سکے۔
تاہم صرف قانون بنا دینا کافی نہیں ہوگا۔ اصل امتحان اس کے نفاذ کا ہے۔ ماضی میں بھی بہت سے اچھے قوانین اور اقدامات صرف اس لیے غیر مؤثر ہو گئے کہ ان پر مسلسل، غیر جانبدار اور منظم انداز میں عمل درآمد نہ ہو سکا۔ ویگرینسی ایکٹ 2026 کو مؤثر بنانے کے لیے ضروری ہے کہ حکومت پولیس، ضلعی انتظامیہ، سماجی بہبود کے اداروں، بلدیاتی نظام اور عدالتی ڈھانچے کے درمیان مکمل ہم آہنگی پیدا کرے۔ پیشہ ور بھکاریوں کے خلاف کارروائی ضرور ہونی چاہیے، مگر اس کے ساتھ یہ تعین بھی ناگزیر ہے کہ کون واقعی مجبور، بے سہارا اور مستحق ہے، اور کون اس نظام کو کاروبار کے طور پر چلا رہا ہے۔
یہاں فلاحی اور بحالی نظام کی اہمیت نمایاں ہو جاتی ہے۔ اگر حکومت واقعی اس مسئلے کو جڑ سے ختم کرنا چاہتی ہے تو اسے صرف گرفتاریوں اور سزاؤں تک محدود نہیں رہنا چاہیے۔ یتیم، بے سہارا، معذور، ضعیف اور معاشی طور پر تباہ حال افراد کے لیے پناہ گاہیں، بحالی مراکز، فنی تربیت، وظائف، زکوٰۃ و بیت المال کا شفاف نظام، اور بچوں کیلئے تعلیم و تحفظ کے خصوصی پروگرام ناگزیر ہیں۔ اگر ریاست ایک ہاتھ سے گداگری پر پابندی لگائے اور دوسرے ہاتھ سے ضرورت مندوں کو متبادل سہارا نہ دےتومسئلہ وقتی طور پر دب تو سکتا ہے، مگر ختم نہیں ہوگا۔
حکومت کو رمضان جیسے مواقع یا زکوٰۃ اور بے نظیر انکم سپورٹ جیسے پروگراموں کے ذریعے محض وقتی امداد فراہم کرنے کے بجائے اصل ضرورت مند افراد کی باقاعدہ نشاندہی کر کے ان کے لیے مستقل بنیادوں پر روزگار کے مواقع پیدا کرنے چاہییں۔ وقتی امداد پر مبنی نظام کا ایک نقصان یہ بھی ہے کہ بعض حقیقی مستحق افراد نظر انداز ہو جاتے ہیں، جبکہ کچھ لوگ خیرات کے عادی ہو کر محنت سے دور ہوتے چلے جاتے ہیں۔ اس لیے پائیدار حل صرف امداد نہیں بلکہ بحالی، تربیت اور باعزت روزگار ہے۔
خاص طور پر بچوں کو گداگری میں استعمال کرنے والوں کے خلاف سخت ترین کارروائی ہونی چاہیے۔ یہ صرف قانون شکنی نہیں بلکہ ایک انسانیت سوز جرم ہے۔ کم سن بچوں سے بھیک منگوانا، انہیں زخمی یا بیمار ظاہر کرنا، یا ٹریفک کے درمیان دھکیل دینا دراصل ان کی جانوں سے کھیلنے کے مترادف ہے۔ایسے عناصر کو قرار واقعی سزا ملنی چاہیے تاکہ دوسروں کیلئےبھی واضح پیغام ہو کہ ریاست اس معاملے میں کسی نرمی کی متحمل نہیں ہو سکتی۔
اس کے ساتھ ساتھ عوامی شعور کی بیداری بھی ناگزیر ہے۔ ہمارے معاشرے میں لوگ اکثر ہمدردی یا مذہبی جذبے کے تحت سڑکوں اور اشاروں پر بھیک دے دیتے ہیں، مگر وہ اس حقیقت پر غور نہیں کرتے کہ ان کا دیا ہوا چند روپیہ بسا اوقات ایک منظم مافیا کو تقویت دے رہا ہوتا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ عوام کو اس جانب راغب کیا جائے کہ وہ براہِ راست بھیک دینے کے بجائے ایسے مستند فلاحی اداروں اور منظم رفاہی نظام کا سہارا لیں جو ضرورت مند افراد کو خیرات کا عادی بنانے کے بجائے انہیں باعزت، خودمختار اور کارآمد شہری بنانے کے لیے تربیت، بحالی اور مستقل روزگار کے مواقع فراہم کرتے ہوں۔ ساتھ ہی ایسے اداروں کی سخت نگرانی بھی ناگزیر ہے تاکہ بدعنوانی کی راہ مسدود رہے اور عوام پورے اعتماد کے ساتھ ان کی مدد کر سکیں۔
اگر خیبر پختونخوا حکومت اس قانون کو منظوری کے بعد واقعی سنجیدگی سے نافذ کرے، امتیاز کے بغیر کارروائی کرے، اور ساتھ ہی بحالی و فلاح کا مضبوط نظام بھی قائم کرے، تو یہ محض ایک قانونی اقدام نہیں بلکہ ایک مثبت سماجی تبدیلی کا نقطۂ آغاز ثابت ہو سکتا ہے۔ گداگری کے خاتمے کے لیے صرف نعرے نہیں، بلکہ مستقل مزاجی، سیاسی عزم اور عملی اقدامات درکار ہیں۔ یہ قانون اگر واقعی عملی شکل اختیار کر لیتا ہے تو بلاشبہ ایک اچھا آغاز ہوگا، لیکن اس کی کامیابی کا انحصار حکومت کی نیت، ریاستی صلاحیت اور معاشرتی تعاون پر ہوگا۔ اگر یہ تینوں عناصر یکجا ہو جائیں تو بعید نہیں کہ خیبر پختونخوا کی سڑکیں، بازار، مساجد، ہسپتال اور تعلیمی ادارے اس ناسور سے پاک نظر آئیں۔

